
بنت خلیل /بہاولپور
آپ کیا جانو۔۔۔ہم ہی جانیں اپنا دکھ۔ ووہ اپنی جان سے عزیز لوگ ۔۔۔وہ بڑے لوگ، جن کے بغیر زندگی گزارنے کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔۔۔
وہ ہم سے چھوٹ گئے، ہم سے منہ موڑ گئے۔۔وہ جو گھر کی رونق تھے،جن سے بہاریں تھیں۔وہ جو ہمارے لیے ہار جاتے تھے،جنہوں نے ہمیں جینا سکھایا۔ وہ جو ہماری ڈھال تھے۔وہ جن کی سختیوں میں بھی بھلائی پوشیدہ تھی۔
وہ جو ہمیں دکھ میں دیکھ کر ہم سے زیادہ دکھی ہو جاتے تھے ۔وہ جو بے لوث محبت کرتے تھے۔وہ جن کے فیصلے کبھی کبھار ہمیں اچھے نہیں لگتے تھے۔
وہ جو ہمیں کھیلنا اور جیتنا سکھاتے تھے۔وہ جن سے ہمیں ہزار شکوے تھےلیکن ان کے بغیر ایک پل بھی گزارا نہ تھا۔
وہ جنہوں نے ہماری خاطر اپنی زندگیاں مشقتوں میں کاٹ دیں۔وہ اب اس دنیا سے چلے گئے۔وہ دونوں چلے گئے۔وہ گھر کی رونق بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
اب کون کہے گا
“آؤ میری گڑیا، تم میرے ساتھ لیٹ جاؤ۔۔ تمہاری تھکن بھی دور ہو جائے گی اور ہماری بھی۔”
اب کون کہے گا
“آؤ تمہیں مونگ پھلی دلوا کر لاؤں۔۔”
اب کس سے مانگیں گے عیدی…؟
جو بھی ہوگا۔۔وہ بات نہ ہوگی
وہ صحن میں دو چارپائیوں پر بیٹھے بزرگ اور وہ برسات نہ ہوگی۔
تم کیا جانو دنیا والو۔۔
ہم نے انہیں سسکتے ہوئے دیکھا ہے،تڑپتے ہوئے، بیمار، مجبور، پریشان حال۔۔ہم نے انہیں اپنوں کے ہاتھوں دکھی ہوتے دیکھا ہے۔
ہم نے ان کے آنسو دیکھے ہیں۔وہ بےبس چہرے، وہ بوڑھے چہرے۔وہ لاٹھی، وہ لاغر ٹانگیں، وہ کپکپاتے ہاتھ۔۔
چلے گئے جو ہمیں چھوڑ کر، وہی تھے سب کچھ
اب ان کے بعد یہ دنیا ، اجڑی ہوئی سی لگتی ہے




































