
واشنگٹن( ویب ڈیسک ) ایک تازہ عالمی سروے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں امریکا کے بارے میں عوامی رائے مسلسل دوسرے سال بھی
منفی سطح پر برقرار ہے، اور اب اسے عالمی امن کے لیے روس سے بھی زیادہ خطرناک تصور کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ڈنمارک میں قائم الا ئنس آف ڈیموکریسی فاؤنڈیشن کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ خارجہ پالیسیوں نے عالمی سطح پر امریکا کے تشخص کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا کی نیٹ پرفارمنس ریٹنگ دو سال قبل مثبت 22 فیصد تھی، جو اب گر کر منفی 16 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اسی سروے میں روس کی ریٹنگ منفی 11 فیصد جبکہ چین کی ساکھ مثبت 7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
سروے میں مختلف ممالک کے شہریوں سے جب عالمی امن کے لیے خطرات کے بارے میں رائے لی گئی تو بڑی تعداد نے امریکا کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا،تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج عالمی سیاست میں امریکا کے بدلتے ہوئے کردار اور اس کی بڑھتی ہوئی تنہائی کو ظاہر کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق فاؤنڈیشن کے بانی اور سابق نیٹو سربراہ نے کہا کہ امریکا کی عالمی ساکھ میں یہ گراوٹ تشویشناک ہے، تاہم موجودہ پالیسیوں کے تناظر میں یہ غیر متوقع بھی نہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی، نیٹو اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی، تجارتی ٹیرف، گرین لینڈ سے متعلق بیانات اور ایران کے ساتھ بڑھتا ہوا تناؤ عالمی سطح پر امریکا کے بارے میں منفی رائے کا باعث بنے، اسی طرح یوکرین کے لیے امریکی امداد میں کمی اور دیگر بین الاقوامی معاملات پر غیر واضح پالیسیوں نے بھی عالمی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ کو واشنگٹن کے لیے ایک واضح انتباہ قرار دیا جا رہا ہے کہ موجودہ طرزِ عمل امریکا کو عالمی تنہائی کی طرف لے جا سکتا ہے۔




































