
اسلام آباد( ویب ڈیسک ) حکومت نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پیٹرولیم لیوی
کی شرح میں بھی مزید اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد شہریوں کی مشکلات میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول پر عائد لیوی میں 13 روپے 91 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول پر مجموعی لیوی 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے،اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بھی 13 روپے 91 پیسے فی لیٹر اضافی لیوی عائد کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل پر لیوی کی نئی شرح 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ حکومتی فیصلے کا اطلاق گزشتہ رات 12 بجے سے کر دیا گیا۔
نئے نرخوں کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ اس سے قبل ڈیزل 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔
دوسری جانب پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر دستیاب تھا۔
واضح رہے کہ حکومت اس سے قبل 29 اپریل کو بھی ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کر چکی ہے،مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی میں اضافے اور عوامی قوتِ خرید میں کمی کا باعث بنتا ہےجبکہ اس کے اثرات براہِ راست ملکی معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔دوسری جانب شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاشی بوجھ مسلسل عوام پر منتقل کرنے کے بجائے متبادل معاشی حکمتِ عملی اختیار کی جائے تاکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔



































