
نگہت سلطانہ
جہاد امت مسلمہ کے ماتھے کا حسین جھومر ہے۔تاریخ گواہ ہے جب جب اس جھومر کو اتار پھینکا ذلت ورسوائی مقدر ٹھہری۔۔
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہ نے عمر بن عبید اللہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی میں جس میں دشمن سے سامنا تھا فرمایا لوگو دشمنوں سے مڈ بھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو لیکن جب ان سے مڈ بھیڑ ہو جائے تو صبر سے کام لو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔(بخاری)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا تھا کہ اپ مجھے اپنا طریقہ یعنی سنت بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں جو کچھ فرمایا وہ انتہائی خوبصورت الفاظ ہیں، ان میں سے ایک فقرہ یہ بھی ہے ''جہاد میری خصلت ہے''۔۔۔۔(بخاری و مسلم)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو مادی اموال تھے ،ان کا جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ گھر میں مہینہ مہینہ چولہا نہیں جلتا تھا ۔ضروریات زندگی انتہائی محدود مقدار میں بھی گھر کے اندر نہیں ہوا کرتی تھیں لیکن اپ کے پاس نو تلواروں کا پایا جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج ،آپ کے مقاصد کی سمت کے تعین کے لیے کافی ہے یہ نو تلواریں اج بھی ترکی کے مشہور میوزیم میں موجود ہیں ،مثلا الماثور ٫ العضب ٫ ذولفقار اور البتار۔
امت نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کو قصہ پارینہ بنا دیا تو انہی کی عالیشان یونیورسٹیوں سے تعلیم پائے ہوئے گنوار یورپی و مغربی ساری دنیا کے امام بن بیٹھےاور پھر امام کیا بنے دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون جاری کر دیا کیونکہ ان کی جبلت میں خود غرضی،فطرت سے انحراف اور کینہ کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے ۔دوسری قوموں کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنا ان کے نزدیک کوئی بڑا جرم نہیں ۔
کسی بھی علاقے پر طاقت کے بل بوتے پر چڑھائی کر کے قبضہ کر لینا اور اسے قانونی جواز دے لینا ان کی بین الاقوامی سیاست کا حصہ ہےحقوق بس وہی ہیں جو ان کی قوم کو مل جائیں باقی سب جائیں بھاڑ میں۔۔۔۔۔۔امریکہ کی سرپرستی میں غزہ کو قبرستان بنا دیا اسرائیل نے 70 ہزار جیتے جاگتے لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ہزاروں معصوم بچوں کو شہید کر دیا یتیم کر دیا اپاہج کر دیا ۔۔۔
غنڈہ گردی بدمعاشی کی حد دیکھیے کہ مشرق و مغرب میں اس غنڈہ گردی کے خلاف بلند ہونے والی صدائے احتجاج کوبڑی شدت سے دبانے کی کوششیں کی گئیں ۔۔۔۔۔غنڈہ صدر نے وینزویلا کے تیل پر قبضہ کرنے کے لیے کھلم کھلا بدمعاشی کی اور بے حسی کی انتہا دیکھیے کہ یورپی اور مغربی حکومتیں خاموش رہیں۔۔
افسوس صد افسوس بلکہ ہزار افسوس کہ اس غنڈہ صدر کی چاپلوسی کرنے والے اس کو نوبل انعام کا حقدار ٹھہرا رہے ہیں ۔ اس کے بعد اس نے تمام بین الاقوامی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایران پہ چڑھائی کر دی ۔۔۔۔ہاں لیکن ایران وینزویلا نہیں تھا یہی بھول گیا ،یہ ڈاکو اور پھر کیا ہوا ایران نے اس ڈاکو کو خوب تگنی کا ناچ نچا کے رکھ دیاکہ ڈاکو بدحواسی میں ان دو ہفتوں کے دوران دسیوں مرتبہ یو ٹرن لے چکا ہے، بیسیوں مرتبہ جھوٹ بول چکا ہے، اپنے ہی گھر سے اس کی مخالفت ہو رہی ہے اپنے ہی ملک میں اس کی مقبولیت کا گراف خاصا نیچے جا چکا ہے۔
زبانیں خاموش بھی ہوں لیکن دل اس کی نفرت سے بھر چکے ہیں۔۔۔۔امریکہ جنگ کے ابتدائی دنوں ہی میں اپنی جیت کا دعویٰ کر رہا تھا
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کو کون سی جیت ہوئی ہے تو۔۔۔۔جیت نام ہے اگر بندے مار دینے کا تو بالکل امریکہ جیت گیا ۔جیت نام ہے اگر دشمن ملک کے پانی کے ذخائر اور تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کی خواہش پورا نہ ہونے پر ان کو تباہ کرنے کے جنون کا تو جی ہاں امریکہ فاتح ہے ۔جیت نام ہے اگر معصوم بچیوں بے گناہ شہریوں کے قتل عام کا تو یہ تو غزہ میں بھی امریکہ کو فتح ہوئی۔۔۔۔۔ یہی فتح ایران میں بھی اسی کے نام ہے۔۔
امریکہ ہماری دنیا کا وہ فاتح ہے کہ آج جس کی نفرت سے اس روئے زمین پر بسنے والے ہر انسان کا دل بھرا پڑا ہے،بہرحال ایران نے خوب پھینٹی لگائی ہے اسے بے نقاب کر دیا ہے، اس کا غرور کافی حد تک خاک میں مل گیا ہے۔۔
دشمن پہ وار یلغار
اللہ کے سپاہی
شیروں کی دھاڑ للکار
باطل کی تباہی۔۔۔۔
آج عالم انسانیت کو خالق کل کائنات نے ایک موقع دیا ہے، سارے انسان مل کر باطل کی تباہی کو مقصد بنا لیں تو ہماری دنیا کا نقشہ بدل جائے ۔۔۔۔
خدارا تمام اختلافات پس پشت ڈال دیجئے۔ عربی و عجمی کا فرق ختم کر دیجئے۔ شرق و غرب کے فاصلے سمیٹ دیجئے۔ایک خدا، ایک رسول ،ایک کتاب پر ایک ہو جائیے ۔
ورنہ خدا نخواستہ شیطان کوئی بڑی چال چل جائے گا ،باطل تو مٹ مٹ کے اٹھنے کی کوشش کرے گا ،وہ کتنا ہی شکست خوردہ ہو جائے ہار ماننے والا نہیں ہے ۔امت کے وسائل پہ اس کی رال ٹپکتی ہی رہے گی، اس کی ہوس کو لگام دینے کا واحد راستہ اللہ کی کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھام لینا اور اپنے مقصد وجود کی تکمیل کے سفر کا آغاز کرنا ہے ۔
بات کی جائے پاکستان کی تو ہمارے حکمرانوں نے غربت و بے روزگاری کی ماری قوم پہ پیٹرول بم گرانے میں جس عجلت سے کام لیا کہ رونا بھی بہت ایا اور ہنسی بھی بہت ائی کہ اپ خود کہہ رہے ہیں کہ 28 دن کا پیٹرول ہمارے پاس موجود ہے تو بھئی 10٫15 دن ٹھہر جاتے پھر قیمتیں اوپر لے کے جاتے اور ہماری معلومات کے مطابق تو یہ جو قیمتیں بڑھائی گئی ہیں یہ ائی ایم ایف کے کسی پہلے والے منصوبے کا حصہ ہے لیکن اپ تعلق جوڑ رہے ہیں رہے ہیں اس کا جنگ کی صورتحال سے ۔۔۔۔
گزارش کریں گے کہ پیٹرول کی قیمتوں پر سنجیدگی سے نظر ثانی کی جائے ۔علاوہ ازیں اپنے گھر کے معاملات کو درست کرنا ہوگا یوں کہ اس خوش فہمی سے اپ باہر نکل ائیں کہ چونکہ امریکی صدر اپ کی بہت تعریف کرتا ہے لہذا اپ نشانے پر نہیں ہیں۔۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔باطل قوتوں کو مضبوط ایران کے بعد ایٹمی پاکستان بھی کسی طرح گوارا نہیں۔۔۔۔۔۔ لہذا اب ہمیں بھی خود کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہے نظریاتی طور پہ بھی اور جغرافیائی اعتبار سے بھی۔۔۔۔۔کچھ سوال اور کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں۔۔
نوجوانوں کو ہولی اور بسنت جیسے تماشوں کا عادی مت بنائیں۔ اپنے خاندان کی پرتعیش زندگی اور امیرانہ ٹھاٹ باٹھ اور راگ رنگ سے آراستہ اپنے خاندان کی تقریبات کی ویڈیوز وائرل کر کے قوم کو ان چیزوں کی تحریص مت دلائیےکیونکہ یہ طے ہے کہ تقدیر امم میں طاؤس و رباب نہیں شمشیر و سناں حیرت انگیز کردار اداکیا کرتی ہیں۔۔وقت آگیا ہے کہ نوجوانوں کی تربیت اسلام کے بتائے اصولوں کے مطابق کی جائے۔۔۔ شہری دفاع کی تربیت ہر یونیورسٹی میں لازمی کر دی جائے ۔۔۔نوجوانوں کی نظریاتی و جسمانی مضبوطی کے لیے ان کے اندر اپنی درخشاں تاریخ سے مکمل آگہی کے ساتھ جسمانی ورزشوں اور صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔
نوجوانوں کے اندر پائی جانے والی مایوسی کا علاج ہمارے وزرا و مشیران کی بڑی بڑی گاڑیاں اور خواتین وزرا و مشیران کی کھلی زلفیں اور غازہ و مسکارا اور قیمتی لباس کی نمائش اور آپ کی تصاویر والے بڑے بڑے پوسٹرز میں نہیں ہے۔۔۔۔حکومتی عہدے داران کو اپنے لائف سٹائل پہ توجہ دینا ہوگی نظر ثانی کرنا ہوگی۔۔اج آپ جس بچت اسکیم کا اعلان کر رہے ہیں کیا یہ شروع دن ہی سے نہیں نافذ ہونا چاہیے تھی؟ کیا جنگیں ہمیں سدھارنے آئیں گی؟؟کیا اربوں کھربوں روپے کے قرضے کے بوجھ تلے دبی قوم کے حکمرانوں کے یہ رنگ ڈھنگ ہوتے ہیں جو آپ کے ہیں؟شرم آنی چاہیے۔۔۔۔
نوجوان خودکشیاں نہ کریں تو کدھر جائیں۔ جب وہ زمینی حقائق اور حکمرانوں کی شاہ خرچیوں میں زمین آسمان کا تضاد دیکھتے ہیں تو اپنی زندگی انھیں بوجھ لگنے لگتی ہے۔۔۔۔لہٰذا سادگی اور بچت اسکیم کا مستقل بنیادوں پہ نفاذ کیجیے۔۔۔خطے میں اپنے دوستوں میں اضافہ کیجیے۔ جھونپڑیوں ٫غاروں، پہاڑوں٫ افلاس زدہ لائف اسٹائل والے اپنے ہمسایہ ملک پر ایک ایٹمی قوت کی فضائی بمباری کوئی بہادری نہیں۔کسی طرح عقلمندانہ نہیں۔۔۔ گہری بصیرت حکمت اور دور اندیشی کے ساتھ معاملے کو حل کرنا ہوگا۔
ایک عربی شعر پرتحریر ختم کرتی ہوں۔۔
فی سبیل اللہ سرنا۔۔۔۔۔عبرساحات القتال
ایھاالتاریخ عدنا۔۔۔۔۔قد رجعنا من جدید





































