
احمد شفیق
صبح کی کاذب روشنی ابھی روشندانوں سے چھن کر اندر نہیں آئی تھی کہ "آشیانہ" نامی اس دو منزلہ مکان میں زندگی کی سرسراہٹ شروع ہو چکی تھی۔ یہ
گھر کسی زمانے میں بہت کشادہ لگتا تھا، مگر جیسے جیسے اس گھر کے مکینوں کے قد نکلتے گئے اور ان کی اولادیں ہوئیں، یہ دیواریں سکڑتی محسوس ہونے لگیں۔ فجر کی اذان کی آواز کے ساتھ ہی نیچے والے کمرے سے کھانسی کی آواز آئی، یہ حاجی آدم صاحب تھے، اس گھر کے ستون، جن کی کھانسی اب اس گھر کا الارم بن چکی تھی۔
اوپر والے کمرے میں احمد نے کروٹ بدلی تو اس کا ہاتھ ساتھ لیٹی ہوئی حیاء کے بازو سے ٹکرایا۔ حیاء جاگ رہی تھی۔ شاید وہ پوری رات سوئی ہی نہیں تھی۔ احمد نے نیم وا آنکھوں سے اپنی بیوی کے چہرے کو دیکھا، جہاں اب شکنیں نمودار ہونے لگی تھیں۔ یہ وہ حیاء نہیں تھی جو پانچ سال پہلے سرخ جوڑا پہن کر اس گھر میں آئی تھی۔ تب اس کی آنکھوں میں خواب تھے، اب ان آنکھوں میں صرف تھکن اور ایک ان کہی شکایت تھی۔ کمرے میں ایک عجیب سی حبس تھی، حالانکہ پنکھا چل رہا تھا، مگر یہ حبس موسم کی نہیں، حالات کی تھی۔ کونے میں سوئے ہوئے ان کے دو بچے، حذیفہ اور مناہل، بے خبر سو رہے تھے۔ احمد نے اٹھنے کی کوشش کی تو حیاء کی دھیمی مگر کاٹ دار آواز نے اسے وہیں روک لیا۔
"آج پھر دودھ والا بل مانگ رہا تھا۔ آپ کے بھائی نے کہا ہے کہ اس مہینے کا حساب الگ کریں گے۔"
احمد کا دل چاہا کہ وہ سرہانے میں منہ دے کر دوبارہ سو جائے۔ صبح کا آغاز پھر اسی موضوع سے ہو رہا تھا، پیسہ، خرچہ، اور تقسیم۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں سب سے بڑا عذاب یہ نہیں ہوتا کہ لوگ برے ہوتے ہیں، بلکہ عذاب یہ ہوتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں، جیسے دودھ کا بل، انڈوں کی ٹرے، اور بچوں کے اسکول کی فیس، رشتوں کے درمیان دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ احمد خاموش رہا، بستر سے اٹھا اور غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔ مگر وہاں پہلے ہی قطار لگی ہوئی تھی۔ بڑے بھائی کا بیٹا اندر تھا اور باہر چھوٹی بھابی دروازہ کھٹکھٹا رہی تھیں۔ یہ تھی اس جدید دور کی جوائنٹ فیملی کی ایک اور حقیقت، پرائیویسی کا فقدان اور وسائل کی کمی۔
ناشتے کا دسترخوان ایک میدانِ جنگ سے کم نہ تھا۔ کچن میں تین خواتین تھیں، بڑی بھابی، حیاء اور چھوٹی بھابی۔ بظاہر وہ مل کر پراٹھے بنا رہی تھیں، لیکن ان کے درمیان خاموشی کا جو شور تھا، وہ برتنوں کی آواز سے زیادہ کان پھاڑ دینے والا تھا۔ ہر کسی کو جلدی تھی، ہر کوئی اپنے بچے کو پہلے ٹفن دینا چاہتا تھا۔ اسی ہنگامے میں حاجی صاحب اپنی کرسی پر آ کر بیٹھے۔ ان کے آتے ہی ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ وہ پرانے دور کے آدمی تھے، جب ایک کماتا تھا اور دس کھاتے تھے، اور کسی ماتھے پر شکن نہیں آتی تھی۔ لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ اب دور بدل چکا ہے۔ اب خواہشات ضروریات بن چکی ہیں۔
حذیفہ، جو ابھی صرف سات سال کا تھا، ٹیبل پر بیٹھتے ہی بولا، "امی! مجھے دانیال بھائی والا ٹیبلٹ چاہیے، وہ مجھے ہاتھ نہیں لگانے دیتے۔"
دانیال، جو بڑے تایا کا بیٹا تھا اور احمد میں خاصا بڑا تھا، نے فوراً منہ بنایا، "یہ چھوٹا ہے، توڑ دے گا، اور ویسے بھی اس میں میری پرسنل چیزیں ہیں۔"
"پرسنل"۔۔۔ یہ لفظ اس گھر میں نیا نیا داخل ہوا تھا۔ کچھ سال پہلے تک کھلونے سب کے ہوتے تھے، کپڑے ایک دوسرے کے پہن لیے جاتے تھے، لیکن اب جدیدیت نے بچوں کے ذہنوں میں ملکیت کا زہر بھر دیا تھا۔ حیاء نے تپ کر حذیفہ کو ڈانٹ دیا، "چپ کرکے ناشتہ کرو، اپنا وقت آئے گا تو لے لینا۔" اس کے لہجے میں جو تلخی تھی وہ دانیال کے لیے نہیں تھی، وہ اس نظام کے لیے تھی جہاں اس کا بچہ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کے لیے بھی دوسروں کے رحم و کرم پر تھا۔
احمد نے خاموشی سے چائے کا گھونٹ بھرا۔ چائے ٹھنڈی تھی اور پھیکی بھی۔ شاید چینی ختم ہو گئی تھی اور کسی نے نئی منگوانے کی زحمت نہیں کی تھی اس ڈر سے کہ کہیں پیسے اس کی جیب سے نہ لگ جائیں۔ اس نے حاجی صاحب کی طرف دیکھا۔ بوڑھے باپ کی آنکھوں میں ایک بے بسی تھی۔ وہ سب کچھ دیکھ رہے تھے،
"بہوؤں کے کھنچے ہوئے چہرے، بیٹوں کی خاموش نظریں، اور بچوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری"۔
وہ سمجھ رہے تھے کہ جس خاندانی نظام کو وہ اسلام کی روح اور برکت کا ذریعہ سمجھتے تھے، وہ اب ان کے بچوں کے لیے ایک قید خانہ بنتا جا رہا ہے۔ مگر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اگر یہ شیرازہ بکھرا، تو نقصان صرف مالی نہیں ہوگا، اخلاقی بھی ہوگا۔
احمد جب دفتر کے لیے نکلا تو اس کا دماغ بھک سے اڑ رہا تھا۔ موٹر سائیکل کو کک مارتے ہوئے اس نے اوپر کی منزل کی طرف دیکھا جہاں اس کا چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اسے یاد آیا کہ کل رات حیاء کہہ رہی تھی، "احمد! ہمیں الگ ہونا پڑے گا۔ میں بری نہیں ہوں، لیکن میں تھک گئی ہوں۔ میں پردہ کرنا چاہتی ہوں لیکن گھر میں ہر وقت دیور اور کزن آتے جاتے ہیں، میں اپنے ہی گھر میں جیل کی قیدی بن کر رہ گئی ہوں۔ دین بھی تو مجھے الگ رہائش کا حق دیتا ہے، تو ہم کیوں سماج کے ڈر سے اس گھٹن میں جی رہے ہیں؟"
راستے بھر احمد کے ذہن میں جنگ چلتی رہی۔ ایک طرف "صلہ رحمی" کے احکامات تھے، والدین کی خدمت کا جذبہ تھا، اور دوسری طرف جدید دور کے تقاضے اور اپنی بیوی بچوں کے حقوق۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کیا جوائنٹ فیملی سسٹم واقعی ناکام ہو چکا ہے؟ یا ہم لوگ اتنے کم ظرف ہو گئے ہیں کہ برداشت کا مادہ ختم ہو گیا ہے؟ دفتر پہنچ کر بھی اس کا دھیان کام میں نہیں تھا۔ اس کے کولیگ، ابراہیم نے پوچھا، "کیا ہوا یار؟ آج پھر گھر سے لڑ کر آئے ہو؟"
ابراہیم نیوکلیئر فیملی میں رہتا تھا۔ وہ اور اس کی بیوی اکیلے۔ احمد اکثر اسے رشک سے دیکھتا تھا، کتنا سکون تھا اس کی زندگی میں۔ نہ کوئی روک ٹوک، نہ کچن کی سیاست، نہ بلوں کی تقسیم پر جھگڑے۔ مگر پھر اسے یاد آیا کہ پچھلے مہینے جب ابراہیم کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو اسے ہسپتال لے جانے والا کوئی نہیں تھا، اس کی بیوی اکیلی رو رہی تھی۔ جبکہ احمد کے گھر میں جب کوئی بیمار ہوتا، تو پورا گھر ہسپتال بن جاتا۔
شام کو گھر واپسی پر ایک عجیب منظر احمد کا منتظر تھا۔ گلی میں ایمبولینس کھڑی تھی۔ اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بھاگتا ہوا اندر گیا تو دیکھا کہ لاؤنج میں بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ دانیال (بڑے بھائی کا بیٹا) صوفے پر نڈھال پڑا تھا اور اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ چھت پر پتنگ لوٹتے ہوئے گر گیا تھا۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں جوائنٹ فیملی کی اصل طاقت سامنے آئی۔ بڑے بھائی وقار تو دفتر میں تھے، فون بھی نہیں اٹھا رہے تھے۔ ایسے میں چھوٹا بھائی اسد (احمد کا چھوٹا بھائی) دانیال کو اٹھا کر بھاگا تھا۔ حیاء اور بڑی بھابی، جو صبح ایک دوسرے کی شکل دیکھنا پسند نہیں کر رہی تھیں، اس وقت ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہی تھیں۔ بڑی بھابی کا رو رو کر برا حال تھا اور حیاء ان کے لیے پانی لا رہی تھی، ان کے کندھے دبا رہی تھی۔
احمد نے یہ منظر دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہی وہ تضاد تھا جس نے اسے جکڑ رکھا تھا۔ ایک طرف روز کی "چخ چخ"، پرائیویسی کا فقدان، اور ذہنی کوفت۔۔۔ اور دوسری طرف یہ "تحفظ"۔ یہ احساس کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ اگر آج وہ الگ گھر میں ہوتے اور خدا نہ خواستہ حذیفہ کے ساتھ ایسا کچھ ہوتا تو حیاء اکیلی کیا کرتی؟
رات گئے جب ہنگامہ تھما، دانیال کو پٹی کروا کر گھر لایا گیا، تو گھر کا ماحول بدلا ہوا تھا۔ خوف نے سب کو جوڑ دیا تھا۔ حاجی صاحب نے سب کو اپنے کمرے میں بلایا۔ آج ان کے لہجے میں وہ روایتی سختی نہیں تھی، بلکہ ایک درد تھا۔
"دیکھو!" انہوں نے لرزتی آواز میں کہا۔ "میں جانتا ہوں تم سب تنگ ہو گئے ہو۔ یہ گھر چھوٹا پڑ گیا ہے۔ برتن کھڑکتے ہیں تو آواز تو آتی ہے۔ تم سب جوان ہو، تمہیں اپنی تنہائی چاہیے، اپنی زندگی چاہیے۔ میں تمہیں روکوں گا نہیں۔ اگر تم میں سے کوئی الگ ہونا چاہتا ہے تو ہو جائے، میں بددعا نہیں دوں گا۔"
کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ یہ وہ اجازت تھی جس کا حیاء اور بڑی بھابی شاید سالوں سے انتظار کر رہی تھیں۔ لیکن آج، اس حادثے کے بعد، یہ الفاظ ان کے گلے میں کانٹے کی طرح چبھ رہے تھے۔
حاجی صاحب نے بات جاری رکھی، "لیکن یاد رکھنا بیٹا! باہر کی دنیا بہت ظالم ہے۔ یہاں اس چھت کے نیچے تم ایک دوسرے کا بوجھ بانٹ لیتے ہو۔ وہاں باہر، آزادی تو ملے گی، مگر اس آزادی کی قیمت تنہائی کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی۔ آج کل کے بچے، ان کے ہاتھوں میں یہ موبائل، یہ انٹرنیٹ۔۔۔ یہاں کم از کم سب کی نظر تو ہوتی ہے۔ اکیلے گھروں میں ماؤں کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ بند کمرے میں اولاد کیا کر رہی ہے۔ فیصلہ تمہارا ہے۔"
اس رات حیاء بہت دیر تک خاموش لیٹی رہی۔ پھر اس نے دھیمی آواز میں کہا، "احمد! آج جب دانیال گرا تھا، تو مجھے لگا میرا اپنا بیٹا گر گیا ہے۔ اگر ہم الگ ہوتے اور حذیفہ۔۔۔" وہ جملہ مکمل نہ کر سکی۔
احمد نے گہری سانس لی۔ "تو کیا ارادہ ہے؟"
حیاء نے جو جواب دیا وہ اس کشمکش کی بہترین عکاسی تھا جس میں آج کا ہر جوڑا مبتلا ہے۔"احمد! مجھے جوائنٹ فیملی سے نفرت نہیں ہے، مجھے بس اس 'بدانتظامی' سے نفرت ہے۔ ہم الگ نہیں ہوں گے، لیکن ہمیں جینے کا نیا ڈھنگ سیکھنا ہوگا۔ ہم اسی گھر میں رہیں گے، لیکن کیا ہم اپنی تھوڑی سی دنیا الگ نہیں بسا سکتے؟ جہاں ہماری پرائیویسی بھی ہو اور بڑوں کا سایہ بھی؟ کیا دین میں اعتدال نہیں ہے؟"
اگلے چند دن گھر میں ایک خاموش انقلاب آیا۔ یہ انقلاب لڑائی جھگڑے کا نہیں، بلکہ "شعور" کا تھا۔ احمد نے والد صاحب اور بھائیوں سے بیٹھ کر بات کی۔ یہ بات کرنا پہاڑ توڑنے سے زیادہ مشکل تھا کیونکہ ہمارے معاشرے میں "باؤنڈریز" کی بات کرنا بے ادبی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن احمد نے ہمت کی۔ اس نے سمجھایا کہ الگ ہونے سے بہتر ہے کہ ہم ساتھ رہ کر بھی ایک دوسرے کو اسپیس دیں۔
طے یہ پایا کہ اوپر والا پورشن، جو اب تک سٹور روم اور مہمان خانے کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، اسے تھوڑا سیٹ کر کے احمد کی فیملی کے لیے مختص کر دیا جائے گا۔ کچن فی الحال ایک ہی رہے گا لیکن خرچے کا نظام بدل دیا جائے گا۔ یہ طے ہوا کہ ہر بھائی اپنی تنخواہ کا ایک حصہ "پول" میں ڈالے گا، اور باقی اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کا پابند ہوگا۔ یہ چھوٹی سی تبدیلی تھی، مگر اس نے برسوں کی گھٹن کم کر دی۔
لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ اصل امتحان تو اب شروع ہونا تھا۔ بچے بڑے ہو رہے تھے اور جدید دور کی ہوائیں دیواریں پھلانگ کر اندر آ رہی تھیں۔ پندرہ سالہ بھتیجی کے ہاتھ میں سمارٹ فون آ چکا تھا، اور گھر کے بزرگوں کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ کس دنیا میں کھوئی ہوئی ہے۔ جوائنٹ فیملی جہاں ایک قلعہ ہے، وہیں کبھی کبھی یہ ایک ایسی جگہ بن جاتی ہے جہاں راز چھپانا مشکل ہوتا ہے، اور جب راز کھلتے ہیں تو قیامت آتی ہے۔
ایک شام، جب گھر میں سب ٹی وی دیکھ رہے تھے، اچانک باہر گیٹ پر زور زور سے دستک ہوئی۔ کوئی غصے میں گیٹ پیٹ رہا تھا۔ وقار بھائی باہر گئے تو دیکھا کہ محلے کا ایک لڑکا کھڑا ہے، اور اس کے ہاتھ میں ایک موبائل فون تھا۔
"اپنے گھر کی لڑکیوں کو سنبھال کر رکھیں حاجی صاحب!" اس لڑکے نے موبائل وقار کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے اونچی آواز میں کہا۔ "یہ موبائل آپ کی چھت سے نیچے گرا تھا، اس میں جو چیٹ کھلی ہوئی ہے، وہ دیکھ لیں، پھر شاید آپ لوگوں کو اپنی عزت کا خیال آ جائے۔"
وقار کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ یہ موبائل اس کی اپنی بیٹی کا تھا۔ وہ بیٹی جسے وہ گھر کی چار دیواری میں محفوظ سمجھتا تھا۔ جوائنٹ فیملی کے بھرے پُرے گھر میں، جہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی جاگتا رہتا ہے، یہ سب کیسے ہوا؟ یہ وہ سوال تھا جس نے حاجی صاحب کے اس یقین کو ہلا کر رکھ دیا کہ "مشترکہ خاندان میں برائی نہیں پنپ سکتی"۔ جدید ٹیکنالوجی نے دیواروں کی اونچائی بے معنی کر دی تھی۔ دشمن اب دروازے سے نہیں، سگنلز کے ذریعے ہوا میں تیرتا ہوا بچوں کے بستر تک پہنچ چکا تھا۔
اب گھر میں ایک نیا طوفان کھڑا ہونے والا تھا۔ ایک طرف باپ کا غصہ تھا، دوسری طرف وہ جدید حقیقتیں جن سے آنکھیں چرانا اب ممکن نہیں تھا۔
کیا جوائنٹ فیملی اس نئے وار کو سہہ پائے گی؟ یا اس بار یہ تناور درخت جڑ سے اکھڑ جائے گا؟
یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں تھی، یہ ہر اس گھر کی کہانی تھی جو روایت اور جدیدیت کے دوراہے پر کھڑا کانپ رہا تھا۔
تو چلیے میرے عزیز قارئین! اب ہم اس داستان کے اگلے اور اہم موڑ کی جانب بڑھتے ہیں جہاں جذبات، کشمکش اورجدید دور کے ڈیجیٹل خطرات کا سامنا ایک روایتی گھرانے کو کرنا پڑ رہا ہے۔
وقار بھائی کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ وہ موبائل جو کچھ دیر پہلے تک صرف ایک پلاسٹک اور شیشے کا ٹکڑا تھا، لیکن اب ایک بم بن چکا تھا جو رحمان منزل کے سکون کو اڑا لے گیا تھا۔ لاؤنج میں ایسا سناٹا تھا جیسے کسی کی میت رکھی ہو۔ زویا، جو ابھی سولہویں سال میں تھی، فرش پر بیٹھی سسک رہی تھی۔ اس کے گال پر وقار بھائی کے تھپڑ کا نشان واضح تھا جو کچھ لمحے پہلے غصے کی شدت میں مارا گیا تھا۔
"میں نے تمہاری ہر خواہش پوری کی۔" وقار بھائی کی آواز بھرا گئی، غصے اور دکھ کا عجیب ملاپ تھا۔ "تمہیں اچھے کالج بھیجا، تمہیں موبائل لے کر دیا تاکہ زمانے کے ساتھ چلو، اور تم نے۔۔۔ تم نے محلے کے آوارہ لڑکوں کے سامنے میری پگڑی اچھال دی؟"
بڑی بھابی (زویا کی ماں) بت بنی کھڑی تھیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو تو جاری تھے مگر زبان گنگ تھی۔ جوائنٹ فیملی میں ماں کا کردار اکثر 'ڈھال' کا ہوتا ہے، مگر آج وہ ڈھال بھی ٹوٹ چکی تھی۔
حاجی آدم صاحب (دادا) اپنی جگہ سے اٹھے۔ وہ چل کر زویا کے پاس گئے جو ڈر کے مارے سکڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے وقار کو ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کا کہا۔
"وقار! شور مچانے سے عزت واپس نہیں آتی۔" حاجی صاحب نے بھاری آواز میں کہا۔ "اور زویا کو مارنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکو۔ یہ موبائل کس نے دلایا تھا؟ میں نے منع کیا تھا کہ ابھی کچی احمد ہے، لیکن تم نے کہا تھا 'ابا جی! زمانہ بدل گیا ہے'۔ لو دیکھ لو بدلا ہوا زمانہ۔"
یہ جوائنٹ فیملی کا ایک اور رخ تھا۔ یہاں فیصلے کسی ایک کے نہیں ہوتے، لیکن جب نقصان ہوتا ہے تو انگلیاں بھی سب پر اٹھتی ہیں۔ احمد اور حیاء کونے میں کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ حیاء نے دیکھا کہ اس کا بیٹا حذیفہ سہما ہوا سیڑھیوں کے پیچھے چھپا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ حیاء کا دل دہل گیا۔ کیا یہ ماحول بچوں کے لیے صحیح ہے؟ جہاں ہر روز ایک نیا تماشا لگتا ہے؟
رات بہت بھاری گزری۔ کسی نے کھانا نہیں کھایا۔
احمد اپنے کمرے میں آیا تو حیاء جائے نماز پر بیٹھی رو رہی تھی۔ احمد خاموشی سے بستر پر بیٹھ گیا۔
"احمد! مجھے ڈر لگ رہا ہے۔" حیاء نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔ "زویا کوئی بری لڑکی نہیں ہے۔ وہ تو گھر سے باہر بھی نہیں نکلتی۔ یہ سب کیسے ہوا؟"
احمد نے چھت کی طرف گھورا۔ "حیاء! ہم نے دیواریں تو اونچی کر لیں، گیٹ پر تالے بھی لگا دیے، لیکن ہم بھول گئے کہ اب چور سیڑھی لگا کر نہیں آتے، وہ سگنلز کے ذریعے ہوا میں تیرتے ہوئے آتے ہیں۔ ہم جوائنٹ فیملی والے سمجھتے ہیں کہ گھر بھرا ہوا ہے تو بچے محفوظ ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ اس بھیڑ میں بچے سب سے زیادہ تنہا ہیں۔"
اگلے دو دن گھر کا ماحول جیل جیسا رہا۔ زویا کا کالج جانا بند کر دیا گیا۔ انٹرنیٹ کا کنکشن کاٹ دیا گیا۔ وقار بھائی نے غصے میں یہ فیصلہ تو کر لیا، لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں تھا۔ یہ تو ایسے ہی تھا جیسے بخار ہونے پر تھرمامیٹر توڑ دیا جائے۔
تیسرے دن شام کو احمد، زویا کے کمرے میں گیا۔ وہ اندھیرے میں لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔
"زویا!" احمد نے نرمی سے پکارا۔
زویا نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔
"بیٹا، میں تمہیں نصیحت کرنے نہیں آیا۔ میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیوں؟" احمد نے کرسی گھسیٹ کر اس کے پاس رکھی۔ "اس گھر میں تمہارے دادا ہیں، دادی ہیں، ماں باپ، چچا تایا۔۔۔ اتنے لوگوں کے ہوتے ہوئے تمہیں باہر کسی اجنبی سے بات کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟"
زویا کچھ دیر خاموش رہی، پھر اچانک پھٹ پڑی۔ اس کے الفاظ جوائنٹ فیملی کے نظام پر ایک تازیانہ تھے۔
"کون سے اپنے چچا؟" وہ روتے ہوئے بولی۔ "ابو کو صرف میرے نمبروں سے غرض ہے تاکہ وہ دوستوں میں فخر کر سکیں۔ امی ہر وقت کچن میں ہوتی ہیں یا دادی کی خدمت میں۔ آپ اور چھوٹے چچا اپنے کاموں میں۔ اس گھر میں لوگ تو بہت ہیں، مگر 'بات' کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ جب میں اس لڑکے سے چیٹ کرتی تھی تو وہ مجھ سے پوچھتا تھا کہ 'آج تم کیسی ہو؟'۔ اس گھر میں کسی نے آخری بار مجھ سے کب پوچھا تھا کہ میں کیسی ہوں؟ سب بس یہ پوچھتے ہیں 'کھانا کھایا؟' یا 'پڑھائی کر لی؟'۔"
احمد سن ہو کر رہ گیا۔ زویا کی بات سولہ آنے سچ تھی۔ جوائنٹ فیملیز اب صرف "مشترکہ رہائش گاہیں" بن گئی ہیں جہاں جسم تو پاس ہیں مگر روحیں میلوں دور۔ ہم نے سمجھ لیا کہ اکٹھے کھانا کھانا ہی محبت ہے، حالانکہ محبت 'توجہ' کا نام ہے۔
احمد نیچے آیا تو دیکھا کہ لاؤنج میں ایک نئی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ اس بار موضوع "پیسہ" تھا۔ انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے اسد (سب سے چھوٹا بھائی جو فری لانسنگ کرتا تھا) کا کام رک گیا تھا۔
"وقار بھائی! آپ کے غصے کی وجہ سے میرا کلائنٹ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔" اسد چلا رہا تھا۔ "آپ کی بیٹی نے غلطی کی ہے تو سزا اسے دیں، پورے گھر کا نیٹ کیوں بند کیا؟"
وقار بھائی، جو پہلے ہی پریشان تھے، اسد کی بدتمیزی پر آپے سے باہر ہو گئے۔ "تو تم اب مجھے سکھاؤ گے؟ میں بڑا ہوں اس گھر کا۔"
"بڑے ہیں تو بڑوں والی حرکتیں بھی کریں۔" اسد نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
حاجی صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ وہ گھر جو ان کا فخر تھا، اب ریت کی دیوار کی طرح گر رہا تھا۔ ایک لڑکی کی غلطی نے گھر کی معاشی اور اخلاقی بنیادوں کو ہلا دیا تھا۔ حیاء کچن کے دروازے میں کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ کیا "علیحدگی" واقعی اتنی بری چیز ہے؟ اگر الگ ہوتے تو کم از کم یہ روز کی لڑائیاں تو نہ ہوتیں۔
لیکن پھر اسی رات، ایک اور واقعہ ہوا۔
وقار بھائی کے سینے میں شدید دباؤ محسوس ہوا۔ ٹینشن اور ہائی بلڈ پریشر نے اپنا کام دکھا دیا۔ وہ صوفے پر گر پڑے۔ اسد، جو ابھی ان سے لڑ رہا تھا، سب سے پہلے بھاگا۔ اس نے وقار بھائی کے جوتے اتارے، سینے کو دبایا، اور احمد کو آوازیں دیں گاڑی نکالنے کے لیے۔
ہسپتال کے راستے میں اسد مسلسل وقار بھائی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا اور کہہ رہا تھا، "بھائی ہمت کریں، کچھ نہیں ہوگا، میں ہوں نا۔"
احمد گاڑی چلاتے ہوئے یہ منظر ریئر ویو مرر میں دیکھ رہا تھا۔ یہی وہ "جادو" تھا جو اس نظام کو ٹوٹنے نہیں دیتا تھا۔ لڑائی، اختلافات، نفرت۔۔۔۔۔۔۔۔
سب اپنی جگہ، مگر "خون" پھر بھی خون تھا۔
ہسپتال کے ویٹنگ روم میں حاجی صاحب نے تینوں بیٹوں کو اپنے پاس بٹھایا۔ ڈاکٹرز نے وقار کو خطرے سے باہر قرار دے دیا تھا، لیکن انہیں آرام اور ذہنی سکون کی تاکید کی تھی۔
"اب بس!" حاجی صاحب نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ "میں نے بہت سوچ لیا ہے۔ ہم غلط کر رہے ہیں۔ ہم پرانے اصولوں کو نئے دور پر زبردستی لاگو کر رہے ہیں۔"
انہوں نے احمد کی طرف دیکھا۔ "احمد! تم پڑھے لکھے ہو، دین کو بھی سمجھتے ہو اور دنیا کو بھی۔ تم بتاؤ، حل کیا ہے؟ ہم زویا کو مار بھی نہیں سکتے، اور اسے کھلا بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم ساتھ بھی رہنا چاہتے ہیں اور لڑنا بھی نہیں چاہتے۔ راستہ کہاں ہے؟"
احمد نے گہرا سانس لیا۔ اس کے پاس زویا کی گفتگو کا حوالہ موجود تھا۔
"ابا جی! مسئلہ موبائل نہیں، مسئلہ 'خلا' ہے۔" احمد نے سمجھایا۔ "ہم نے بچوں کو دین سکھایا ہے مگر صرف نماز روزے کی حد تک۔ ہم نے انہیں 'تقویٰ' نہیں سکھایا۔ تقویٰ یہ ہے کہ بند کمرے میں جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو، تب بھی اللہ دیکھ رہا ہے۔ ہم نے ڈنڈے کے زور پر تربیت کی کوشش کی، اور ڈنڈا ہٹتے ہی وہ بہک گئے۔"
احمد نے ایک تجویز پیش کی جو جوائنٹ فیملی کے لیے ایک نیا "چارٹر" تھی۔
"ہمیں گھر کا نظام بدلنا ہوگا۔"
* مکالمہ : روزانہ رات کو کھانے کے بعد آدھا گھنٹہ "نو موبائل ٹائم" ہوگا۔ سب اکٹھے بیٹھیں گے، لیکن ٹی وی نہیں چلے گا۔ صرف باتیں ہوں گی۔ بڑوں کو سننا ہوگا، اور چھوٹوں کو بولنے کا موقع دینا ہوگا۔
* ذمہ داری: زویا کا کالج بند نہیں ہوگا، لیکن اس پر بھروسہ بحال کرنے کے لیے اسے ذمہ داری دی جائے گی۔ اسے دادی کی دوائیوں اور گھر کے حساب کتاب میں شامل کیا جائے تاکہ اسے احساس ہو کہ وہ اس گھر کا اہم حصہ ہے، بوجھ نہیں۔
* پردہ اور پرائیویسی: دیور اور بھابیوں کے درمیان، اور کزنز کے درمیان بے تکلفی ختم کرنی ہوگی۔ اسلام نے جو حدود رکھی ہیں وہ گھٹن نہیں، حفاظت ہیں۔ جب کزنز آپس میں دوستوں کی طرح گھل مل جاتے ہیں تو حیا کی وہ باریک جھلی پھٹ جاتی ہے جو گناہ سے روکتی ہے۔
گھر واپسی پر ایک عجیب سکون تھا۔ وقار بھائی کمزور لگ رہے تھے مگر ان کی آنکھوں میں نرمی تھی۔ جب وہ گھر داخل ہوئے تو زویا ڈرتے ڈرتے ان کے پاس آئی۔ وقار نے اسے ڈانٹا نہیں، نہ منہ پھیرا، بلکہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔
"مجھے معاف کر دو بیٹا۔" وقار کی آواز کانپ رہی تھی۔ "میں ایک باپ بن کر صرف حکم چلاتا رہا، کبھی دوست بن کر تمہاری بات نہیں سنی۔"
زویا بلک بلک کر رو پڑی۔ یہ آنسو ندامت کے تھے، اور یہ ندامت موبائل چھیننے سے نہیں، باپ کی محبت ملنے سے پیدا ہوئی تھی۔
اگلے چند ماہ "رحمان منزل" کے لیے ارتقاء کے مہینے تھے۔
حیاء اور بڑی بھابی نے کچن کی ذمہ داریاں بانٹ لیں۔ اب حیاء دوپہر کا کھانا بناتی اور بڑی بھابی رات کا۔ بیچ میں دونوں کو اپنے کمروں میں آرام کا وقت مل جاتا۔
احمد نے ایک اور تبدیلی کی۔ اس نے اتوار کا دن "فیملی لرننگ" کے لیے مختص کیا۔ وہ سب کو قرآن کی کسی ایک آیت کا ترجمہ اور تفسیر سناتا، مگر جدید مثالوں کے ساتھ۔
لیکن کیا سب کچھ ٹھیک ہوگیا؟ نہیں۔ حقیقت اتنی سادہ نہیں ہوتی۔
چھوٹے مسائل اب بھی تھے۔ اسد کی شادی ہونے والی تھی، اور نئی آنے والی دلہن کے لیے گھر میں جگہ بنانا ایک نیا چیلنج تھا۔ ایک اور کمرہ چاہیے تھا، اور وسائل محدود تھے۔ ساتھ ہی حذیفہ (احمد کا بیٹا) اب ضد کر رہا تھا کہ اسے الگ کمرہ چاہیے کیونکہ اسے پڑھائی میں شور سے مسئلہ ہوتا ہے۔
ایک دن حیاء نے احمد سے کہا، "احمد! حالات بہتر تو ہوئے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ یہ گھر اب تنگ ہو رہا ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم قریب ہی کہیں اوپر والا پورشن کرائے پر لے لیں؟ ہم روز ملنے آئیں گے، کھانا بھی ساتھ کھا لیا کریں گے، مگر رات کو سونے کے لیے اپنی چھت الگ ہو؟"
احمد چونک گیا۔ یہ وہی بات تھی جو کہانی کے شروع میں ہوئی تھی، مگر اب انداز بدل گیا تھا۔ اب یہ مطالبہ نفرت کی وجہ سے نہیں، بلکہ "ضرورت" اور "حکمت" کے تحت تھا۔
کیا اسلام میں جوائنٹ فیملی کا مطلب لازمی طور پر ایک ہی چولہا اور ایک ہی چھت ہے؟ یا پھر جوائنٹ فیملی "دلوں کے جڑے رہنے" کا نام ہے، چاہے مکان دو ہو جائیں؟
حاجی صاحب اب بوڑھے ہو رہے تھے۔ انہوں نے ایک شام سب بیٹوں کو بلایا۔ ان کے ہاتھ میں گھر کے کاغذات تھے۔
"یہ گھر۔۔۔" حاجی صاحب نے دیواروں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ "میں نے اپنی جوانی اس کی بنیادوں میں بھر دی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ میری نسلیں یہیں رہیں۔ لیکن اب مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ درخت جب بڑا ہو جائے تو اسے پھیلنے کے لیے جگہ چاہیے ہوتی ہے، ورنہ اس کی جڑیں آپس میں الجھ کر ایک دوسرے کو مار دیتی ہیں۔"
حاجی صاحب نے ایک ایسا فیصلہ سنایا جس نے سب کو حیران کر دیا۔
"ہم اس گھر کو بیچ کر ایک بڑی زمین لیں گے، جہاں تین الگ الگ پورشن ہوں گے۔ ایک ہی کمپاؤنڈ میں، لیکن الگ دروازے۔ سب کی پرائیویسی بھی رہے گی، اور سب ساتھ بھی ہوں گے۔ اگر یہ ممکن نہ ہوا، تو ہم قریب قریب گھر لیں گے۔"
خاموشی چھا گئی۔ گھر بیچنا؟ یہ صرف عمارت نہیں تھی، یادوں کا ایک عجائب گھر تھا۔ اسد کی پیدائش، وقار کی شادی، ماں کے ہاتھ کے پکوان۔۔۔ سب اس گھر سے جڑا تھا۔
مگر احمد مسکرایا۔ اسے لگا کہ آج اس کے والد نے "روایت" کو "عقل" کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔
اختتامیہ:
کہانی ختم نہیں ہوتی، زندگی چلتی رہتی ہے۔ رحمان منزل بک گئی، اور وہ لوگ ایک نئی جگہ شفٹ ہو گئے جہاں تین چھوٹے مگر الگ فلیٹس ایک ہی بلڈنگ میں تھے۔
اب حیاء خوش تھی۔ اس کا کچن اپنا تھا۔ وہ اپنی مرضی سے پکاتی۔ مگر شام کو عصر کی چائے سب دادا دادی کے فلیٹ میں پیتے۔
زویا کی شادی ہو گئی۔ وہ رخصت ہوتے وقت اپنے والد سے گلے لگ کر بولی، "ابو! آپ نے مجھے اس دن نہیں بچایا ہوتا، تو میں شاید راستہ بھٹک جاتی۔"
جوائنٹ فیملی ٹوٹی نہیں، بلکہ اس نے خود کو "ری سٹرکچر" کر لیا۔
میرے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو اپنے دل میں جگہ دینے کا شکریہ؛ آپ کے اسی ساتھ نے احمد کو یہ حوصلہ دیا ہے کہ وہ زندگی کی حقیقتیں آپ تک پہنچاتا رہے، اور آپ کی اسی محبت سے میری تحریر کا مقصد پورا ہوتا ہے۔
یاد رکھیں.... کہ ضد اور انا کے خول میں بند رہنے سے رشتوں کا دم گھٹ جاتا ہے۔ کھڑکیاں کھولنی پڑتی ہیں، ہوا آنے دینی پڑتی ہے۔ دین ہمیں جوڑتا ہے، جکڑتا نہیں۔ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان وقت کی نبض پہچانے اور رشتوں کی ڈور کو اتنا نہ کھینچے کہ وہ ٹوٹ جائے، اور اتنا ڈھیلا نہ چھوڑے کہ وہ ہاتھ سے نکل جائے۔
اور ہاں! حذیفہ اب بڑا ہو گیا ہے۔ اس کے ہاتھ میں بھی موبائل ہے، لیکن اس کے موبائل کا پاس ورڈ اس کے والد احمد کو معلوم ہے۔ یہ شک نہیں، یہ وہ "حفاظتی حصار" ہے جو جدید دور میں اولاد کو دینا ضروری ہے۔




































