
تہران ( ویب ڈیسک ) ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں میں امارات کے خلاف کسی قسم کی
فوجی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، انہوں نے اماراتی وزارتِ دفاع کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض پروپیگنڈا قرار دیا۔
بیان میں متحدہ عرب امارات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے اسے اپنی سرزمین کو امریکی اور صہیونی افواج اور ان کے فوجی سازوسامان کے لیے استعمال ہونے سے روکنا چاہیے،ایرانی فوج کے مطابق اماراتی حکام کی جانب سے پھیلائی جانے والی ایسی رپورٹس خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں اور مسائل کے حل میں معاون ثابت نہیں ہوتیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران اب تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے تاکہ خطے میں مسلمانوں کے مفادات متاثر نہ ہوں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امارات کی سرزمین سے ایران کے جزائر، بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات بتدریج امریکی اور صہیونی فوجی موجودگی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے،واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خلیجی خطے کی سیکیورٹی اور فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے تاہم دونوں ممالک تاحال براہِ راست تصادم سے گریز کرتے آئے ہیں۔














