
شبانہ اشفاق
سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اس نے مشین کے اندر مختلف معلومات کی ڈیوائس فٹ
کر کے اس کو غلط اور صحیح کا سینس دے کرانسانوں کے لئے ہر معلومات فراہم کردی ہے ۔ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے ، پہلے ایمازون اس کے بعد جی پی ڈی اور اب اے آئی آج کی ضرورت بن چکا ہے جو بھی اس کو استعمال کرنا سیکھ گیا وہ ترقی کی راہ پر کامزن ہو گیا کیونکہ ہماری معیشت کے جو پہلے طریقے تھے وہ اب پیچھے رہ گئے ہیں ، جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہمارے کاروبار اور سروسزآن لائن ہیں۔
اگر ہم اس جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ نہیں چل پائے تو پھر امیر امیر ہوتا جائے گا اور غریب غریب رہ جائے گا۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ چلنا ہوگا، ورنہ ہم پیچھے رہ جائیں گے، اے آئی ارٹیفیشل انٹیلجنس یعنی مصنوعی ذہانت یہ انسان کے ہر سوال کا جواب بتا سکتا ہے ،یہ تو مصنوعی مشین ہے ۔ سورۃ بقرہ آیت 30-33 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اور یاد کرو کہ جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا آپ زمین میں خلیفہ مقرر کریں گے جو فساد اور خون ریزی کرے گا ۔ ہم تیری حمد اور تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔
اللہ نے کہا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے اور اس نے سکھا دیے آدم کو تمام اشیاء کے نام پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان اشیاء کے نام بتاؤ انہوں نے کہا کہ تو پاک ہے ہمیں تو تو نے جو بتایا اس کے سوا کوئی علم نہیں ۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے ۔۔۔کہا اے ادم ان کو اشیاء کے نام بتاؤ تو آدم نے بتائے ۔۔۔۔کتنے خوبصورت مکالمے ہیں اللہ اور فرشتوں کے درمیان ۔۔۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے دماغ میں بھی معلومات کا منبع ڈیوائس کی صورت میں فٹ کر رکھا ہے لیکن انسان قدرتی اور اصل ہے جبکہ اے آئی کی معلومات مصنوعی ہیں ،بہرحال اس کو سیکھنا آج کی ضرورت ہے ۔
اے ائی سے کاروبار کریں
پہلے دماغ میں اسٹوری بنائیں مثال کے طور پر ہمیں گاڑیوں کا کاروبار کرنا ہے تو سب سے پہلے ہم مکینک ہائر کریں گے اور پھر اس کے بعد مرسڈی اوپن، ایم یو وی ،کے ایس یو وی ،ان گاڑیوں کے مطابق معلومات لیں گے اور مکینک کو وہ معلومات اور ویڈیو دیکھنے کے لیے کہیں گے ۔ اب مکینک کو بھی اسمارٹ بنا رہے ہیں اور اے ائی سے مرسڈی کی معلومات لے کر مکینک تک پہنچا رہے ہیں۔ اس کو بھی ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ اب آپ کے پاس فون آتا ہے کہ سفر کے دوران میری مرسڈی میں یہ پرابلم آگئی ہے، اس کو کیسے درست کیا جائے ، آپ مکینک سے پوچھ کر اس کو بتا دیتے ہیں اور اس طرح آن لائن جو پیسہ آتا ہے وہ آپ کے پاس آتا ہے، جب کہ آپ نے کچھ نہیں کیا صرف معلومات دے کے آگے پہنچا دی ہے ، بس اس جدید دور میں اسکیل سیکھنے کی ضرورت ہے ۔
اے آئی کی مدد سے ہم ایجوکیشن کو بھی بہتر کر سکتے ہیں ۔
کسی بھی زبان کو سیکھنے کے لیے کنونشن کی ضرورت ہوتی ہے ،ہم انگلش گرامر کو لکھ بھی لیتے ہیں اور پڑھ بھی لیتے ہیں اور سمجھ بھی لیتے ہیں لیکن بولنے میں مشکل ہوتی ہے اس سلسلے میں اے آئی مدد کر سکتا ہے کیونکہ وہ موقع فراہم کرتا ہے کہ آپ اس کے ساتھ کنوینشن کر سکیں ۔وہ فورا ًفیڈ بیک دیتا ہے۔ آپ اے آئی کو بتائیں کہ میرا تلفظ یا گرامر یا میں سوال صحیح طور پر نہیں کر سکتا ۔ آپ اس سلسلے میں میری مدد کریں ،وہ آپ کی مدد کرتا ہے اور اپ کو صحیح تلفظ بتاتا ہے۔ بہت سے لوگ انگلش بولتے ہیں مگر ان کا تلفظ صحیح نہیں ہوتا ،اے آئی کی مدد سے ہم لفظوں کی ادائیگی ٹھیک کر سکتے ہیں اے آئی ہمیں لکھنے پڑھنے اور سننے میں مدد دیتا ہے۔
جہاں اے آئی کے فوائد ہیں وہاں اے آئی کے چیلنج اور اخلاقی مسائل بھی ہیں۔اے آئی کے چیلنجز اور اخلاقی مسائل بہت اہم ہیں اور ان پر غور کرنا ضروری ہے۔
کچھ اہم چیلنجز اور اخلاقی مسائل یہ ہیں:
چیلنجز:
ملازمتوں کا خاتمہ: اے آئی کی ترقی سے بہت سی ملازمتوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر وہ ملازمتیں جو روٹین کے کاموں پر مبنی ہیں۔
ڈیٹا کی حفاظت: اے آئی کے لیے بہت زیادہ ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے جس سے ڈیٹا کی حفاظت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
بیاسڈ الگورتھم: اے آئی کے الگورتھم بیاسڈ ہو سکتے ہیں جس سے غیر منصفانہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
سیکیورٹی: اے ائی سسٹم ہیک ہو سکتے ہیں جس سے بہت بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔
اخلاقی مسائل:
پردہ داری: اے آئی کے ذریعے لوگوں کی پردہ داری کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، خاص طور پر جب ان کی معلومات کا استعمال غیر قانونی طور پر کیا جائے۔
انسان کی آزادی: اے ائی کے ذریعے انسان کی آزادی پر پابندی لگ سکتی ہے، خاص طور پر جب ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوا جائے۔
ذمہ داری: اے آئی کے ذریعے ہونے والے نقصان کی ذمہ داری کس پر ہو گی، یہ ایک اہم سوال ہے۔
انسان کی شناخت: اے ائی کے ذریعے انسان کی شناخت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، خاص طور پر جب ان کی معلومات کا استعمال غیر قانونی طور پر کیا جائے۔
ان چیلنجز اور اخلاقی مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمیں اے آئی کے استعمال کے لیے قوانین اور ضوابط بنانے کی ضرورت ہےاور اس کے ساتھ ہی لوگوں کو اے ائی کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بس یہی میرے قرآن کا معجزہ ہے۔ ہر نبی کے پاس اس وقت کے تقاضے کے مطابق معجزہ ہوتا تھا ۔ جیسے عیسی علیہ السلام کے دور میں طب اور موسی ٰعلیہ السلام کے دور میں جادو کا دور تھا۔ قرآن ہماری آخری کتاب ہے تا قیامت قرآن علم اور حکمت سے لبریز ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر قیامت تک بہت تبدیلیاں آنا تھیں ۔
سائنس کی ترقی ٹیکنالوجی کا زمانہ آنا تھا، آج سے چالیس ،پچاس سال پہلے ہمارے بزرگوں کو ریکارڈنگ اور ویڈیوز کا معلوم نہیں تھا لیکن آج کا بچہ جانتا ہے کہ ویڈیوز کیسے بنائی جاتی ہیں ۔ میرے قرآن نے بھی آج سے 1400 سال پہلے اس بات کی نشاندہی کر دی تھی کہ سب کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے کس طرح ہاتھ پاؤں کو زبان دی جائے گی، جیسے آج اے آئی مشین بولتی ہے۔بہرحال آج کی اس جدید دنیا میں انسان کتنی ہی جدید ٹیکنالوجی میں ترقی کر لے لیکن اس کو دماغ اور عقل اللہ ہی نے عطا کی ہے اور قرآن معلومات کا خزانہ ہے جس سے آج دنیا جدید ٹیکنالوجی کی طرف قدم بڑھا رہی ہے ۔



































