
نگہت فرمان
میں ایک مزدور ،ہوں ان لاکھوں لوگوں میں سے ایک جنہیں نام سے نہیں، کام سے پہچانا جاتا ہے۔
صبح کی اذان کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ نیند پوری ہو یا نہ ہو، اٹھنا ہی پڑتا ہےکیوں کہ چولہا نا خواب سے جلتا ہے نا آرام سے ۔ہاتھ منہ دھو کر، سوکھی روٹی پانی یانصیب ہو جائے تو چائے کی پیالی کے ساتھ ہی کر میں اپنے اوزار اٹھاتا ہوں اور نکل پڑتا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ آج کا دن شاید کل سے بہتر ہوگا۔
میرے نام پر ہر سال ایک عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن تقاریر ہوتی ہیں، اخبارات میں مضامین چھپتے ہیں اور سوشل میڈیا پر میرے حق میں نعرے لگتے ہیں مگر سچ پوچھیں تو اس دن بھی میں وہی کرتا ہوں جو ہر دن کرتا ہوں محنت کیوں کہ اگر میں اس دن کام نہ کروں، تو میرے بچوں کے پیٹ میں روٹی نہیں جائے گی۔
میرے لیے وہ دن کوئی جشن نہیں، ایک عام دن کی طرح ہی گزرتا ہےبلکہ کبھی کبھی زیادہ کٹھن، کیوں کہ اس دن کام بھی کم ملتا ہے۔
مجھے اکثر یہ سوچ ستاتی ہے کہ جس دین میں مجھے اتنی عزت دی گئی، اسی کے ماننے والے معاشرے میں میری قدر کیوں نہیں؟
اسلام تو یہ سکھاتا ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو اور یہ کہ محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے، اور حلال رزق کمانا عبادت ہے۔لیکن حقیقت… حقیقت کچھ اور ہی ہے۔
میں نے کئی بار دن بھر اینٹیں اٹھائیں، دیواریں بنائیں، چھتیں ڈالیں مگر شام کو جب اجرت لینے گیا تو کبھی بہانے ملے، کبھی ٹال مٹول اور کبھی آدھی مزدوری۔کبھی تو یوں بھی ہوا کہ کئی دن کی محنت کے بعد مالک غائب ہوگیااور میری محنت، میری امیدیں، سب خاک میں مل گئیں۔اکثر تو لوگوں کا رویہ تحقیر آمیز ہوتا ہے جو میرے دل کو چیر کر رکھ دیتا ہے لیکن میں کچھ کہہ نہیں سکتا کیوں کہ میں ایک مزدور ہوں کہنے کا حق تو شاید بس امیروں کو ہے ۔
میں ہنر مند بھی ہوں۔ میرے ہاتھوں میں فن ہے۔ میں لکڑی کو خوب صورت فرنیچر میں بدل سکتا ہوں، لوہے کو شکل دے سکتا ہوں، اینٹوں کو گھر بنا سکتا ہوں۔لیکن افسوس… میرے ہنر کی قیمت وہ نہیں جو ہونی چاہیے۔میرے بنائے ہوئے سامان کو نہایت کم قیمت اور بعض اوقات تو کوڑیوں کے دام خریدا جاتا ہے اور پھر بازار میں کئی گنا مہنگا بیچا جاتا ہے۔
میں سوچتا ہوں کیا میرا ہنر صرف دوسروں کے نفع کے لیے ہے؟
کیا میری محنت کی کوئی اصل قیمت نہیں؟
قوانین کی بات کی جائے تو کاغذوں میں سب کچھ موجود ہے,حقوق بھی لکھے ہیں، اصول بھی درج ہیں ۔
مگر عملی زندگی میں؟
وہ سب کہیں نظر نہیں آتا
میں نے کئی بار آواز اٹھانے کی کوشش کی، مگر ہر بار مجھے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا گیا کہ “اگر تم نہیں کرو گے تو اور بہت ہیں کرنے والے”۔یہ جملہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے کہ اس میں میری مجبوری کا مذاق اڑایا جاتا میری بے بسی کا تماشہ دیکھا جاتا ہے ۔
پھر بھی میں کام کرتا ہوں
کیونکہ میں ہار نہیں مان سکتا
میرے بچوں کو روٹی مل جاتی ہے تو میری تھکن مٹ جاتی ہے اور ان کی بھوک مجھے ہر دن دوبارہ کھڑا کر دیتی ہے۔میں مزدور ہوں۔۔۔میری کہانی نئی نہیں مگر سچی اور درد میں ڈوبی ہے ۔میرے دکھ انوکھے نہیں مگر زخم گہرے ہیں اور رستے رہتے ہیں ۔کل پھر زور و شور سے میرے نام کا دن منایا جائے گا عام تعطیل ہوگی ۔اس دن کچھ لوگ سیر و تفریح کریں گے،کچھ گھروں میں رہ کر چھٹی کا مزہ لیں گے اور کچھ رشتے داروں کے ساتھ وقت گزاریں گے لیکن میں ؟ میں کام کی تلاش میں کسی چوراہے یا کسی فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوں گا۔
میں سوچتا ہوں کاش وہ دن آئے جب میرے نام پر منایا جانے والا دن واقعی میرے لیے خوشی کا باعث بنے،جب میرے حقوق صرف تقاریر ،مضامین اور کتابوں میں نہیں حقیقت میں بھی نظر آئیں اور جب میری محنت ،میرے کام کو وہ عزت ملے، مجھے معاشرے میں وہ مقام ملے جو اسلام نے حلال روزی کمانے والے کو دیا ہے ۔




































