
افروزعنایت
بیٹا تمہیں اسکول میں ملازمت مل گئی ہے لیکن یہ بہت اہم شعبہ ہے علم دینا اور لینا نبیوں کا شیوہ ہے ،ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ نے
معلم انسانیت کا درجہ عطا فرمایا جس کے ذریعے دور جاہلیت میں اسلام کی شمع روشن ہوئی ۔ــ
بابا ، آپ کے اپنے کوئی استاد یاد ہیں جن سے آپ بہت متاثر ہوئے؟
ہاں بیٹا ، ویسے تو سارے استاد شفیق تھے لیکن استاد راشد بہترین استاد تھے ،اٹھویں جماعت میں ہمیں انگریزی مشکل لگتی تھی ،یہ بات انہوں نے خود بھی نوٹ کی ـ۔ اس لئے شام کو اسکول کے قریب سڑک کے کنارے اسٹریٹ لائٹس کی روشنی میں انگریزی نہیں بلکہ باقی مضامین بھی بغیر فیس کے پڑھاتے اور والدین کی طرح شاگردوں کو نصیحتیں بھی کرتے رہتے تھے۔ ـ
بابا آپ کے استاد تو عظیم انسان تھے۔۔ ــ
ہاں بیٹا استاد کی عظمت کا مقام ہی یہ ہے کہ وہ شاگردوں کو اپنی اولاد کی طرح اہمیت دیں اور ان کی تربیت بھی کریں۔ ـ
بیٹا آپ بھی اس بات کو اہمیت دیجئے گا۔ ـ
زینب نے بابا کی نصیحت کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے شروع کر دئیے ـــ۔
میڈم آپ سے ایک چیز کی اجازت چاہتی ہوں ـ۔
ہاں ہاں بولیں زینب کوئی مسئلہ ـ؟
میڈم جماعت ہشتم کے کچھ بچے میرے مضمون میں بہت کمزور ہیں، اگر اجازت ہو تو فری پیریڈ میں انہیں لائبریری میں بٹھا کر پڑھا سکتی ہوں ۔ ــ
میڈم نے حیرانی سے زینب کو دیکھا ،کیا آپ انہیں وقت دے سکو گی ،تمہارا کام بڑھ جائے گا ۔ ــ
یقیناً میڈم میں یہ کر سکتی ہوں کیونکہ ان میں کُچھ بچے ایسے بھی ہیں جو ٹیوشن کے پیسے نہیں دے سکتے، اس طرح ان کی مدد بھی ہو جائے گی ـــ
زینب کے اس فعل سے میڈم کے دل میں اس کی عزت بڑھ گئی لیکن کچھ ٹیچرز نے اعتراض بھی کیا ـ۔ـ
جن بچوں کو زینب نے زائد وقت دینا شروع کیا ان کا سالانہ امتحان میں بہترین رزلٹ دیکھ کر سب کو تعجب ہوا ـ لہٰذا زینب کو بہترین ٹیچر کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
ـــ
زینب نے یہ خوشخبری بابا کو بھی سنائی۔۔۔۔ ــ
بابا بھی بہت خوش ہوئے اور تاکید کی کہ آئندہ بھی اس کام کو اسی طرح ایمانداری سے انجام دیتی رہنا ــ۔



































