
احمد شفیق
ایک تھا گاؤں جسے لوگ "وادیِ یقین" کہتے تھے۔ وہ یقین جس کی بنیاد صرف صبر اور شکر پر تھی، اس گاؤں کی سب سے بڑی
دولت اس کے بیچوں بیچ بہنے والا "نہرِ تسکین" تھی، جو کبھی خشک نہیں ہوتی تھی۔ یہ نہر گاؤں کی زندگی اور روحانی مرکز تھی مگر پھر وہ وقت آیا جسے بستی والے خاموش آزمائش کہتے ہیں۔
ایک صبح نہرِ تسکین کے کناروں پر صرف لیس دار کیچڑ رہ گئی تھی، پانی نہیں تھا اور نہ ہی کوئی وجہ۔ گاؤں کے سب سے بزرگ اور صاحبِ بصیرت، الیاس نے یہ ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لی کہ وہ اس آزمائش کا راز تلاش کرے گا۔ وہ جانتا تھا کہ پانی کی کمی صرف جسمانی آزمائش نہیں بلکہ اس سے بڑا المیہ دلوں کا خشک ہو جانا ہے۔
الیاس اپنی ضعیف آنکھوں میں پختہ عزم لیے، اس پہاڑ کی طرف نکلا جسے جبلِ سرمد کہا جاتا تھا۔ صدیوں سے یہ روایت تھی کہ جبلِ سرمد کی چوٹی پر ایک "درویشِ لاپتہ" قیام پذیر ہےجو صرف اسی وقت اپنا دیدار کرواتا ہے جب کوئی سائل اپنی انا کو دروازے پر چھوڑ کر آتا ہے۔
پہاڑ کا سفر خوفناک جستجو سے بھرا تھا۔ راستے بظاہر سیدھے تھے، مگر قدموں کے نیچے کی مٹی پگھلنے لگتی، اور ہر قدم پر الیاس کو یہ محسوس ہوتا جیسے کوئی اَن دیکھی شے اس کے ارادے کی طاقت کو تول رہی ہے۔ کئی دنوں کی مسافت کے بعد جب الیاس کا جسم جواب دے چکا تھاوہ ایک غار کے دہانے پر پہنچا جہاں ایک ضعیف مگر نورانی درویش بیٹھا تھا۔الیاس نے اپنے ہونٹ خشک ہونے کے باوجود، نہایت ادب سے گاؤں کی آزمائش بیان کی۔
درویش نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں کائنات کی گہرائی تھی، اور اس کی آواز میں صدیاں گونج رہی تھیں۔
"اے الیاس! تیری بستی کا یقین صرف پانی سے جڑا تھا، لہٰذا پانی ہٹا لیا گیا۔ تیری آزمائش بہت سادہ ہے مگر اس کا بھید تیری سوچ سے پرے ہے۔"
درویش نے اپنی ہتھیلی پر ایک کالی، بدصورت کنکری رکھ دی۔ "مجھے 'سنگِ سکونِ مطلق' لا دو۔ یہ پتھر ہر چیز میں موجود ہے، مگر کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ تیرے پاس صرف سات سورج کی مہلت ہے۔اگر ساتویں شام سے پہلے وہ پتھر نہ لا سکے، تو تیرا گاؤں ہمیشہ کے لیے ریگستان بن جائے گا اور اس پر مہرِ یاس (مایوسی کی مہر) لگ جائے گی،جاؤ، اور ہر اس جگہ تلاش کرو جہاں تمہاری آسودگی چھپی ہے۔"الیاس نے سر جھکا لیا اور تیزی سے واپس پلٹا۔
الیاس نے وحشت کے عالم میں تلاش شروع کر دی۔ اس نے وادی کے ہر دریا، ہر پتھر، ہر کنویں کو چھانا، مگر کوئی پتھر ایسا نہ تھا جو درویش کی ہتھیلی کی سیاہ کنکری سے مختلف ہو۔ وہ جبلِ سرمد کے دامن میں گیا، جہاں صرف زہریلے پودے اگتے تھے۔ اس نے ریگستان کا سینہ چیرا، جہاں آگ برس رہی تھی۔ اس نے ہر فقیر، ہر سادھو سے پوچھا کہ سنگِ سکونِ مطلق کہاں پایا جاتا ہے؟ ہر کسی نے صرف اپنے کاندھے اچکائے۔چھ دن گزر گئے، اور الیاس کا جسم کانٹے کی طرح ہو چکا تھا۔ وہ مایوسی کی آخری حد کو چھو رہا تھا۔ اس کے ذہن میں سسپنس کی سوئی چبھ رہی تھی، اگر وہ ناکام ہوا تو کیا ہوگا؟ کیا درویش جھوٹا تھا؟ یا پتھر اتنا اہم ہے کہ خدا نے اسے دنیا سے چھپا دیا ہے؟
چھٹے سورج کے ڈوبنے کے وقت، الیاس نے اپنے ہتھیار (امید اور جدوجہد) پھینک دیے۔ وہ ایک بے آب و گیاہ چٹان پر بیٹھ گیا، جہاں کوئی سایہ نہ تھا اور جہاں سے وادیِ یقین صرف ایک دھندلا نقطہ دکھائی دیتی تھی۔اس نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر اپنی ناکامی کی گہرائی کو محسوس کیا۔ اس نے سوچا، "اب میں کیا کروں؟ نہر سوکھ گئی، یقین ٹوٹ گیا، اور میں اپنی بستی کو بچانے میں ناکام رہا۔ میرا ہر عمل، میری ہر جدوجہد، میرا ہر دن کا سفر—سب فضول تھا۔"
اس گہرے دکھ، اس مکمل ہار کے لمحے میں، الیاس کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکا اور اس کے ہاتھ پر گرا۔ یہ آنسو مکمل تسلیم کا تھا۔اسی لمحے، اسے یوں لگا جیسے کائنات نے سانس لینا بند کر دیا ہو۔ ہر شے خاموش ہو گئی—نہ ہوا کی سرسراہٹ، نہ پرندوں کی آواز، نہ اس کے دل کی دھڑکن۔ اس نے آنکھیں بند کر کے اس مکمل اور مطلق سکون کو اپنے اندر محسوس کیا جو کسی بھی کوشش، کسی بھی امید یا کسی بھی خوف سے پاک تھا۔ وہ سکون جو ناکامی کو بھی قبول کر لیتا ہے۔
اور پھر اسے وہ راز سمجھ آ گیا۔
چلیں میں آپ کو بتاتا ہوں روحانیت کا انکشاف:الیاس کو یاد آیا کہ درویش نے کہا تھا "سنگِ سکونِ مطلق ہر چیز میں موجود ہے، مگر کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ پتھر وہ نہیں جسے تم تلاش کرتے ہوبلکہ تلاش خود پتھر ہے۔"
سنگِ سکونِ مطلق کوئی مادی پتھر نہیں تھا؛ وہ سکون تھا جو صرف انسان کی روح میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ تمام خواہشات اور جدوجہد کو ترک کر کے اپنی بے بسی کو قبول کر لیتا ہے۔ وہ سکون جو آزمائش کے عین مرکز میں پایا جاتا ہے۔ درویش کی دی گئی کالی کنکری صرف ایک 'نشان دہی' تھی: باہر کی دنیا کی بدصورتی، اور اندر کی دنیا کا سکون—ان دونوں کا توازن ہی زندگی ہے۔
الیاس ہلکا پھلکا، مگر ابدی یقین سے بھرپور، ساتویں صبح درویش کے پاس پہنچا۔ اس کے ہاتھ خالی تھے۔
"کیا لائے ہو، الیاس؟" درویش نے پوچھا، اس کے چہرے پر بے تاثر مسکراہٹ تھی۔
الیاس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "میں کچھ نہیں لایا، میرے مرشد! مگر میں اس 'کچھ نہیں' کو اپنے اندر بسا کر لایا ہوں۔ میں 'سنگِ سکونِ مطلق' کو اپنے سینے میں کندہ کر کے لایا ہوں، کیونکہ وہ پتھر جو دنیا میں سب سے بڑا سکون دیتا ہے، وہ ہے دل کا سکون جب وہ آزمائش کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ میری آزمائش نہر کے سوکھنے کی نہیں تھی، بلکہ میری یہ آزمائش تھی کہ میں سکون کو دنیا میں تلاش کرتا ہوں یا اپنے باطن میں۔"درویش کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس نے نور کی چادر اوڑھ لی۔ "تو نے میرا بھید پا لیا، الیاس۔"
اسی لمحے، دور وادیِ یقین میں، زمین سے ایک گرج دار آواز اٹھی۔ نہرِ تسکین پھر سے پانی سے لبالب بھر گئی مگر اب وہ پانی صرف پیاس نہیں بجھا رہا تھا بلکہ ہر قطرہ الیاس کی روحانی فتح کی گواہی دے رہا تھاپھر کیا ہوا پھر کچھ یوں ہوا الیاس نے اپنے گاؤں والوں کو یہ داستان سنائی۔ نہر کا پانی واپس آ چکا تھا، مگر اب کسی کی نگاہ پانی پر نہیں تھی، سب کی نگاہیں الیاس کی آنکھوں میں تھیں، ان آنکھوں میں جن میں اب سنگِ سکونِ مطلق کی روشنی بستی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ آزمائشوں کی یہ کہانی ہر بستی اور ہر دل تک پہنچائی جاتی ہے: وہ جستجو جو ہمیں باہر کی دنیا میں الجھا کر رکھتی ہے، صرف ایک پردہ ہے اور اصلی روحانی سکون وہ لمحہ ہے جب ہم آزمائش کے دوران بھی اندر کی خاموشی کو تھام لیتے ہیں۔ نہرِ تسکین کا پانی تو لوٹ آیامگر جو سکون لوٹا، وہ ابدی ہے۔





































