
نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت کے شہر ممبئی میں میاں، بیوی اور دو کمسن بچیوں کی پراسرار ہلاکت کے واقعے کی اصل وجہ سامنے آگئی،
فرانزک رپورٹ نے معاملے کا رخ بدل دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ 45 سالہ عبداللہ عبدالقادر، ان کی اہلیہ نسرین، 16 سالہ بیٹی عائشہ اور 13 سالہ زینب نے رات کے کھانے میں بریانی کھائی جبکہ بعد ازاں تربوز بھی استعمال کیا۔ چند گھنٹوں بعد چاروں کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی اور انہیں شدید قے کی شکایت ہونے لگی۔
ابتدائی طبی امداد کے باوجود حالت بگڑنے پر خاندان کے افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
ابتدائی طور پر واقعے کو فوڈ پوائزننگ قرار دیا جارہا تھا، لیکن فرانزک تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ہلاکتیں چوہے مار زہر کے باعث ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق لاشوں اور تربوز کے نمونوں میں زنک فاسفائٹ نامی خطرناک زہریلا کیمیکل پایا گیا، جو عام طور پر چوہے مار ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔
پوسٹ مارٹم کے دوران ڈاکٹروں نے متاثرہ افراد کے اندرونی اعضا میں سبز رنگت دیکھی، جسے زہر خورانی کی اہم علامت قرار دیا گیا۔
تفتیشی حکام اب اس پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں کہ زہر حادثاتی طور پر تربوز میں شامل ہوا یا کسی نے جان بوجھ کر اسے خوراک میں ملایا تھا۔



































