
آمنہ جاوید
یہ کہانی ثمیرہ اور توقیرہ دو سہیلیوں کی ہے۔ ثمیرہ ایک باحیا اور پردے دار لڑکی تھی جو دین کی
سمجھ رکھتی تھی ۔وہ جانتی تھی کہ پردہ کرنے کے کتنے فوائد ہے جبکہ تو قیرہ جدید طرز زندگی کو پسند کرتی تھی اور پردے کو قید سمجھتی تھی۔
ایک دن توقیرہ نے ثمیرہ سے کہا ۔ "ثمیرہ! تم ہر وقت برقع اور نقاب کیوں پہنتی ہو۔ پردہ تو نظروں کا ہوتا ہے ، میں بھی باہر جاتی ہوں۔ کچھ نہیں ہوتا ۔باہر کتنی آزادی ہے ۔اپنی خوبصورتی کو چھپا کر تم کیا حاصل کرتی ہو ؟تم دیکھو باہر کتنی گرمی ہے ۔حبس سے گھٹن ہو رہی ہے اور تم برقع اور نقاب میں اپنے اپ کو لپیٹ کر جا رہی ہو؟
ثمیرہ نے مسکرا کر جواب دیا توقیرہ! یہ پردہ میرے لیے قید نہیں ہے۔میری عزت کا محافظ ہے ۔یہ قلعے کی طرح ہے۔ مجھے ہر بری نظر اور فتنے سے بچاتا ہےاور اللہ کا حکم ہے کہ خواتین اپنی زینت چھپا کر رکھیں، اسی میں ہماری عفت و پاک دامنی ہے۔
ایک شام تو قیرہ جینز اور ٹی شرٹ پہن کر قریبی مارکیٹ گئی۔ وہاں اتفاق سے لوگوں کا ہجوم کم تھا ۔اچانک اسے محسوس ہوا کہ کچھ اوباش لڑکے اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔ وہ مسلسل اس کے جسم پر جملے کس رہے ہیں اور اس کے لباس کی وجہ سے غلیظ نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔
ایک موڑ پر ایک لڑکے نے جان بوجھ کر اس سے ٹکرانے کی کوشش کی اور نا زیبا حرکت کی۔توقیرہ کو اس وقت شدید بے کسی اور" نمائش کی شے" بننے کا احساس ہوا ۔اسے لگا کہ اس کا لباس اسے وہ تحفظ فراہم نہیں کر رہا جس کی اسے اس وقت ضرورت تھی۔ دوسری طرف ثمیرہ جب بازار گئی تو اس کے پردے کی وجہ سے کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ اسےبری نظروں سے دیکھے ۔
چند دن بعد توقیرہ بس میں سفر کر رہی تھی۔اس نے بازوؤں کے بغیر آستین والا لباس پہنا ہوا تھا ۔بس میں رش زیادہ تھا اور ایک آدمی مسلسل اپنی جگہ سے ہل کر توقیرہ کے ساتھ لگنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ شخص تو قیرہ کے کھلے بالوں اور گردن کی طرف گھور رہا تھا جس سے توقیرہ کو شدید گھبراہٹ اور کراہت محسوس ہوئی۔
اس نے دیکھا کہ اسی بس میں ایک اور لڑکی مکمل عبایا اور حجاب میں بیٹھی تھی جس کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ رہا تھا بلکہ لوگ اسے جگہ دینے میں احترام دکھا رہے تھے۔ توقیرہ کو محسوس ہوا کہ حجاب صرف کپڑا نہیں بلکہ ایک "خاموش ڈھال" ہے جو ہوس بھری نظروں کے سامنے دیوار بن جاتی ہے۔
اس واقعہ سے وہ بہت خوفزدہ ہوئی، توقیرہ روتی ہوئی ثمیرہ کے پاس گئی اور پردے کی اہمیت کو سمجھ گئی۔ثمیرہ نے اسے سمجھایا کہ پردہ صرف لباس نہیں بلکہ دل اور آنکھوں کی حیا کا نام بھی ہے ۔پردے کی برکت سے نہ صرف معاشرے کو بدکاری سے تحفظ ملتا ہے۔ بلکہ عورت کی عزت بھی محفوظ رہتی ہے۔ غرض کہ 'پردہ مسلمان عورت کے لیے اللہ کا حکم ہے جو اسے معاشرے کے فتنوں سے بچاتا ہے۔'



































