
احمد شفیق
جب بھی خدا کےراستے میں قربانی کی بات ہوتی ہے، ایک نام چمکتا ہے:شیخ یحییٰ سنوار حفظہ اللہ کا۔ ان کے الفاظ ہیں "خدا کی راہ میں مرنا میری آرزو
ہے، جب موت کا وقت ہوگا ہزار میل گہرائی میں بھی مرجاؤں گا۔" یہ الفاظ ہمارے دلوں کی گہرائی میں اُتر جاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ ایک عزم کی داستان رہا لیکن افسوس کہ ان کی یہ آرزو ایک کٹھن حقیقت میں بدل گئی،جب اسرائیلیوں نے انہیں شہید کر دیا۔
فلسطین کی سرزمین، جسےانبیاء کی سرزمین کہا جاتا ہے،آج ایک قیامت کی گواہی دے رہی ہے۔ یہاں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جا رہےہیں، وہ دل کو چیر دینے والے ہیں۔ہر روز کی صبح ایک نئی آہ و فغاں کے ساتھ ہوتی ہے، جہاں معصوم بچوں کی آہیں اور بے گناہ لوگوں کے خون کا آنسو، پوری انسانیت کی غیرت کو جھنجھوڑ رہاہے۔
ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس حد تک ان مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ ہم تو بائیکاٹ تک نہیں کرتے، اسرائیلی مصنوعات کا جبکہ ہم اپنی زندگی میں مزے سے رہ رہے ہیں ۔ ہمیں ان مظلوموں کی حالت کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ کیا ہم اتنے بے حس ہو چکےہیں کہ ہمیں ان کے درد کا کوئی احساس نہیں؟ یہ سوال ہمیں جھنجھوڑتا ہے لمحہ فکریہ ہے اور سوچنے کی بات ہے ہم کیسے مسلمان ہیں۔
ہمیں چاہیےکہ اگر ہم اپنےقلم سے،اپنی آوازسے، یاویڈیو بنا کرسوشل میڈیا پرپوسٹ کر کے، بائیکاٹ کےذریعے، جیسے بھی ممکن ہو،ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ یہ صرف ایک جنگ میں شرکت نہیں بلکہ ہمارے فرض کی ادائیگی ہوگی ۔
فلسطین میں اسرائیلیوں نے جو ظلم کیا ہے،وہ ناقابل برداشت بن چکاہے۔ہرفلسطینی کی جان،ہرآہ، ہمیں ایک نئے عزم کی طرف بلاتی ہے۔ یہ درد ہماری آنکھوں کے سامنے ہے لیکن ہم کچھ کر نہیں پاتے۔۔۔۔ کیوں کیوں کیوں کیوں۔
کیا یہ خاموشی ہمارے ایمان کا امتحان نہیں؟ ہمیں اپنے دلوں میں وہ غیرت جگانی ہوگی جوہمارے بزرگوں کی میراث ہے۔آج ہمیں اپنی غیرت کو جگانا ہوگا تاکہ ہم ان مظلوموں کی حمایت کر سکیں ، اب نہیں تو کبھی نہیں۔
ہر ایک آنکھ جو فلسطینیوں کےدرد کو دیکھ کرآنسو بہاتی ہے،وہ ایک نئی روشنی کی امید ہے۔ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اس درد کو محسوس کریں اور ایک نئی صبح کی راہ ہموار کریں جہاں فلسطین کی سرزمین پر امن و محبت کا دور دورہ ہو۔
یہ وقت ہےکہ ہم اپنے دلوں کےکرب کو سمجھیں اورفلسطین کےان بہادر لوگوں کی خاطر کھڑے ہوں۔ فلسطین کی امید کبھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ کے وعدے کبھی جھوٹے نہیں ہوتے۔ ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور ان مظالم کے خلاف مل کر آواز بلند کرنی ہوگی۔کیونکہ اصل امتحان ان لوگوں کا نہیں ہمارے ایمان کا ہے۔





































