
عائشہ عبدالواسع
زندگی کا وہ لمحہ میں کبھی بھول نہیں سکتی ہوں ،جب میں بیمار تھی اور الخدمت اسپتال جا رہی تھی۔ راستے میں چند نوجوان درمیان راستے میں اپنی گائے کو
نہلا رہے تھے اور اس طرح نہلا رہے تھے کہ اہم راستہ جو ہسپتال جاتا تھا وہ تقریبا بند ہو چکا تھا ۔ میں ان کے پاس ان کو سمجھانے کے لیے گئی اور یہ سوچ کر گئی کہ یہ نوجوان باشعور ہیں اور وہ میری بات بہت غور سے سن کر گائے کو نہلانے کا راستہ بدل دیں گے مگر یہ کیا؟ میں ان کے درمیان گھر گئی اور اس طرح گھر گئی کہ وہ مجھے اس بات پر قائل کروانے کے لیے تلے تھے کہ آپ نے قربانی کے جانوروں کی بے حرمتی کی ہے، یعنی مجھے یوں احساس ہوا کہ ارے یہ تو ان کی گائے ماتا ہے۔
افسوس کا لمحہ ہے ، جگہ جگہ راستے مکمل طور پر بند کر دیے ہیں۔ جانوروں کی نمود و نمائش زور و شور سے جاری ہے ۔گندگی انتہائی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ کیا یہ حدیث ان نوجوان نسل کو نہیں پتا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ اذان ہو رہی ہے مگر کہاں کی اذان اگر نماز کے لیے جائیں تو جانوروں کی حفاظت کون کرے گا ۔ اے نوجوانوں آپ کے کپڑے صاف ہوں، آپ کی جگہ صاف ہو اور آپ باوضو ہوں تو اسی جگہ پر آپ نماز ادا کر سکتے ہیں مگر نماز کسی صورت میں معاف نہیں ۔
قربانی کیا صرف جانوروں کی قربانی ہے، اللہ کو تو آپ کا خون اور گوشت نہیں پہنچتا بلکہ آپ کا تقویٰ پہنچتا ہے اور تقوی ٰ کیا ہے ؟قربانی کیا ہے؟ اپنے جان و مال نفس اپنی خواہشات اور ہر وہ چیز جو مجھے عزیز ہے اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو صحیح فلسفہ قربانی سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے( آمین )کیونکہ قرآن بھی ہمیں یہی پیغام دے رہا ہے:"! کہو میری نماز میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا ،اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں " (سورہ انعام آیت نمبر 62 ا)۔



































