
نگہت سلطانہ
اردو اور انگریزی پریکساں عبور رکھتے ہیں،مسحور کن قرات اور دلگداز نعت خوانی ان کا
وصف ہے۔۔۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں، انتہائی مدلل اور اعداد و شمار کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں، نوجوانوں کے امور اور نوجوانوں کی نفسیات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔۔
قارئین! آپ کہیں گے یہ کوئی پہیلی ہے یا تشریح طلب پیراگراف۔۔۔؟
تو جناب! ایسا نہیں ہے یہ کوئی پہیلی ہے نہ ہی پیراگراف بلکہ ہم تو بات کر رہے ہیں حافظ نعیم الرحمٰن صاحب کی ۔۔۔15 مارچ 2026ء کو جیو نیوز کے پروگرام "جرگہ" میں مدعو تھے۔ گفتگو کے دوران معیشت کے حوالے سے جو کہا تو وہ ہمیں لگا کہ ہمارے منہ کی بات چھین لی ۔۔۔
کہنے لگے "اسٹاک مارکیٹ میں کھڑے ہو کر کہہ دینا کہ مہنگائی ختم ہو گئی، بھئی آپ یہ سوال کسی خاتونِ خانہ سے پوچھیں، ایک مزدور سے پوچھیں ،سرکاری ملازم سے پوچھیں۔"
بالکل ایسا ہی ہے ۔ ہم خواتین سے پوچھیں کہ مہنگائی کم ہوئی ہے یا بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔۔۔سلیم صافی نے جب پوچھا کہ "جنگ کی وجہ سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ ناگزیر تھا، کیا کوئی اور چارہ کار تھا ؟"
تو حافظ صاحب نے کہا بالکل تھا لیوی کم کر دیتے نا۔۔۔
پھر انہوں نے پورے اعداد و شمار کے ساتھ وضاحت کی کہ کس طرح غریب بائیکیا والا ،ان ڈرائیو والا اور ایک اسٹوڈنٹ جو کماتا نہیں بلکہ اسٹڈیز میں مصروف ہے، اس کو بائیک چلانا پڑتی ہے، تو کس طرح ہماری حکومت ان طبقات سے پٹرول کی قیمت میں اضافے کے نام پر ٹیکس وصول کر رہی ہے
اس کے بعد حافظ صاحب نے ایک اور بات کی بالکل یہی بات سوال کی صورت ہمارے ذہن میں بھی ہے اور وہ یہ کہ یہ حکومت پٹرول کی لیوی کی مد میں 1200 ارب روپے غریبوں سے وصول کر رہی ہے تو 1100 ارب روپے کا مریم نواز کا جہاز بیچنے کا خیال کیوں نہیں آیا ؟؟؟
یہاں حافظ صاحب کی طرح کے پی حکومت کے فیصلے کو ہم بھی سراہتے ہیں کہ ہر نوجوان کو پٹرول کی مد میں 2200 روپیہ دیا جائے گا ہر ماہ۔۔۔
سلیم صافی نے ایران امریکہ جنگ کی بات چھیڑی تو حافظ صاحب نے شکوہ کیا کہ "ایک مرتبہ بھی کھل کر مذمت نہیں کی ٹرمپ کا نام لے کرہماری حکومت نے اور نہ ہی اپوزیشن نےسوائے مولانا فضل الرحمان کے۔
قارئین جنگ کا اور ٹرمپ کا تذکرہ آگیا ہے تو ہم ٹرمپ کی جگ ہنسائی کا اور اس کی بے بسی کاتذکرہ کرتے چلیں، کیونکہ حکومت اور اپوزیشن کے تو شائد اپنی سیٹ /کرسی کی ضمانتوں کے کچھ چکر ہونگے ٹرمپ کے ساتھ ،مگر ہم تو آزاد ہیں تو بات یہ ہے کہ ٹرمپ خاصے مشکل میں اور دباؤ میں گھر چکے ہیں ۔
جو حالیہ شدید ہزیمت کا سامنا ہے، وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے اتحادیوں کی طرف سے مکمل عدم تعاون کا معاملہ ہے۔۔۔سوئٹزرلینڈ نے امریکی فوجی طیاروں کو اپنی حدود استعمال کرنے سے روک دیا۔۔۔برطانیہ نے کہا ہے جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔۔۔امریکہ کے معاشی اتحادی جاپان نے آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کردیا۔۔۔۔چین خاموش ہے۔۔۔جنوبی کوریا صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔۔۔فرانس انکار کر چکا ہے۔۔۔
اب ٹرمپ صاحب رونی صورت بنا کر کہتے ہیں۔۔"ہم نے ہمیشہ اتحادیوں کی مدد کی مگر ہماری مدد کو کوئی نہیں آیا۔۔۔"بلاشبہ ٹرمپ کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا ہے ایران کے قومی عزم نے۔ خود دار قوم اور ایرانی حکومت ایک پیج پہ ہیں ۔۔۔زندہ رہنے کا گُر پا لیا ہے انھوں نے کہ دشمن خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ہم مرعوب ہوں گے نہ خوفزدہ۔۔۔ایک غیر قانونی جنگ ان پہ مسلط کی گئی ہے، ان کے سپریم لیڈر کو شہید کیاگیا، ان کے تعلیمی اداروں پہ بمباری کی گئی۔۔
اب ان کا اعلان ہے کہ" یا ہم نہیں یا تم نہیں۔ مرجائیں گے جھکیں گے نہیں۔۔۔" ٹرمپ اور اسرائیل شدید بمباری کر کے جتنا بھی طاقت کا مظاہرہ کرلیں یہ عزم یہ اعلان ان کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔مرتا کیا نہ کرتا ٹرمپ نے لاریجانی کے بارے معلومات فراہم کرنے والے کے لیے دس لاکھ ڈالر انعام مقرر کردیا۔۔۔لاریجانی نے جواب میں امام حسین رضی اللہ عنہ کا یہ قول ٹویٹ کیا "میں موت کو سعادت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو ذلت اور خواری کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔۔"
اور۔۔۔۔۔
قارئین! ہم تحریر مکمل کرہی رہے تھے کہ خبر آگئی کہ علی لاریجانی نے سعادت کی موت کو گلے سے لگا لیا ۔۔۔قافلہ حسین کے لٹ جانے کےقصے، سارے خاندان کی قربانیوں کی روایتیں مزے لے لے کے بیان کرنے والے تو آج بہت ہیں، مگر مطلوب تو یہ ہے کہ ان کے راستے کا انتخاب کون کرتا ہے۔اس مرحلے پہ آ کے آج کا مؤرخ بتا رہا ہے کہ چند ایک ہی نام ہیں جو خود کو پیش کررہے ہیں اور اعلان کررہے ہیں کہ
سر دے کے جو پائے وہ روایت ہے حسینی
جھک جائے جو باطل پہ وہ گردن نہیں ہوتی
قافلہ حسین راہِ عزیمت پہ رواں دواں ہے۔ آج علی لاریجانی بھی اس میں شامل ہوچکے۔۔ہم اس عالمی مجاہد ،ڈائریکٹر جہاد، عظیم شہید اور راہِ حق کے اس بے مثال رہنما کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔۔۔موت اٹل ہے۔۔۔جانا ہر ایک کو ہے۔۔فنا ہر فرد ہر قوم کا مقدر ہے۔۔لیکن تاریخ اپنے روشن ابواب میں صرف انھی کا نام محفوظ کرتی ہے جو بزدلی،خوف ،پسپائی، مرعوبیت کا استعارہ نہیں بلکہ عزم، ہمت اور خودداری کی مثال بنتے ہیں۔
کاش عزم، ہمت، اور خود داری کی کوئی چنگاری ہمارے حکمرانوں اور اپوزیشن کے دماغوں کے اندر بھی بھڑک اٹھے اور یہ بے چارے ٹرمپ کے جادو اثر خوف سے کچھ باہر آ جائیں۔۔۔کچھ صحافی/تجزیہ کار/مبصرین بھی ایسے ہیں جن کا ذہن مرعوبیت کے وائرس کا مقابلہ نہیں کر پا رہا۔۔ ان لوگوں کا بس ایک ہی کلمہ ہے کہ 'امریکہ بہت طاقتور ہے ہم اس کے ساتھ پنگا نہیں افورڈ کرسکتے'. وغیرہ وغیرہ۔۔۔
ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ آنکھیں بند کر کے کسی بھی جنگ کا حصہ ہم نہیں بن سکتے۔(ہاں اپنے سے کمزور پہ چڑھائی کر رہے ہیں ہم مثال کے طور افغانستان۔۔۔۔)
لیکن بھئ! قوم کو امریکہ سے ڈرانا کیا ضروری ہے؟؟؟
آپ کب سمجھیں گے یہ حقیقت کہ سب سے بڑی طاقت اور حقیقی قوت کاسرچشمہ ربِّ ذوالجلال کی ذات ہے۔۔۔
آپ کب قبول کریں گے فتح و شکست کا حقیقی فلسفہ کہ
عباس کے لہجے میں یہ کہتی ہے شہادت
ذلت کی جِلا سے ہے بھلی موت کی ظلمت





































