
واشنگٹن( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل ) نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کو مزید شدت دے گا اور اسے “پتھر کے دور میں واپس لے
جائے گا”۔
امریکی عوام سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو نمایاں حد تک کمزور کر دیا گیا ہے اور امریکی افواج جلد اپنے تمام فوجی مقاصد حاصل کر لیں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کارروائیوں میں تہران کی عسکری طاقت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اہم اسٹریٹجک اہداف تکمیل کے قریب ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کا نقصان برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق آئندہ دو سے تین ہفتوں کے دوران ایران کو مزید سخت حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے ایرانی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کی بھی دھمکی دی اور دیگر ممالک، خصوصاً اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالیں۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایک ماہ قبل شروع کیے گئے “آپریشن ایپک فیوری” کے تحت ایران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ قیادت کے اہم افراد بھی مارے جا چکے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ پاسداران انقلاب کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کیا جا رہا ہے، میزائل اور ڈرون داغنے کی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے اور اسلحہ ساز فیکٹریوں سمیت لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس جنگ میں برتری حاصل کر چکا ہے اور دشمن تیزی سے پسپائی اختیار کر رہا ہے۔














