
عائشہ بی
اسلامی تاریخ کا پہلا اور اہم معرکہ غزوہ بدر ہے۔۔۔۔یہ کفر و اسلام کی پہلی جنگ تھی جو نبی کریم ﷺ کی سربراہی میں لڑی گئی جس میں مسلمانوں کی مدد و
نصرت کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتے اتارے تھے، محض تین سو تیرہ مسلمانوں کے گروہ نے کفار کے ایک ہزار کے لشکر کو شکست دی اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے عظیم فتح حاصل ہوئی۔ الحمد للہ
غزوہ بدر17 رمضان المبارک، 2 ہجری کو مدینہ منورہ کے قریب بدر کے مقام پر لڑی گئی تھی ۔ بدر مدینہ سے تقریباً 130 کلومیٹر دور پر واقع ہے..... جہاں پر اس وقت پانی کے کنویں تھے۔مسلمانوں کے تعداد 313 تھی۔ کفارِ مکہ کے پاس تقریباً 1000 کا لشکر تھا۔ نیز مسلمانوں کے پاس بہت ہی کم ہتھیار اور سواریاں تھیں جبکہ دشمن کے پاس بےشمار طاقتور جنگی سازو سامان مثلاً سواریاں اور اسلحہ و ہتھیار سامان بھی موجود تھا۔
اس جنگ میں کچھ جلیل القدر صحابہؓ شریک ہوئے تھے ۔ حضرت محمد ﷺ خود بھی شریک تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت
علیؓ، حضرت حمزہ بھی شامل تھے۔جنگ کے آغاز میں عربوں کی روایت کے مطابق مقابلۂ فرداً فرداً ہوا۔ مسلمانوں کی طرف سے حضرت علیؓ، حضرت حمزہؓ اور حضرت عبیدہؓ نے کفار کے بڑے سرداروں کو مقابلے میں شکست دی۔
اللہ کی مددقرآنِ مجید میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے لیے فرشتے بھیجے۔ اس طرح کم تعداد کے باوجود مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔
کفار کے تقریباً 70 افراد قتل ہوئے۔70 قیدی بنائے گئے۔مسلمانوں کے 14 صحابہؓ شہید ہوئے۔
غزوۂ بدر کی اہمیت
غزوۂ بدر نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کیے اور اسلام کو مضبوطی ملی۔ اسی وجہ سے اس جنگ کو "یوم الفرقان " بھی کہا جاتا ہے، یعنی حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فتح کا فیصلہ تعداد سے نہیں بلکہ ایمان کی قوت ، صبر اور اللہ رب العالمین کی مدد اور نصرت سے ہوتاہے، اگر دل میں یقین ہو تو تھوڑے سے لوگ دشمن یا مخالف فریق کا رخ موڑ نے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اللہ پاک کی طاقت پر پورا یقین اور بھروسہ ہو تو کامیابی قدم چومتی ہے ۔۔ مجاہدین اگر سرپر کفن باندھ کر نکلتے ہیں تو وہ بدر کے مجاہدین کی طرح تاریخ کادھارا موڑا جاسکتا ہے۔
"فضائے بدر پیدا کر
فرشتے تیرے نصرت کو
اترسکتے ہیں گردوں سے
قطار اندر قطار اب بھی
( مولانا ظفر علی خان)





































