
نجم السحر
کل سے سوشل میڈیا پرایک خاتون کی ویڈیو وائرل ہے جو پولیس اہلکاروں کے جلوس میں بڑی شان و
تفاخر سے چلتی ہوئی تھانے میں جارہی ہے۔
کیا ہوگیا ہے ،اس قوم کے اخلاق کو۔۔۔؟؟؟
بدکار اور فاحشہ عورتوں کو آرٹسٹ کا نام دے کر اپنی بچیوں کے لئے رول ماڈل تو بنا ہی رہے تھے۔
مگر اب۔۔۔۔۔
اپنے بچوں کو زہر فروخت کرنے والی عورت کو دوسری گریسیلڈا بلانکو بنا کر "کوکین کوئین" کا نام دے رہے ہیں۔ اس کی کہانی کو سنسنی خیز بناکر نیٹ فلکس سیریز بنانے کے مشورے دے رہے ہیں؟گزشتہ دنوں پاکستان کی سب سے بڑی منشیات کی ڈیلر انمول عرف پنکی کی کراچی سے گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر عجیب تماشا لگا ہے۔ کراچی لاہور کے اسکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات کی فروخت کا مضبوط نیٹ ورک قائم کرنے والی اور لاکھوں نوجوانوں کو منشیات کی لت لگانے والی اس سفاک عورت کو اس وقت ایک فلمی "ڈان" کی طرح گلیمرائز کیا جارہا ہے۔
سینکڑوں نوجوانوں کی موت کی ذمہ دار اس مجرمہ کے لئے قانون بھی اس وقت حرکت میں آیا جب خفیہ ایجنسی کے ایک بڑے افسر کا بیٹا کوکین کی اوورڈوز کا شکار ہوکر موت کے منہ میں گیاجوعورت اپنے منہ سے کہہ رہی ہے "میں نے پورے کراچی میں اندھیر ڈال رکھا ہے، جو کرنا ہے کرلو۔ تم لوگ مر کر بھی اٹھ جاؤ تو مجھے نہیں پکڑ سکتے" اس عورت کا سوشل میڈیا سینسیشن بن جانا ہمارے قومی اخلاق کے بدترین زوال کی نشاندہی کر رہا ہے۔
یہاں انمول پنکی تو لعنت ملامت اور سزا کی مستحق ہے ہی مگر اس سے بھی بڑے مجرم وہ انتہائی جاہل لوگ ہیں جو اپنے بچوں کی قاتل کو ایک ہیرو بناکر سوشل میڈیا پر پیش کر رہے ہیں۔
خدا کے لئے جاگ جائیں۔۔۔۔۔
انڈین فلموں کے زیر اثر ان قاتلوں ، چور، ڈاکوؤں کو آئیڈیلائز کرنا بند کریں۔ ورنہ ہماری اگلی نسل کے لئے عزت و مرتبے کا معیار صرف اور صرف دولت رہ جائے گی ۔ وہ پیسہ کمانے کے لئے حرام و حلال کے تصور سے بالکل آزاد ہوجائیں گے۔ یہ تحریر پڑھنے والے والدین اپنے بچوں کو بتائیں کہ منشیات کا پیسہ صریحاً حرام ہے۔ اس دنیا میں شاید آپ قانون کو ہاتھ میں لے سکتے ہیں مگر اللہ کا قانون کوئی نہیں بدل سکتا۔آخر میں جین زی یعنی ہماری نئی نسل بھی خاص طور پر سن لے کہ انمول عرف پنکی جیسے موت اور ہلاکت کا سامان بانٹنے والے افراد اللہ پاک کے نزدیک بدترین سزا کے مستحق ہیں۔ ایسے کردار بالکل بھی "کول" نہیں۔ اگر وہ عورت منشیات کے پیسوں سے کروڑوں روپے بھی سڑکوں پر بانٹتی ہے تو اس کے اس عمل کی اللہ کے ہاں قطعی کوئی حیثیت نہیں۔
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی



































