
عائشہ بی
جب سے ننھے ابراہیم کی گٹر میں گر کر ہلاکت کی خبر سنی ہے دل پریشان اور دکھی ہے،کراچی جیسے بڑے شہر میں معصوم
بچوں کا گٹروں، مین ہولز یا کھلے نالوں میں گر کر چلے جانا ایسا المیہ ہے جو صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پوری سوسائٹی کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
کیوں ہوتا ہے ایسا؟
مین ہولز کے ڈھکن غائب یا ٹوٹے ہوتے ہیں، کراچی جیسے بڑے شہر میں اس طرح کے حادثات دراصل حکمرانوں کی غفلت کے نتیجہ ہے۔۔۔
کراچی میں سیوریج لائنوں کی مرمت کے اقدامات نہیں کیے جاتے۔ اتنے بڑے گنجان آباد شہر کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔۔۔۔ آخر کیوں....؟
اندھیری نگری چوپٹ راج ہے۔سندھ حکومت نے کراچی شہر کو ہر حق سے محروم کر رکھا ہے، شہر بھر میں کھلے گٹر،گڑھے کسی نہ کسی کی موت کا سبب بن جاتے ہیں۔۔۔۔
متعلقہ اداروں کی غفلت اور عدم توجہ کی وجہ سے شہر لاوارث محسوس ہوتا ہے۔۔۔کراچی شہر کی سب سے بڑی بد نصیبی یہ ہے کہ ملک کا سب سے زیادہ کماؤ پوت شہر ہوتے ہوئے بھی اپنے حق سے محروم ہے ،اس پر قابض مقتدر قوتیں اس کے ساتھ سوتیلی ماں سے بھی بد تر سلوک کررہی ہیں، سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کرتا دھرتا میئر کراچی کی غفلت کے باعث " نہ جانے کتنی ماؤں کے گود یں اجڑ جاتی ہیں ، نہ جانے کتنے باپوں کی زندگی بھر کی امید اور محنت سے جلتے روشن چراغ بجھ جاتے ہیں۔۔۔۔
ایک گھر انے کی خوشیاں ختم ہو جاتی ہیں اور زندگی آنسوؤں اورسکیوں میں گزرنے لگتی ہے جاتی ہے۔۔۔ کراچی شہر اپنوں ہی کی لاپروائی کا بوجھ اٹھائے خاموش کھڑا رہتا ہے۔
روشنیوں کے شہر کراچی کو کچرا کنڈی بنادیا گیا ہے، سڑکیں کھنڈرات میں بدل دی گئی ہیں ، ہر جگہ گٹروں کا پانی بہہ کر جھیل بن چکا ہے۔۔۔۔
کراچی کا میئر کہاں چھپا ہوا ہے....؟ کراچی کو تعمیر کرنے والے بہت ہیں۔۔۔میئر اب بہت دیر ہو گئی ہے۔۔۔استعفیٰ دواور اپنے گھر جاکر آرام کرو۔۔۔





































