
افروز عنایت
ماؤں کی دعاؤں کو ٹھنڈی چھاؤں کہا گیا ہے جس میں کوئی شک نہیں ، ـــ آج تک جتنے بھی کامیاب
اور خوش قسمت لوگوں کی زندگی کے بارے میں حالات اور واقعات پڑھنے کا موقع ملا ہے، ان میں اکثریت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی کامیابی میں ان کے والدین خصوصاً والدہ کی دعاؤں اور محنت کا بڑا حصہ شامل رہا ہے۔
ماں کو اولاد کے لئے پہلی درس گاہ کہا گیا ہے اس درس گاہ کی ہر ایک کے لیے بڑی اہمیت اور فضیلت ہے اور آگے جا کر انسان کی شخصیت میں اس درسگاہ کے اثرات یقیناً نظر آتے ہیں --- اسی لئے اس کی خدمت عزت اور احترام کا حکم بلکہ تاکید فرمائی گئی ہےجس کا اجر وثواب بھی بے حد ہے ـــ۔" جنت ماں کے قدموں تلے ہے" اس جملے کی گہرائی میں ماں کی اہمیت پوشیدہ ہے۔ بیشک ہمارے آس پاس جتنے بھی رشتے ہیں، سب اہم ،قابل عزت اور معتبر ہیں مگر ماں تیرے جیسا کوئی نہیں، ــ ہر عمر کے افراد کے لئے ماں کی اہمیت افضل و برتر ہے۔
ــ
ہر ایک کے دل کی آواز ہے کہ ماں تیری کوکھ میں بھی مجھے راحت حاصل تھی اور تو ناتواں نو مہینے میرا بوجھ اٹھائے ہر کام میں مصروف ہوتی پھر بھی خوشی و مسرت تیرے چہرے پر عیاں ہوتی ۔اگرچہ میری پیدائش پر ہر ایک نے خوشی کا اظہار کیا ہوگا لیکن صرف تیری گود ہی میرے لیے باعث تسکین آرام تھی اور میرے رب کا بڑا انعام تھی راتوں کو جاگ کر مجھے سینے سے لگائے اونگھتی رہتی تھی کہ کہیں میں بے آرام نہ ہو جاؤں ــ۔
میری عمر کے ماہ و سال بڑھتے گئے, ساتھ ساتھ تیری ذمہ داریاں بھی بڑھتی گئیں ،اگرچہ میں تیری اکلوتی اولاد تو نہ تھی مگر تیری ٹھنڈی چھاؤں تو میرے سب بہن بھائیوں کے لیے یکساں تھی ــ ،تو کسی سے بھی بے خبر و بے پرواہ نہ تھی پھر بھی یوں محسوس ہوتا کہ تیری چاہت سب سے بڑھ کر مجھ سے تھی ــ گویا میں ہی تیری نور نظر تھی جبکہ سب بہن بھائیوں کا یہی خیال تھا۔
ـ
آج جب میرے رب نے مجھے ماں بننے کا اعزاز عطا کیا ہے تو تیری قدر و منزلت میرے دل میں مزید بڑھ گئی کہ تونے کن کن مشکلات سے گزر کر ہماری تعلیم و تربیت کی منزلیں طے کروائی ہوں گی۔ تجھے کن کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہوگا ـــ گرچہ آج جب تو اس جہاں میں نہیں ہے پر تیری دعائیں میرے ساتھ ہیں اور میرا یقین ہے کہ اللہ رب العزت نے مجھے ان ہی دعاؤں کی بدولت کبھی گرنے نہیں دیا، ـ آج بھی یہ دعائیں ہی میرے لئے ٹھنڈی چھاؤں اور سہارا ہیں ــ۔
سب ماؤں کی عظمت کو سلام



































