
عائشہ بی
اچھی کتاب اچھی ساتھی ہوتی ہے ۔ کتاب اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے
انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء پر کتابیں نازل کیں، قلم کتاب پڑھنا لکھنا یہ سب دین کا حصہ ہے۔
کتابیں معلومات کا خزانہ اور حصول علم کا بہترین ذریعہ ہیں، کتاب کے ساتھ رشتہ انسان کے ذہن کو وسعت، دل کو نرمی اور روح کو تازگی عطا کرتا ہے۔ کتابوں کے بغیر انسان علم حاصل کرنا مشکل ہے۔۔۔۔ کتاب خاموش استاد ہوتی ہے مگر اس کا لفظ لفظ اجالا ہےاور جن میں علم کا بہتا سمندر موجزن ہوتا ہےان کے اندر مشاہدات تجزیات وتجربات کی روشنی میں اخذ شدہ قیمتی معلومات کا خزانہ ہوتا ہے ، ان میں زندگی کے بے شمار راز پوشیدہ ہوتے ہیں۔
اگر ہم اچھی کتاب کو دوست و ساتھی بنائیں تو یہ دوست تنہائی کی بہترین ساتھی ہے مشکل میں حوصلہ اور مسائل کا حل ثابت ہو سکتی ہے ، کتابیں اداسی میں حوصلہ بڑھاتی ہیں اور الجھنوں کو سلجھاتی ہیں ،رہنمائی کرتی ہیں۔ یہ گویا انسان کو روح کو غذا فراہم کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہیں ۔ کتابیں ہمیں مختلف زمانوں کی تہذیبوں کے نظریات اور حالات سے روشناس کراتی ہیں۔ کتابوں کے ذریعے انسان کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ کتاب سے ہمیں ایک دوسرے کے تجربات بھی استفادہ کرنے کاموقع مل سکتا ہے، یہ ہماری سوچ کو بھی جِلا بخشتی ہیں۔
ایک اچھی کتاب انسان کے خیالات میں انقلاب برپا کر سکتی ہے، اس کے خوابوں کو ایک نئی جہت دے سکتی ہے اور اسے زندگی کے لیے نئی راستے دکھا سکتی ہے۔کتابوں سے محبت انسان کو دراصل علم، شعور اور ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے جو قومیں کتابوں سے رشتہ مضبوط رکھتی ہیں، وہی علم و ہنر کی بلندیوں کو چھوتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی مطالعے کی عادت اپنائیں اور اپنی نئی نسل کو بھی کتابوں کا دوست بنائیں، تاکہ وہ علم کی روشنی سے اپنی زندگی کو منور کر سکیں۔
آج کل لوگوں میں کتابیں پڑھنے کے رحجان بہت کم ہوتا جا رہا ہے ۔ البتہ ایک بات اچھی ہے کہ یہ ڈیجیٹل صدی ہے تو ہمیں اس میں ڈیجیٹل کتب بھی مل جاتی ہیں ۔۔۔ پہلے بچے بھی کہانیاں پڑھنے میں مصروف رہتے تھے اور دلچسپی رکھتے تھے ۔۔۔ اب تو ہر جگہ بچے موبائل فون میں مصروف نظر آتے ہیں۔
کتابیں واقعی انسان کی ایسی دوست ہیں جو کبھی دھوکا نہیں دیتیں، کبھی ساتھ نہیں چھوڑتیں اور ہر بار کچھ نیا سکھا کر انسان کو پہلے سے بہتر بنا دیتی ہیں۔ یہ انسان کو علم اور تہذیب کی بہترین دولتِ فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ ہمیں بھی کتابوں کو اپنے دوست بنانے کی ضرورت ہے۔۔بچوں کو بھی کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالیں۔۔۔ موبائل فون سے دور رکھنے کے لیے بچوں کو بٹھا کر دلچسپ کہانیاں پڑھ کر سنائیں۔۔۔۔ آہستہ آہستہ بچوں کو بھی عادت ہوجائے گی۔۔۔ ان شاءاللہ
عائشہ بی




































