
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات پر اہم بیان دیتے ہوئے
دعویٰ کیا ہے کہ تہران معاہدے کی جانب مائل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے،جس کے نتیجے میں پیش رفت کا امکان موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے حالیہ کارروائیوں میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی اور خطے میں طاقت کا توازن بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے ایران پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے سعودی عرب، بحرین، قطر اور کویت پر میزائل حملے کیے، تاہم اب اس کی عسکری صلاحیت کو مؤثر انداز میں محدود کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مستقبل میں بحری جنگی طاقت حاصل نہیں کر سکے گا اور امریکا اس کے خطرے کے خاتمے کیلئے سرگرم ہے۔
ایران کی داخلی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی سپریم قیادت کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ان کے بقول، “مڈنائٹ ہیمر” آپریشن کے باوجود ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں جاری رکھیں، اور اگر اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا تھا,صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں ایران کا اثر و رسوخ کمزور ہو چکا ہے اور خطہ پہلے سے زیادہ محفوظ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اب کوئی بھی ملک ایران کی جانب سے ہراسانی کا سامنا نہیں کرے گا اور استحکام کے امکانات روشن ہیں۔
ناٹو پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے اسے “کاغذی شیر” قرار دیا اور کہا کہ امریکا نے ہمیشہ اتحادیوں کا ساتھ دیا مگر مشکل وقت میں نیٹو نے واشنگٹن کی مدد نہیں کی،اس کے برعکس انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت کی قیادت کا شکریہ ادا کیا،سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اپنا قریبی دوست اور مضبوط رہنما قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے خوفزدہ نہیں اور خطے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ترکیہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انقرہ نے خود کو اس معاملے میں الگ رکھا، تاہم مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر ممالک ابراہم ایکارڈ کا حصہ بن سکتے ہیں۔پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے دوران نو طیارے تباہ ہوئے، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی مداخلت کے باعث ایک بڑی جنگ ٹل گئی اور کروڑوں جانیں بچ گئیں۔
اپنی قیادت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر وہ صدر منتخب نہ ہوتے تو امریکا سنگین بحران کا شکار ہو چکا ہوتا۔ ان کے مطابق ان کی حکومت نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے، جبکہ سابقہ حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطرناک افراد کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی۔




































