
نگہت سلطانہ
میر ے سامنےایک تصویر ہےجو چار مئی 2026 کو کھینچی گئی۔ تصویرکا تعلق دنیا کی سب سے بڑی جیل سے ہے۔۔۔ تصویر میں بچے دکھائی دے
رہے ہیں جو فضائی حملے میں شہید اپنے بھائی کی لاش دیکھ کر ۔۔۔۔لیکن ۔۔۔نہیں اس سے پہلے تذکرہ ہو جائے 18 سالہ عبداللہ الرقاب کی تصویر کا کہ جو اپنے خاندان کے لیے امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ درندہ صفت دشمن کی گولی کا نشانہ بنا جس کے نتیجے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
تصویر کو خبر کی شکل دینا چاہتی ہوں۔
آہ ۔۔۔۔۔۔ مگرکیسے۔۔۔۔۔ ؟
جبکہ اگلی تصویر زیادہ اندوہناک ہے ،اس تصویر نے دل دہلا کے رکھ دیا ,یہ تصویر وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح کی ہے۔ایک فضائی حملے میں الشہداء الاقصی ہسپتال کے نزدیک فلسطینی شہریوں۔۔۔
کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ قلم کو ہوا کیا ہے کوئی بات مکمل نہیں کر پا رہا ،ہر خبر ادھوری ہر تصویر نامکمل ۔۔۔۔جب دنیا میں فرد اور معاشرہ ادارہ اور نظام۔۔۔ شہر اور حکمران ،ملک واقوام سب جگہ بگاڑ نے گھر کر لیا ہو، انسان نما درندوں کا ایک گروہ دنیا پر حکمران بن بیٹھا ہو ،ایک لاٹھی سے ہر بھینس کو ہانکے چلا جا رہا ہو ،قانون ،انصاف ،عدل رحم اورانسانیت سب کو دور جنگل میں کہیں دفن کر دیا جائے، تب دل دہلنے لگتے ہیں ۔آنکھیں برستی ہیں۔ قلم لرزتے ہیں۔ حروف ادھورے رہ جاتے ہیں ۔فقرے بے ربط ہونے لگتے ہیں۔۔لیکن کیا یہ سب یوں ہی چلتا رہے گا؟ قلم لررتے ہی رہیں گے؟ دل دہلنے کی کوئی دوا نہیں ہوگی ؟کیا حروف ادھورے رہنے دیے جائیں گے؟؟
وہ مبصر ہی کیا جو بس سہم کر رہ جائے۔۔۔وہ تجزیہ کار جو صدمے سے نڈھال ہو جائے خبر کا تجزیہ کیوں کر کر پائے گا؟
ایسے بلاگ کی قارئین کی دنیا میں جگہ کیسے بن سکتی ہے جو جبر کی تیز آندھیوں٫ جنگ کے شعلوں ،قتل و غارت گری کے گرم بازار کے بیچ دنیا والوں تک صحیح خبر نہ پہنچا سکے، ظلم کے اندھیر نگری میں ہمت جرات استقامت امید کا دیا روشن نہ کر سکے۔۔۔۔۔۔سو میرا قلم رواں ہے۔۔۔
میں تصویر کو زبان دوں گی۔ مظلوموں کے زخموں کو انداز بیان دونگی ۔۔۔میں غزہ کے ان معصوم بچوں کا دکھ دنیا تک پہنچاؤں گی جو اپنے بھائی کی لاش دیکھ کر شدید صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ ان کہ بھائی کو اسرائیل نے وحشیانہ فضائی حملے میں شہید کر دیا۔۔
دوسری تصویر کو بھی میں خبر کی شکل دوں گی اورخبر یہ ہے کہ الشہدا الاقصی ہسپتال کے قریب غزہ کے شہریوں کے ایک گروپ پہ بلا وجہ اسرائیل نے حملہ کردیا۔ اس خبر کی تصویر کا بھی ایک پیغام ہے۔۔۔۔۔۔تصویر میں بوسیدہ سے چھکڑے پہ کٹے پھٹے زخمی فلسطینی پڑے ہیں، ساتھ ایک شخص دہائی دیتا ہے۔۔ اس تصویر کا پیغام یہ ہے کہ٫ تالے لگا دو بڑی بڑی درسگاہوں کو آگ لگا دو تہذیب و انسانیت و حقوق کے بڑے بڑے اداروں اور ان اداروں کے اندر رکھے قیمتی فرنیچر و نفیس قالینوں کو قیمتی مسودات کو۔انسانی حقوق کے بلوں کو۔۔۔۔عبداللہ اور رقاب کی تصویر بھی دل چیر کے رکھ دیتی ہے۔۔ یہ معصوم ہسپتال میں زیر علاج اپنے بھائی کے لیے کھانا لے کے جا رہا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں نے تفریح طبع کے لیے اس پر گولی چلا دی۔نوجوان عبداللہ الرقاب اور اس کی موٹر بائیک نیچے گرے پڑے ہیں پاس کھانا بکھرا پڑا ہے۔۔۔
پیغام اس تصویر کا یہ ہے کہ انسانی خون کے پیاسو
تہذیب کا نام لے کے تہذیب کو مٹا دینے کی دھمکی دینے والو
اپنے پاس اسلحے کے ذخائر جمع کر کے دوسروں کو حق دفاع سے محروم کر دینے والو! ذرا اوپر نظر دوڑا ہو اسمانی گدھیں منڈلا رہی ہیں بس کسی موقع کی تلاش میں ہیں یا کن فیکون کے کسی عجیب سے سلسلے کی منتظر ہیں۔۔۔۔وقت دور نہیں تمہیں نوچ نوچ کے کھائیں گی ۔۔۔مرنا چاہو گے مر نہ پاؤ گے زندگی کی بھیک مانگو گے۔۔۔ہاں تب تک خوب بد دعائیں اکٹھی کر لو لعن طعنن اپنے حق میں جمع کر لو۔۔۔۔۔۔۔ہر جابر وقت سمجھتا ہے محکم ہے میری تدبیر بہت
پھر وقت اسے بتلاتا ہے تھی کند تیری شمشیر بہت
اور
خون شہداء کی تا بانی لمحہ فزوں تر ہوتی ہے
جو رنگ وفا سے بنتی ہے ہوتی ہے حسیں تصویر بہت



































