
رنگ نو کے "کل پاکستان" مقابلہ مضمون نویسی میں شامل تحریر
شبانہ اشفاق / کراچی
پاکستان کا ڈرامہ بے بی باجی نہ صرف پاکستان میں پسند کیا گیا بلکہ بھارت میں بھی بہت مقبول ہوا ۔بے بی باجی دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ ہر گھر کی
کہانی ہے ۔بے بی باجی کہ چار بیٹے جمال نصیر ٫ واصف ،ولید اور تین بہوئیں عذرا،اسماء اورفرحت انہوں نےکس طرح جنت جیسے گھر کو برباد کر د۔یا بے بی باجی نے زندگی کے نشیب اور فراز سے گزر کر اپنا گھر بنایا ۔
عذرا زبان کی تیزہروقت کسی نہ کسی سےالجھتی رہتی۔ بےبی باجی معاملہ ٹھنڈا کروا دیتیں۔اسماء سب کا خیال رکھتی لیکن اس کا شوہراسے پسند نہیں کرتا اور ہر وقت اس سے لڑتا رہتا - فرحت کو یہ ماحول پسند نہ تھا وہ اپنے شوہر سے کہتی کہ عذرا بھابھی نے گھر کا ماحول خراب کر رکھا ہے ،تم پڑھے لکھے ہو جاب کرو - ہم علیحدہ گھر میں رہیں گے۔ عذرا نے یہ بات سن کر گھر میں ہنگامہ کھڑاکر دیا، سب نے اپنے اپنے حصے کا مطالبہ کر دیا ۔ والد کو اس بات کا صدمہ ہوا اور وہ اس دنیا سے چل بسے۔ سب بیٹوں نے اپنا اپنا حصہ لیا اور الگ ہو گئے۔ ماں کے لیے سب نے یہ فیصلہ کیاکہ ہرماہ کسی نہ کسی بیٹے کے گھر رہیں گی اور جب مہینہ پورا ہو جاتا تو بیٹا اپنی ماں کو دوسرے بیٹے کے پاس چھوڑ جاتا،ماں کا انتقال ہو جاتا ہے۔
نصیر اپنی محبوبہ پر سب کچھ لٹا کر ختم کردیتا ہےاورواصف جس بلڈنگ میں فلیٹ خریدتا ہے،وہ بلڈنگ غیرقانونی ہوتی ہے اورحکومت اسے سیل کر دیتی ہے اور عذرا کینسر جیسے مہلک بیماری میں مبتلا ہو جاتی ہیں ۔کچھ ہمارے اعمالوں کی سزا اللہ دنیا میں ہی دے دیتا ہے۔
ایسے ڈرامے ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں،معاشرے سے ہی یہ کہانیاں اخذ کی جاتی ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج کل کچھ ڈرامے ہماری اسلامی تہذیب کے خلاف ہوتے ہیں۔ پاکستان میں خواتین کی اکثریت ڈرامے دیکھتی ہے، ان کی ذہین سازی ہو رہی ہوتی ہے، مثال کے طور پر بہنوئی اور سالی کی دوستی اور پھر ریپ تک نوبت آجاتی ہے اور شادی شدہ خاتون کا آفس میں بوائے فرینڈ بن جاتا ہے ،اچھی بھلی زندگی اپنے بچے اور شوہر کے ساتھ گزارتی ہیں مگرانہیں چھوڑ کر اپنے بوائے فرینڈ سےشادی کر لیتی ہے۔ اس سے معاشرے میں برائی پھیلتی نظر آتی ہے۔ماضی کے ڈرامے دھوپ کنارے ٫ ان کہی ،شمع ،افشاں کیسے گھریلو ڈرامے ہوتے تھے۔ اس میں گھریلو مسائل ہوتے تھے لیکن پھر آخر میں ان کا حل بھی بتایا جاتا تھامگر آج ڈرامے کا وجود ختم کردیا گیا ہے ۔




































