
شبانہ حفیظ
ماریہ کافی دیرسےگم سم بیٹھی تھی اس کی گودمیں ایک کتاب رکھی تھی کتاب کا نام تھا۔عورت اسلامی معاشرے میں ایسا لگتا تھا کہ یا تو وہ
کتاب میں گم ہوگئی ہےیا پھر اس کےسامنے ماضی کا دریچہ کھل گیا ہے۔
ٹن ٹن ٹیلی فون کی مسلسل گھنٹی بجنے کی وجہ سے وہ چونک جاتی ہےاورپھر تھکے تھکے قدموں سے چل کر فون کے قریب پہنچ جا تی ہے۔ ریسور اٹھا کر کان سے لگاتی ہےتواس کی بیٹی نہایت پریشانی اور روتی ہوئی آواز میں بات کرتی ہے، کہتی ہے کہ امی میں بہت تنگ آگی ہوں ۔میری ساس ہروقت مجھ پر طعنے کستی رہتی ہے اور میرے شوہر کاتوآپ کو پتہ ہی ہے،ہر وقت شک کرتے رہتے ہیں، اب جب سے بیٹی پیدا ہوئی ہے ہر وقت زبان پرمنحوس کے الفاظ ہی رہتے ہیں۔اب میں یہاں نہیں رہوں گی۔
ماریہ بہت صبر کےساتھ بیٹی کی بات سنتی ہے،جب بیٹی اپنےدل کی سب بات کرکے خاموش ہوتی ہےتوماریہ اس کوپیاربھرے لہجے میں سمجھاتی ہے کہ بیٹی وہاں نہیں رہو گی تو کہاں رہوگی۔ تمہیں اپنے بابا کا معلوم ہےکہ وہ بھی تمہاری پیدائش سے خوش نہیں تھے اوراب تو وہ تمہیں اور تمہاری بیٹی کو بلکل برداشت نہیں کریں گے۔
بیٹی کےساتھ اکیلےتم رہ نہیں سکتی کیوںکہ ہمارا معاشرہ تمہیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھےگا۔اس لیےبہتر یہی ہے کہ تم اپنے شوہرکے ساتھ عزت سے زندگی گزارو۔ بیٹی کو تسلی دے کرفون بند کردیا پھر اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوگئی۔
رات کو سونے کےلئےاپنے کمرے میں آگئی۔ سونے سے پہلےوہ مطالعہ ضرورکرتی تھی۔ دوبارہ کتاب اٹھائی اورمطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ مطالعہ کرتے ہوئے ایک واقعہ پر اس کی نظر ٹھہرسی گئی۔
واقعہ یہ تھا کہ ایک شخص نےمحمد صلی الله علیہ وسلم کواپنے جاہلیت کے زمانے کا واقعہ سنایا کہ میری ایک بچی تھی اوروہ مجھ سےبہت مانوس تھی جب کبھی میں اسے بلاتا تو وہ بڑی مسرت سے میرےپاس آجاتی ،چنانچہ ایک دن میں نے اسے آوازدی تو وہ میرے پیچھے پیچھے دوڑی چلی آئی۔میں اسے اپنے ساتھ لے گیااور قریب کےایک کنویں میں جھونک دیا اوروہ اس وقت بھی ابا جان ،ابا جان پکارتی رہی۔
واقعہ کو۔سن کر محمد صلی الله علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبارہوگئیں۔ماریہ کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہوگئے اور وہ سوچ رہی تھی کہ اس دور کو تو ہم جاہلیت کا دور کہتے ہیں لیکن اج کا دورجو ٹیکنالوجی کادورکہلاتا ہے،جسےایڈوانس اور جدیدیت کا نام دیا جاتاہےاس دور میں اور آج کے دور میں کیا فرق ہے ۔اس دور میں بیٹی کو زندہ درگور کرتے تھے اور آج کے دورمیں ہم نے اسے صرف زندہ لاش کی مانند بنا دیا ہے، جس کے نہ کوئی احساسات ہیں ،نہ جذبات اور نہ خواہشات وہ صرف حکم کی طابع ہےاس کی اپنی کوئی مرضی نہیں،جبکہ ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم نے عورت کو فرش سے اٹھا کرعرش پر بیٹھا دیا۔
آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی اوران کے ساتھ حسن سلوک کیا تو اس کے لئے جنت ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت ہے،بہین محبت کا پیکرہے،بیوی کو خوشبو سے تشبہہ دی ہےلیکن اج بھی ہم عورت کو وہ مقام نہیں دے سکےجو محمد صلی الله علیہ وسلم نے دیا ہے۔




































