
احمد شفیق
ابلیس کی آخری چال:امن کے نقاب میں "گریٹر اسرائیل" کی تکمیل
میرے دوستو جنوری 2026 کی شدید سردی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جب دنیا کی اشرافیہ جمع تھی، تو وہاں ایک ایسے معاہدے کی بنیاد رکھی گئی جسے بظاہر مشرقِ وسطیٰ کے لیے "آبِ حیات" قرار دیا گیا۔ اس کا نام "بورڈ آف پیس"رکھا گیا۔ بظاہر یہ نام بہت دلفریب، معصوم اور انسانی ہمدردی سے لبریز لگتا ہےمگر تاریخ گواہ ہے کہ فرعون نے بھی خدائی کا دعویٰ "اصلاح" کے نام پر کیا تھا، اور آج کی فرعونی طاقتیں بھی "امن" کے نام پر غلامی کا طوق لے کر آئی ہی ہیں۔
یہ تحریر کوئی جذباتی تقریر نہیں، بلکہ ان خفیہ دستاویزات اور جیو پولیٹیکل حقائق کا پوسٹ مارٹم ہے جو عام میڈیا کی آنکھ سے اوجھل رکھے گئے۔
دھوکے کی نفسیات: زہر کو "شہد" کیسے بنایا گیا؟کسی بھی قوم کو تباہ کرنے کا سب سے جدید طریقہ یہ ہے کہ اسے یہ یقین دلا دیا جائے کہ اس کا قاتل ہی اس کا مسیحا ہے۔ "بورڈ آف پیس" کی بنیاد اسی نفسیاتی کھیل پر رکھی گئی ہے۔
اس معاہدے کا ظاہری چہرہ:
دنیا کو دکھایا گیا کہ غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، وہاں بھوک ناچ رہی ہے، اور بیماری پھیل رہی ہے۔ یہ بورڈ اربوں ڈالر کا فنڈ لے کر آئے گا، ہسپتال بنائے گا، سکول کھولے گا اور غزہ کو دوبارہ تعمیر کرے گا۔
اس معاہدے کا باطنی (اصل) چہرہ:
مگر گہری تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ "تعمیرِ نو" دراصل ایک مشروط سودا ہے۔ اس بورڈ کا آرکیٹیکٹ (خالق) ڈونلڈ ٹرمپ ہے اور اس کا اصل مسودہ تل ابیب میں تیار ہوا ہے۔ اس کی خفیہ شقوں میں واضح لکھا ہے کہ:
"امداد صرف اس صورت میں جاری کی جائے گی جب غزہ کا انتظامی کنٹرول ایک ایسی 'غیر جانبدار کونسل' کے پاس ہو جو اسرائیل کے لیے خطرہ نہ ہو۔"
سادہ الفاظ میں: "روٹی لو، مگر اپنی بندوق اور غیرت جمع کروا دو۔" یہ غزہ کو دوبارہ بسانے کا نہیں، بلکہ غزہ کی مزاحمتی روح کو ہمیشہ کے لیے کچلنے کا منصوبہ ہے تاکہ "گریٹر اسرائیل" کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہو جائے۔
قرآن اور بصیرت: کیا سانپ سے دوبارہ ڈسا جانا جائز ہے؟
بطور مسلمان، ہماری تحقیق کا آغاز ہی قرآن سے ہوتا ہے کیونکہ اللہ کا علم ہر سازش پر بھاری ہے۔ یہ معاہدہ قرآن کے دو واضح اصولوں سے ٹکراتا ہے، جنہیں نظر انداز کر کے پاکستان یا کوئی بھی مسلم ملک اس میں شامل ہو کر اللہ کے غضب کو دعوت دے رہا ہے۔
دلیل نمبر 1: یہود و نصاریٰ کا "تزویراتی اتحاد"
اللہ تعالیٰ سورۃ المائدہ میں فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ
> "اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست (رازدار اور مددگار) نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا، وہ انہی میں سے شمار ہوگا۔" (المائدہ: 51)
>
یہ آیت عام حالات کی بات نہیں کر رہی، بلکہ یہ آج کے سیاسی منظرنامے کی عکاسی ہے۔ آج امریکہ (نصاریٰ) اور اسرائیل (یہود) "بورڈ آف پیس" کی شکل میں ایک ہو چکے ہیں۔ جب یہ دونوں مل کر ایک منصوبہ لائیں، تو قرآن کا حکم ہے کہ ان پر اعتبار کرنا خود کو ان کے ساتھ شامل کرنے کے مترادف ہے۔ کیا ایک مسلمان "امن" کی بھیک اس سے مانگ سکتا ہے جس کے ہاتھ اس کے بھائیوں کے خون سے رنگے ہوں؟ ذرا غور و فکر کریے !!!؟
دلیل نمبر 2: فساد کو امن کہنے والے
اس بورڈ کے داعیان (امریکہ و اسرائیل) بالکل وہی زبان بول رہے ہیں جس کا ذکر سورۃ البقرہ میں ہے:
> وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ
> "اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو کہتے ہیں ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔" (البقرہ: 11)
یہ آیت اس "بورڈ آف پیس" کے ماتھے پر لکھی حقیقت ہے۔ وہ غزہ میں بمباری کر کے زمین کو بنجر کرتے ہیں اور پھر "بورڈ" بنا کر کہتے ہیں کہ ہم اصلاح کر رہے ہیں۔ جو شخص اس قرآنی حقیقت کو جاننے کے بعد بھی اس بورڈ کے حق میں دلائل دے، وہ دراصل قرآن کو جھٹلا رہا ہے۔
- سازش کے مرکزی کردار: ماسٹر مائنڈ کون؟
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کھیل کے پیچھے دماغ کس کا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کیا اپ جاننا چاہیں گے کہ یہ منصوبہ اچانک نہیں بنا، بلکہ یہ 2020 کے "ابراہیمی معاہدوں" کا اگلا اور خطرناک ترین مرحلہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ (دی ڈیل میکر): یہ وہ شخص ہے جو کاروبار کی زبان سمجھتا ہے۔ اس کے لیے فلسطین کوئی "انسانی مسئلہ" نہیں بلکہ "رئیل اسٹیٹ" کا جھگڑا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ عرب ممالک کا پیسہ لگے، اسرائیل کی ٹیکنالوجی لگے، اور فلسطین کا وجود ختم ہو کر وہ اسرائیل کا ایک "تجارتی زون" بن جائے۔
نجامین نیتن یاہو (دی ایگزیکیوشن): نیتن یاہو جانتا ہے کہ وہ جنگ کے ذریعے حماس کے نظریے کو ختم نہیں کر سکا، مگر افسوس یہ اس کا ایک خواب ہی رہے گا ہمیشہ. اس لیے اب وہ "امن" کے نام پر غزہ میں ایسا تعلیمی اور انتظامی نظام لانا چاہتا ہے جو اگلی نسل کو جہاد سے بیگانہ کر دے۔ "بورڈ آف پیس" دراصل اسرائیل کا "حفاظتی حصار" ہے ۔
پاکستان کا المیہ: جب محافظ ہی سوداگر بن گئے
اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ کسی بھی تاریخ کا سب سے دردناک باب وہ ہوتا ہے جب امیدوں کا مرکز ہی مایوسی کا سبب بن جائے۔ پاکستان، جسے "اسلام کا قلعہ" کہا جاتا تھا، اس "بورڈ آف پیس" میں شامل ہو کر اپنی نظریاتی اساس کا قاتل بن گیا ہے۔آپ کے علم میں ہرگز یہ بات نہ ہوگی تحقیق بتاتی ہے کہ ڈیووس میں پاکستانی وفد پر شدید دباؤ تھا کہ اگر انہوں نے اس بورڈ پر دستخط نہ کیے تو آئی ایم ایف کی اگلی قسط روک دی جائے گی اور پاکستان کو "دہشت گردی کا حمایتی" قرار دینے کی دھمکی دی جائے گی۔
ہمارے حکمرانوں نے "ایمانی غیرت" کے بجائے "معاشی سہولت" کا انتخاب کیا۔ انہوں نے یہ نہ سوچا کہ جس ریاست (اسرائیل) کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے "مغرب کی ناجائز اولاد" کہا تھا، آج ہم اسی کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر "امن" کے نام پر فلسطین کا سودا کر رہے ہیں،انتہائی افسوس کی بات ہے. یقین کریں اپ مجھے لکھتے ہوئے بھی شرم ارہی ہے.
پاکستانی میڈیا پر یہ بیانیہ چلایا گیا کہ "پاکستان غزہ کی مدد کے لیے اس بورڈ میں جا رہا ہے۔"
یہ سفید جھوٹ ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ اس بورڈ کے "ووٹنگ رائٹس" امریکہ اور اسرائیل کے پاس ہیں، پاکستان کی حیثیت صرف ایک "خاموش تماشائی" کی ہے۔ پاکستان کا کردار صرف اتنا ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کے غصے کو ٹھنڈا کرے اور یہ تاثر دے کہ "دیکھو! پاکستان بھی تو شامل ہے۔"
مزاحمتی بلاک: جنہوں نے "روٹی" پر "غیرت" کو ترجیح دی
جہاں ایٹمی طاقتیں گھٹنے ٹیک گئیں، وہاں کچھ ایسے کردار سامنے آئے جنہوں نے ثابت کیا کہ طاقت "اسلحے" میں نہیں، "کردار" میں ہوتی ہے۔ ایران، حماس اور حزب اللہ اور بھی کئی نام ہیں انہو نے بورڈ کو یکسر مسترد کر دیا۔ آئیے دیکھتے ہیں ان کی تحقیق اور بصیرت کیا کہتی تھی۔۔
حماس (غزہ): بھوک منظور، غلامی نامنظور
حماس، جو غزہ کے اندر ملبے کے ڈھیر پر بیٹھی ہے، اس بورڈ کی سب سے بڑی ممکنہ بینیفشری (فائدہ اٹھانے والی) ہو سکتی تھی۔ انہیں اربوں ڈالر کی پیشکش کی گئی۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا:
"ہمیں وہ ہسپتال اور سکول نہیں چاہئیں جن کی بنیادوں میں اسرائیل کے تسلط کی اینٹ لگی ہو۔ یہ بورڈ ہماری نسلوں کو ذہنی طور پر غلام بنانے کا منصوبہ ہے ۔ ہم پیٹ پر پتھر باندھ لیں گے، لیکن اسرائیل کو اپنا آقا تسلیم نہیں کریں گے۔"
یہ انکار اس بات کا ثبوت ہے کہ حماس نے دشمن کی چال کو بھانپ لیا کہ وہ اسلحہ چھین کر انہیں "ویلفیئر" پر لگا دینا چاہتے ہیں۔
ایران: واحد ریاستی آواز
سفارتی سطح پر ایران نے اس سازش کا پردہ چاک کیا۔ ایرانی قیادت نے ڈیووس میں واضح کیا کہ:
"امن کا بورڈ تب تک دھوکہ ہے جب تک قابض اور مظلوم کو برابر بٹھایا جائے۔"
ایران نے سمجھ لیا تھا کہ یہ بورڈ دراصل "ابراہیمی معاہدوں" کی توسیع ہے جس کا مقصد ایران کو تنہا کرنا اور عرب دنیا کو اسرائیل کی جھولی میں ڈالنا ہے۔ ایران کا انکار "سیاسی ضد" نہیں بلکہ "اسلامی بصیرت" تھی، جس نے امت کو بتایا کہ سانپ کو کتنا ہی دودھ پلا لو، وہ ڈسے گا ضرور۔
حزب اللہ (لبنان): اسٹریٹجک گہرائی
حزب اللہ نے اس بورڈ کو "زہر کا پیالہ" قرار دیا۔ ان کی انٹیلی جنس نے یہ بھانپ لیا تھا کہ بورڈ کے ذریعے اسرائیل غزہ کے بارڈرز پر اپنی "نگران فورس" تعینات کرنا چاہتا ہے تاکہ مزاحمت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔ انہوں نے اس منصوبے کو مسترد کر کے اسرائیل کے "گریٹر اسرائیل" کے خواب کو چکنا چور کیا۔
حتمی تجزیہ اور فتویٰ
تمام تر شواہد، دستاویزات اور قرآنی احکامات کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں:
شرعی حیثیت: "بورڈ آف پیس" میں شمولیت "حرام" اور اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ یہ کفار کے ساتھ ایسی دوستی ہے جو مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچا رہی ہے (سورۃ المائدہ: 51)۔
سیاسی حقیقت: یہ بورڈ امن کا نہیں، بلکہ "فلسطین کی تدفین" کا بورڈ ہے۔ اس کا مقصد مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ کے لیے ختم کر کے اسے اسرائیل کا اندرونی معاملہ بنانا ہے۔
تاریخ کا فیصلہ: جن لوگوں (پاکستان و دیگر عرب ممالک) نے اس پر دستخط کیے، انہوں نے اپنی عاقبت خراب کی اور تاریخ میں خود کو "میر جعفر" اور "میر صادق" کی صف میں کھڑا کیا۔ جبکہ جنہوں نے انکار کیا (مزاحمتی بلاک)، وہ آج لہو لہان ضرور ہیں، لیکن وہ امت کے ہیرو ہیں کیونکہ انہوں نے "لا الہ الا اللہ" کا پاس رکھا۔
میرے پیارے دوستو یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں ہے۔ ہر ذی شعور مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اس "بورڈ آف پیس" کے خلاف آواز اٹھائے۔ یہ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں، یہ ہماری غیرت کا جنازہ ہے۔اگر ہم نے آج اس "میٹھے زہر" کو قبول کر لیا، تو کل بیت المقدس پر یہودیوں کا مکمل قبضہ ہوگا اور ہم صرف "بورڈ" کی میٹنگز میں مذمتی قراردادیں پیش کر رہے ہوں گے۔فیصلہ آپ کا ہے: آپ حسینی کردار ادا کرتے ہیں یا یزیدی مصلحت کا شکار ہوتے ہیں؟
اختتامی نوٹ:۔
یہ تحریر مکمل ذمہ داری اور تحقیق کے ساتھ لکھی گئی ہے تاکہ پڑھنے والا نہ صرف حقیقت جان سکے بلکہ اس کے دل میں اس سازش کے خلاف ایک ٹھوس دلیل بھی پیدا ہو۔ آپ اس تحریر کو من و عن پھیلا سکتے ہیں۔
حق اور سچائی کا یہ سفر جاری رہے گا، بس دعا ہے کہ اللہ ہمیں حق لکھنے اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق دے۔ اسی امید کے ساتھ اپنے قلم کار احمد شفیق کو اجازت دیجئے، اپنی دعاؤں میں فلسطین کے ساتھ ساتھ اس ناچیز کو بھی یاد رکھیے گا
جزاک اللہ خیر





































