
شبانہ حفیظ
ہیں جہاں میں وہی لوگ اچھے
کام آتے ہیں جو دوسروں کے
ارے ٹھہرو ۔۔۔روکو تو سہی میری بات سنو۔۔ ارے سنائی نہیں دے رہا۔۔ میری آواز کتنی دیر سےعلیزہ سڑک پر کسی کو پکار رہی تھی۔ آخر کار اس نے سٹرک
پر دوڑتے ہوئےاس کو دبوچ ہی لیا۔
علیزہ نے کہا کہ آخر میں نےتم کو بلی کی طرح دبوچ ہی لیا۔ کتنی دیر سے میں تمہیں آواز دے رہی ہوں۔ تم ہو کہ سنی ان سنی کرکے تیز تیز قدموں سے چلی جا رہی ہو۔ یہ نہ ہوا کہ پیچھے مڑ کر دیکھ لوں کہ کون ہےآخر۔۔ایسا بھی کیا ہوگا جو گھوڑے پر سوار ہو۔۔۔ ٹھہرو تو سہی مجھے تم سے بات کر نی ہے۔صدف رک گئی اور کہاجی کیا بات کرنی ہے۔
مجھے گھر جلدی پہنچنا ہےصدف اور علیزہ ایک ہی محلے میں رہتےتھےپڑوسی تھے۔اکثرایک دوسرے کےگھرآتےرہتے تھے۔علیزہ متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی لیکن ظاہر ایسے کرتی تھی جیسے امیر ہو۔۔۔ ہر وقت برانڈڈ کی باتیں دیکھو میرا سوٹ فلاں۔براندڈ ہے۔۔۔ یہ دیکھو میرا شوز بتاؤاس کی قیمت کیا ہوگی۔
بچاری صدف کوکیا معلوم اس کی قیمت کیا ہوگی۔علیزہ بھی توبرائنڈ شاپئنگ جب کرتی جب سیل لگتی تھی۔ صدف ایک گھریلوعورت تھی ۔وہ تو بہت مشکل سے چند سو روپے بچا پاتی تھی کہ مشکل وقت میں کام آئیں گے۔ کافی دنوں سے سوچ رہی تھی کہ کپٹرے پرانے ہوئے ہیں۔ رنگ بھی خراب ہوگیا ہے۔ گرمی بھی بہت ہے، ایک دو لان کے سوٹ خرید لوں لیکن مہنگائی کی وجہ سے بازار جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ ان چند سو روپے میں کیا آئے گا کچھ ضروری گھر کا سامان بھی لینا ہے ۔ وہ انہیں سوچو میں گم تھی کہ کسی نے اس کے گھر پمفلیٹ ڈالا وہ اگے بڑھی اور پمفلیٹ اٹھایا اور اسے پڑھنا شروع کیا،جیسے جیسے وہ پڑھ رہی۔ اس کے چہرے کے تاثر تبدیل ہو رہے تھے۔ آنکھوں میں چمک ۔۔ چہرے پر خوشی کی لہر اور ہونٹوں پر مسکراہٹ صاف نظر ارہی تھی اور زبان سے جو الفاظ بولے وہ تھے الحمدللہ الله تیرا شکر ہے ۔
تونے میری مشکل آسان کر دی کیونکہ اس پمفلیٹ پر بجت بازارکا ایڈریس لکھا ہواتھا۔ایڈریس گھر سے کچھ فاصلے پر تھا ،یہ پیدل کا راستہ تھا ۔ وہ بجت بازار سے شاپنگ کرکے آرہی تھی کہ اس کو راستے میں علیزہ نے روک لیا صدف قے ہاتھ میں اتنے سارے شاپنگ بیک دیکھ کر طنزیہ بولی کہ کیا۔لاٹری نکلی ہےجو اتنی ساری شاپنگ کرلی ہے۔
صدف نے کہا کہ ہاں یہ ہی سمجھو کہ لاٹری نکل آئی ہے علیزہ نے حیرانی سے پوچھا کہ واقعی صدف نےہنس کر کہاکہ نہیں میں مذاق کررہی ہوں ۔۔ اصل بات یہ ہے کہ قریب میں بجت بازار لگا ہے اس بازار میں بہترین نظم وضبط دیکھنے کو ملا۔۔ ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔ اپنی ضرورت کے اسٹال پرجاؤ اور کم قیمت پرہر چیز خرید لوچوڑیوں کےاسٹال پرتو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قوس وقزع کے سارے رنگ بکھر گئے ہوں ۔ لان کے سوٹ، برتن، شوز سب کے اسٹال موجود تھے اور مزے کی بات یہ کہ قیمت مناسب ہے ،ہم غریبوں کی رسائی بھی ہے ۔ آسانی کے ساتھ اپنی ضرورت کو پورا کرلسکتے ہیں ۔اللہ بھلا کرے ان لوگوں کا اپنی اخرت سنوار رہے ہیں، دونوں باتیں کرتی کرتی گھر کے قریب پہنچ گئیں ۔علیزہ نے صدف کوعجب نظروں سے دیکھا اور گھر کے اندر داخل ہوگئی.
شبا




































