
شبانہ حفیظ/حریم ادب
یہ پاکستان لا الہ الااللہ کےنام پرقائم ہوا تھا لاالہ الااللہ صرف زبان سے کہ دینےکا نام نہیں ہے،اس کےمطلب کو سمجھنا ضروری ہے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے قبیلے میں امین اور صادق کےنام سےمشہورتھے۔ ہر ایک کے دلعزیز۔ آپ جو فیصلہ کر دیں سب اسے تسلیم کرتے ۔سب اس بات کا اقرار کرتے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ آپ ہمیشہ سچ بولتے تو پھر آخر کیا وجہ ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لا الہ الااللہ کا نعرہ بلند کیا تو کایا ہی پلٹ گئی کیونکہ قبیلے کے سردار اس کا مطلب اچھی طرح جانتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اگرہم نے لا الہ الااللہ تسلیم کر لیا تو ہماری سرداری اور ہمارے ٹھاٹ باٹ ختم ہوجائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی مرضی نہیں چل سکتی۔ ہماری اہمیت ختم ہوجائے گی ہم اپنے سے کم ترکمزورلوگوں پر اپنی حاکمیت رکھتے ہیںوہ ختم ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا مطلب ہے کہ سب انسان برابر ہیں سوا ان لوگوں کے جو تقویٰ میں سب سے بڑھ کر ہیں ۔تقویٰ کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قوانین کا احترام کرنا اوراس کے احکام کو بجا لانا جو سردار قریش کو گوارہ نہ تھا ،اس لئے قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن بن گئے ۔
آج ہم دیکھیں کہ پاکستان کو بنئے76سال گز چکے ہیں ۔اس کی خاطر ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں ۔کیا کیا ستم اٹھائے ۔ ماں ، بہنوں ، بیٹیوں کو اپنے سامنے ذبح ہوتے دیکھا ۔ تب کہیں جا کر پاکستان حاصل کیا لیکن لگتا ہے کہ یہاں کے حکمرانوں کو بھی بہت اچھی طرح لا الہ الااللہ کا مطلب سمجھ آتا ہے ۔ اسی وجہ سے جب سے پاکستان بنا ہے اس پر ایسے قابض ہوگئے ہیں کہ ان کی حاکمیت کا ڈنگا بجتا رہے اور کوئی غریب ہمارے مد مقابل نہ آئے۔ اس وجہ سے زبردستی حکومت پر قابض ہیں اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال کر ان کو اس ہی میں الجھا رکھا ہے کہ ان کو لا الہ الااللہ کا مطلب سمجھ نہ آئے۔




































