
ایمان زاہد بھٹی
بہت پہلے اس دنیا میں کہانیاں بکھری پڑی تھیں، ہر درخت کے نیچے، ہر ندی کے کنارے، ہر بچے کی آنکھوں میں۔۔ لوگ کہانیاں سُنتے، پھر خود کہانی بن
جاتےمگر وقت نے کچھ ایسا کیا کہ کہانیاں کم ہوتی چلی گئیں اور لوگ صرف خبریں سننے لگے جو ہوئی، جو ہو رہی ہے، کس نے کیا، کس سے کہا۔ خبریں دماغ کو بھرتیں مگر دل کو خالی کر دیتیں۔ پھر ایک رات چاند نے دیکھا کہ زمین پر کہانیوں کی آخری چنگاری بجھنے والی ہے۔ اُس نے آخری بار اپنی پوری چاندنی زمین پر بھیج دی ۔اس امید پر کہ کہیں کوئی اسے کہانی میں بدل دے۔
چاندنی نے ایک بوڑھی عورت کے کمرے میں جا کر ایک پرانی کتاب کے اوراق چھوئے اور عورت اٹھ بیٹھی اسے یاد آیا کہ اس کی دادی اسے چاند کی وہ کہانی سناتی تھی جس میں چاند خود ایک لکھاری تھا اور ہر رات آسمان پر ایک نیا افسانہ لکھتا مگر لوگ اوپر دیکھنا بھول گئے تھے۔ بوڑھی عورت نے وہی کہانی اپنی پوتی کو سنائی اور پوتی نے اسے کاغذ پر لکھ ڈالا۔
جب وہ کہانی چھپی تو ایک بچی نے اسے پڑھا جس نے پہلے کبھی کوئی کہانی نہیں سنی تھی، اس بچی کی آنکھوں میں پہلی بار کوئی خواب آیااور اس نے اپنی چھت پر جا کر چاند سے کہا: "آج رات تم میری کہانی سنو گے؟" چاند چونکا کیونکہ ہزاروں سال میں پہلی بار کسی انسان نے اس سے کہانی سننے کو کہا تھا، نہ کہ مانگنے کو۔ بچی نے اسے اپنی ساری دنیا سنائی ایک مرجھایا ہوا پودا جو پانی سے زندہ ہوا، ایک ٹوٹا ہوا کھلونا جو اس نے خود جوڑا، اور ایک دوست جو اس سے ملنے آیا جب وہ سب سے زیادہ اکیلی تھی۔ چاند نے وہ رات اپنی روشنی میں لپیٹ لی اور صبح جب سورج آیا تو چاند نے دیکھا کہ اس کی چاندنی کا ایک ذرہ بچی کے تکیے کے نیچے رہ گیا تھا ایک کہانی جو اب خود چل سکتی تھی۔ تب چاند کو معلوم ہوا کہ کہانیاں کبھی مرتی نہیں، وہ صرف کسی کے اندر سوتی رہتی ہیں اور جب کوئی سچے دل سے اپنی کہانی سناتا ہے، تو وہ کہانی روشنی بن جاتی ہے اور پھر وہ روشنی کبھی نہیں بجھتی، وہ صرف ایک سے دوسرے میں اترتی رہتی ہے،جیسے چاندنی ایک چھت سے دوسری چھت پر پھیلتی ہے۔
آج بھی جب راتوں میں چاند چمکتا ہے تو وہ صرف روشنی نہیں بکھیرتا وہ کہانیوں کی آخری امانت سنبھالے ہوئے ہے، انتظار کر رہا ہے کہ کوئی اس سے کہے: "آج میں تمہیں اپنی کہانی سناتا ہوں، اور تم مجھے اپنی۔" اور جب ایسا ہوگا، تب پھر سے وہ زمانہ آئے گا، جب درختوں کے نیچے کہانیاں ہوں گی، ندیوں کے کنارے کہانیاں ہوں گی اور ہر انسان ایک کہانی ہوگا نا کہ صرف ایک خبر۔



































