
شبانہ اشفاق
نمرہ : نازش کے دروازے پر کار کا ہارن پر ہارن دئیےجارہی ہے۔
نازش: ابا سنبھالتی آگے بڑھی تمہیں صبر نہیں ہے ۔ اتنی زور زور سے ہارن بجا رہی ہو۔ابا پہننے میں کجھ دیر تو لگتی ہے۔
نمرہ: اس لئے مجھے اباپسند نہیں ہم دومنٹ میں تیار ہو کر باہر نکل آتے ہیں۔
نمرہ اورنازش بچپن سےدوست تھیں۔ نمرہ آزاد ماڈرن گھرانےسے تعلق رکھتی تھی اور نازش کا گھرانہ مڈل کلاس تھا لیکن ان کی دوستی برقراررہی حتی کہ دونوں اسکول سے یونیورسٹی تک پہنچ گئیں ۔
یونیورسٹی کا ماحول ایک دم چینچ گرلزبوائے فرینڈزوالا۔ نمرہ بہت جلد اس ماحول میں ڈھل گئی ۔اپنا ایک دوست بنالیا جس کا نام علی تھا ۔ نازش سے کہتی بوائزتم سے دوستی نہیں کرنا چاہتے تم حجاب کرنا چھوڑ دو ۔میر ے ساتھ ہوتی ہو وہ تمہارامذاق اڑاتے ہیں۔
نازش: مجھے اپنا کیریئر بنانا ہے، حجاب میرا تحفظ ہے۔
نمرہ: خاموش ہو جاتی ہے ۔اسے کسی نے آواز دی ،اس نےپیچھے مڑکر دیکھا ،علی بلا رہا تھا ، وہ اس کے قریب گئی کیا بات ہے۔
علی: میری کل سالگرہ ہے۔اپنے دوستوں کو مدعو کیا ہے،تم بھی ضرورآنا۔ اپنی دقیانوسی دوست کو لےکرنہ آنا، ساری پارٹی کا مزہ خراب ہو جائےگا ۔
نمرہ: نہیں لےکر آؤں گی ۔
دوسرے دن نازش کو پک کیا لیکن کوئی بات نہ کی۔
نازش : کیا بات ہے تم مجھ اگنور کر رہی ہو۔
نمرہ: خاموش رہی ،اسے ڈراپ کرکےاپنے گھر آگئی۔ کجھ دیر آرام کیا ۔ شام چھ بجے تیار ہو کر علی کے گھر پہنچ گئی ۔
علی: اس کو دیکھ کر اس کی طرف بڑھا آؤ نمرہ اوراپنے دوستوں سےتعارف کروایا۔
علی نے سالگرہ کا کیک کاٹااور بہت اہتمام کیا تھا کھایا پیا ہلہ گلہ کیا بہت مزہ آیا ۔پھرایک ایک کرکے اس کے سب دوست چلے گئے،میں نے بھی اجازت چاہی اس نے کہا کہ تم روکو۔ میں اچھی سی چائے پلا تا ہوں ۔ ادھر رات کے سائے بڑھنے لگےگھر والوں کو فکر ہوئی کہ نمرہ گھر نہیں پہنچی اس کو فون کیا تو نمبر بند مل رہا تھا ۔ فون کر کے نازش سے معلوم کیا اس کو بھی کچھ نہیں معلوم کہ وہ کہاں گئی۔
نازش: باربار اسے فون کرتی رہی مگر فون بند ساری رات اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے گزاری ۔فجر کے وقت اس کے دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی ۔
نازش:جلدی سے دروازے کی طرف بڑھی دروازے کھولا تو حیران رہ گئی، سامنے عجیب حالت میں نمرہ کھڑی تھی ۔ جلدی سے میرے کمرے میں آگئی اور بہت روئی ۔
نازش: پریشانی کے عالم میں پوچھ رہی تھی کہ تم اس وقت کہاں سے آرہی ہو۔
نمرہ: بہت مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا۔علی نے مجھے اپنی سالگرہ میں مدعو کیا اور کہا کہ میں تمہیں ساتھ لے کر نہ آؤں ،تم حجاب کرتی ہو، پارٹی میں مزہ نہیں آئے گا ۔ اس وجہ سے میں تمہیں اگنور کر رہی تھی ۔ میں اس کے گھر پہنچی اس کے دوست بھی موجود تھے ۔پارٹی میں خوب مزہ آیا۔اس کے دوست چلے گئے میں نے بھی اجازت چاہی ۔ اس نے کہا رکو چائے پی کرجانا، کچھ دیر کے بعد وہ دو کپ چائے لے کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوا اور ایک کپ میرے ہاتھ میں تھاما دیا ۔چائے پینے کے بعد مجھ نیند آگئی ۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں اس حال میں تھی ۔ گھر پرکوئی نہیں تھا، مشکل سے گرتے پڑتے میں تمہارے پاس آئی ہوں۔
نازش: اسے تسلی دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صنف نازک بنایا ہے،اس لئے ہمارے لیے حجاب کو پسند کیا ہے ۔
نمرہ : میں توحجاب کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی تھی اور لوگ بھی اسے ناپسند کرتے ہیں ۔
نازش: نہیں ایسا بالکل نہیں یہ ہماری ترقی میں رکاوٹ نہیں ،پردے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے اور مرد وخواتین کو اپنے نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کر نے کا حکم دیا ہے ،پھر کیسے ہم ان احکام سے انکار کرسکتے ہیں۔
نازش : تم نے جوبھی کہا بہت برا کیا ،تم اپنے ماں باپ کو کیا منہ دکھاؤ گی ۔ اگر تم پردہ کرتیں تو وہ آوارہ لڑکا میری طرح کبھی تمہارے قریب نہ آتا۔ اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ کہ تم اس حالت کو نہ پہنچتیں جو تمہارے ساتھ ہوا ہے ۔
نمرہ:تم نے ٹھیک کہا ہےمیرا طرز عمل ٹھیک نہیں تھا ،شیطان نےمجھے گمراہ کیا اور میرا یہ حال ہوا۔ آئندہ میں حجاب لوں گی ، اپنے والدین کی عزت کا پاس رکھوں گی لیکن میں اپنے والدین کو کیا منہ دکھاؤں گی ،پوری رات گھر سے باہر تھی ۔۔۔ نمرہ کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے ۔
نازش نے اسے گلے لگا لیا اورتسلی دی اور کہا چلو میں تمہارے امی ابو کے پاس چلتی ہوں۔۔ کہوں گی تم میرے گھر تھیں ۔
نمرہ جوجھل قدموں سے نازش کے پیچھے اپنے گھر کی جانب چل دی ۔




































