
لبنیٰ مزمل انصاری
کہنا کتنا خوبصورت لگتا ہے ۔مگر جب اس دن کو دیکھیں ۔تو یہ ہر گز یوم مزدور
نہیں لگتا ۔چھٹی دے دینے سے ۔بڑے بڑے سیمینار کر لینے سے مزدور کا پیٹ نہیں بھرتا ۔مزدور اپنے عالمی دن کے موقع پر بھی ۔اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے ,اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے ،بجلی گیس پانی کے بل کی ادائیگی کے لیے اور سب سے بڑھ کر اپنے سر کی چھت کا کرایہ دینے کے لیے ۔معمول کے مطابق مزدوری کرتا نظر آ تا ہے ۔
مزدور اس بات سے بے خبر ہے کہ آ ج بڑے بڑے فائیو اسٹار ہوٹلز میں اس کے لیے پروگرام منعقد کیے گئے ہیں،جہاں اس کی فلاح و بہبود کے لیے اس کے روزگار کے لیے بڑی بڑی باتیں کی جائیں گی اور یہ سب محض زبانی کلامی ہی رہیں گی ۔سوٹڈ ۔ بوٹڈ ہاتھ میں منرل واٹر کی بوتلیں تھامے تصویریں بنوائی جائیں گی ۔واہ واہ کی داد سمیٹی جا ئے گی ۔اور اگر مزدور اپنے حق کے لیے آ واز اٹھائیں تو ان آ وازوں کو دبا دیا جاۓ گا ۔
کیونکہ یہ سوٹڈ بوٹڈ لوگ یہ سیمینارز مزدور کی فلاح کے لیے یا اللہ کو راضی کرنے کے لیۓ نہیں بلکہ خود نمائی کے لیے کرتے ہیں،دین اسلام میں اللہ رب العزت نے مزدور کو اپنا دوست کہا ۔مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردینے کا حکم ہے جبکہ آ ج کے دور میں مزدور کو کم سے کم اجرت دینا عام رویہ بن چکا ہے۔کسی بھی ملک وقوم کی ترقی میں مزدور کا اہم کردار ہوتا ۔مزدور معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس مشین کی دیکھ بھال کے حوالے سے ہم سب کو سوچنا ہوگا۔




































