
اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کے معاشی
پروگرام کے تیسرے جائزے کی منظوری دیتے ہوئے ملک کے لیے تقریباً 1 ارب 32 کروڑ ڈالر کی نئی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق ای ایف ایف پروگرام کے تحت 1.1 ارب ڈالر جاری کیے جائیں گے، جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تحت پاکستان کو مزید 22 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے مشکل علاقائی اور عالمی حالات، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود اپنے معاشی اہداف حاصل کیے اور معیشت میں استحکام کی علامات نمایاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
آئی ایم ایف نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کیا جائے، محصولات میں اضافے کے لیے اصلاحات جاری رکھی جائیں اور توانائی کے شعبے میں بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو لاگت کے مطابق برقرار رکھا جائے،اعلامیے میں سرکاری اداروں کی نجکاری اور ان میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے، جبکہ سماجی تحفظ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اخراجات بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ عوامی فلاح کو یقینی بنایا جا سکے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھنا ہوں گے، جبکہ بیرونی معاشی دباؤ سے بچاؤ کے لیے پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے،ادارے نے مالی سال 2026ء کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ بے روزگاری کی شرح رواں مالی سال کے دوران 6.9 فیصد رہ سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا کہ قرض کا حجم جی ڈی پی کے 73.8 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے بروقت اقدامات کے ذریعے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھی، جس کا مقصد مہنگائی پر قابو پانا اور معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ زرِمبادلہ کے ذخائر کی بحالی کے عمل کو جاری رکھنے، فارن ایکسچینج مارکیٹ میں مزید اصلاحات لانے اور مالیاتی نظام کے استحکام کے لیے بینکوں کے مناسب سرمائے کو برقرار رکھنا ضروری ہے،آئی ایم ایف نے زور دیا کہ پاکستان کو طویل المدتی معاشی ترقی کے لیے مسابقتی ماحول کو فروغ دینا ہوگا تاکہ پیداواری شعبہ مضبوط ہو اور سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔




































