
کراچی( نمائندہ رنگ نو )مسلم ریاست کے لیے جو واضح اسلامی اصول ہیں اُن میں سب سے اہم یہ ہے کہ اُس کے پڑوسی اُس سے محفوظ ہوں، تاہم
ریاست دفاعی بنیادوں پر اتنی مضبوط ہو کہ دوسروں کی حملہ کرنے کی جرأت نہ ہو۔ اس کو آج کے زمانے میں ڈیٹرنس کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید مسلمانوں کو قوت و تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت دیتا ہے تاکہ دشمن پر ہیبت قائم رہے۔ان خیالات کا اظہار معروف مصنفہ اور تاریخ دان پروفیسر ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر نے کیا۔
وہ گزشتہ روز ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں منعقدہ ہمدرد شوریٰ کراچی کے اجلاس سےبہ حیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہی تھیں۔اجلاس کی صدارت سابق گورنر سندھ اسپیکر جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کی۔ اجلاس کا موضوع ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کا منتخب کردہ ’’اسلام امن اور محبت کا مذہب ‘‘ تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر نے کہاکہ اسلام امن، محبت اور سلامتی کا دین ہے، جس کی بنیاد انسانی فلاح اور باہمی احترام پر قائم ہے۔ لفظ اسلام خود سلامتی سے ماخوذ ہے اورایمان بھی امن و اطمینان کے مفہوم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ محض لسانی بحث نہیں بلکہ ایک مکمل فکری و اخلاقی بیانیہ ہے، جو فرد اور معاشرے دونوں کی تشکیل کرتا ہے۔ قرآن و حدیث اور اسلامی تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ اسلام رواداری، عدل اور حسنِ سلوک کا علمبردار ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک مسلمان ریاست کی خارجہ پالیسی کا اولین اصول یہ ہونا چاہیے کہ وہ دنیا کے لیے امن اور سلامتی کی علامت ہو، خواہ معاملہ مسلمان ممالک سے ہو یا غیر مسلم اقوام سے۔ تاہم اگر کوئی فریق جارحیت اختیار کرے اور امن سے رہنے پر آمادہ نہ ہو تو دفاع کی تیاری ناگزیر ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید (سورۃ الانفال) میں اسی اصول کے تحت قوت کی تیاری کی ہدایت بھی دی گئی ہے، تاکہ دشمن کو جارحیت سے روکا جا سکے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر مخالف صلح کی طرف مائل ہو تو امن کو فوراً قبول کیا جائے۔اسلام نے جنگ کے تصور کو بھی ایک متوازن اور اخلاقی بنیاد فراہم کی ہے۔ جنگ کو کسی طور مطلوب یا پسندیدہ عمل قرار نہیں دیا گیا بلکہ اسے ایک ناگزیر مصیبت سمجھا گیا ہے، جس سے حتی الامکان بچنا چاہیے۔ صرف اس صورت میں اس کی اجازت دی گئی ہے جب ظلم، فساد اور ناانصافی حد سے بڑھ جائے اور امن کے تمام راستے مسدود ہو جائیں۔ حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دشمن سے ٹکراؤ کی خواہش سے منع فرمایا اور صبر و تحمل کی تلقین کی۔اسلامی فلسفۂ جنگ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں قوت کے استعمال کو محدود رکھا گیا ہے۔ صرف اتنی ہی طاقت استعمال کرنے کی اجازت ہے جتنی دفعِ شر کے لیے ضروری ہو، اور کارروائی صرف انہی افراد تک محدود رکھی جائے جو عملاً جنگ میں شریک ہوں۔
انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں، عورتوں، بچوں، عبادت گاہوں، اہلِ علم اور معاشرتی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا صریحاً ممنوع ہے۔اس کے برعکس، آج کی دنیا میں جنگ کا جو نقشہ ابھر کر سامنے آتا ہے، اس میں بالخصوص اسرائیل کی جانب سے شہری آبادیوں، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنانا ایک عام امر بنتا جا رہا ہے، جو انسانی اقدار کے سراسر منافی ہے۔ اسلام اور اسلاف کی تعلیمات اس طرزِ عمل کی سختی سے نفی کرتی ہیں اور جنگ میں بھی اخلاق، عدل اور انسانیت کے دائرے کو برقرار رکھنے پر زور دیتی ہیں۔یوں اسلام کا تصورِ جنگ تباہی، انتقام یا غلبہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ امن کے قیام، ظلم کے خاتمے اور انسانی وقار کے تحفظ کا ایک محدود اور اصولی راستہ ہے۔ اصل مقصد ہمیشہ صلح، توازن اور ایک پُرامن عالمی معاشرے کا قیام ہے۔
بریگیڈیئر (ر) طارق خلیل نے کہا کہ نئی نسل عملی طور پر اسلامی اقدار سے دور ہورہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں اخلاقی تربیت، تاریخ اور زبان کی تعلیم کو نظرانداز کر دیا گیا ہے، جس کے باعث طلبہ اپنی تہذیبی اور فکری بنیادوں سے الگ ہوتے جا رہے ہیں۔ تعلیمی نظام میں ایسی اصلاحات کی جائیں جو نئی نسل کو اپنی تاریخ، اقدار اور اسلامی تہذیبی شناخت سے جوڑ سکیں، تاکہ ایک متوازن، باوقار اور ہم آہنگ معاشرہ تشکیل پا سکے۔
ڈاکٹر امجد جعفری نے کہااکثر لوگ اسلام کی تعلیمات کو نہ صحیح طور پر سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنی عملی زندگی میں پوری طرح اختیار کرتے ہیں۔ نتیجتاً امن، محبت اور رواداری کا وہ پیغام، جو اسلام کی اصل روح ہے، معاشرے میں نمایاں نہیں ہو پاتا اور معمولی اختلافات بھی نزاع کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔قرآنِ مجید بارہا اس امر کی تلقین کرتا ہے کہ انسان اپنے والدین، رشتہ داروں، یتیموں اور دیگر افراد کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرے، نیکی میں ایک دوسرے سے سبقت لے اور تمام انسانوں کے ساتھ عدل و احسان کا رویہ اپنائے۔ اسی طرح مومنین کو باہم بھائی چارے اور انکساری کے ساتھ زندگی گزارنے کی ہدایت دی گئی ہے۔بدقسمتی سے ہم قرآن کو محض ثواب کے لیے پڑھتے ہیں، مگر اس کی عملی ہدایات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اگر ہم ایک پُرامن اور محبت بھرا معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو محض الفاظ تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنے کردار اور اجتماعی رویّوں میں حقیقی طور پر نافذ کریں۔
اجلاس میں جنرل (ر) معین الدین حیدر ،سینیٹر عبدالحسیب خان، کموڈور(ر)سدید انور ملک، انجینئر ابن الحسن، پروفیسر ڈاکٹر عامر طاسین، بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر ریاض الحق اور ڈپٹی اسپیکر شوریٰ کرنل (ر) مختار احمد بٹ نے بھی اظہار خیال کیا۔




































