
نگہت سلطانہ
اسرائیلی کنیسٹ نےسوموار 30اگست کے دن فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کی باضابطہ منظوری دے دی ہے ،اس کے حق میں 62 اور
مخالفت میں 47 ووٹ پڑے ہیں۔
اس قانون کا مطلب کیا ہے۔۔۔۔؟؟
سادہ لفظوں میں یوں سمجھ لیجئے کہ یہ قانون کہتا ہے کہ قیدی کوئی جیتا جاگتا 'حقوق رکھتا' صحت کے مسائل سے دو چار انسان نہیں۔۔۔وہ تو خیر اس قانون کی منظوری سے پہلے بھی اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے لیے حقوق نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔۔۔ہر قیدی ایک ایسا انسانی ڈھانچہ تھا جو بنیادی انسانی ضروریات' صحت کی سہولیات، واش روم کی ضرورت'،رشتہ داروں سے ملاقات کی سہولت جیسی تمام عیاشیوںکا حقدار نہیں تھا
لیکن کم از کم اس ڈھانچے کے اندر راکھ کی چنگاری کی طرح یہ امید روشن رہتی تھی کہ کبھی نہ کبھی رہائی تو ملے گی لیکن اب اس چنگاری کو بھی بھسم کر دیا گیا ہے، اس قانون کے تحت قیدی اب زندہ لاش ہے جسے اج نہیں تو کل مردہ لاش میں بدل دیا جائے گا .
واضح رہے کہ یہ قیدی وہ روایتی قیدی نہیں ,یہ کوئی مجرم نہیں جور ڈاکو نہیں ہیں ,یہ تو مسجد اقصی کے پاسبان ہیں ,یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بزدلی اور پسپائی کی بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور صیہونی قبضے کو قبول نہیں کیا یہ تو امت کے ہیرو ہیں .بات کی جائے اس قانون کی تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس غیر انسانی قانون کے منظور ہوتے ہی انسانی حقوق کی تنظیمیں چیخ اٹھتیں ۔آزاد دنیا کے آزاد لوگ احتجاج کرتے ۔ماہرین قانون اس پر تحقیق کرتے ، تجزیہ کار تجزیہ کرتے افسوس ایسا نہیں ہوا۔
آج جب کہ مسلم حکمران خصوصا خلیجی ممالک کے حکمران امریکا کی غلامی میں اور طاغوت کے خوف میں سر تا پا غرق ہیں ،ان کے سامنے غزہ میں ہزاروں معصوم بچوں کو بھون ڈالا گیا ان کے ماتھے، پہ ایک شکن تک نہ ابھری ،ان حالات میں صرف ایک ملک ہے جو ان مظلوموں کا کشتی بان ہے آج اس اس ملک کو اس اس جرم کی سزا دینے کے لیے شیطانی قوتیں یکجا ہو چکی ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ اس وقت اس جنگ کے باعث فلسطین کا موضوع کچھ پس پردہ چلا گیا ہے، تا ہم ہم اپیل کریں گے کہ اس پہ خاموش نہ رہیے۔۔۔
اپ جو کوئی بھی ہیں
جہاں کہیں بھی ہیں
بھلے جس پیشے سے منسلک ہیں، اس ظالمانہ کا قانون کے خلاف بولیے لکھیے شیئر کیجئے۔۔۔اور اگر خدانخواستہ دل بے حس ہو چکا ہے تو پھر اسی کے سامنے دست دعا پھیلا دیجئے جس کے قبضے میں ہر انسان کا دل ہے۔
مجھے زندگی میں یا رب سر بندگی عطا کر
میرے دل کی بے حسی کو غم عاشقی عطا کر




































