
نسرین خلیل
اے حرمِ کعبہ کا طواف کرنے والو، تمہیں مبارک ہو
اے صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے والو، سلامتی ہو تم پر
اللہ تعالیٰ تمہارا حج قبول فرمائے اور جب تم واپس لوٹو تو ربِّ کریم کی رحمتوں، برکتوں اور انعامات کے ساتھ لوٹو۔اللہ کے دربار میں حاضر ہونے سے پہلے اُن مناسکِ حج کو ضرور سیکھ لو جو نبیِ کریم ﷺ نے امت کو سکھائے۔جب احرام باندھو تو یہ احساس دل میں تازہ رکھو کہ ایک دن دنیا کا سارا مال اور شان و شوکت اسی دنیا میں چھوڑ کر جانا ہے۔اور جب احرام کھولو تو یہ سوچو کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی مزید مہلتِ عمل عطا فرمائی ہے تاکہ زندگی کو اس کی رضا کے مطابق گزارا جا سکے۔
عرفات، منیٰ اور مزدلفہ کے قیام، قربانی، سر منڈھانے اور احرام اتارنے کے ہر مرحلے میں یہ ضرور سوچنا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ایمان اور اطاعت کے کس عظیم درجے پر پہنچ کر یہ تمام مناسک ادا کیے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں “خلیلُ اللہ” کا بلند مقام عطا فرمایا۔
غزہ اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں اور مجاہدین کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھنا اور تمام اسلامی ممالک کے اتحاد، سلامتی اور سربلندی کے لیے بھی دعا کرنا۔اللہ تعالیٰ تمہارا حج قبول فرمائے، اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے اور ہمیں بھی حجِ مبرور کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔



































