
بنت خلیل
ویسےتو خوش گوارزندگی گزارنےکی بہت ساری شرائط ہیں لیکن ان میں سےایک جو مجھے بہت اہم لگی وہ سچائی کواپنانا ہے
۔۔۔میرا مطلب اپنی زندگی میں اصول بنا لیں کہ بس سچ بولنا ہے،لوگوں سے بھی خود سےبھی ۔۔۔ یہاں تک کہ سب آپ کی گواہی دینے لگیں۔ آپ کی بات پر آنکھ بند کرکےاعتبار کرنے لگیں۔
ہم پرفیکٹ نہیں ہیں مگر صادق وامین رسول اللہ کے نقش قدم پر چلنےکی کوشش کرسکتےہیں ۔۔۔یہ اعتبارایک بار ہی ہوتا ہے۔۔آپ بھلے ہمیشہ سچےرہے ہوں ،ایک بار بھی آپ کا جھوٹ سامنےآجائے پھرکبھی دوسرے کےنزدیک آپ سچے نہیں رہیں گےاورجھوٹ کی یہ خاصیت ہےکہ سامنے کھل کر ہی رہتا ہے،الایہ کہ آپ توبہ کرلیں اوراللہ پردہ رکھ دے۔۔۔
میں نے جو بات سیکھی وہ یہ کہ کسی سےڈرکریا کسی کوخوش کرنے کے لیے بولا گیاجھوٹ بھی فائدہ نہیں دیتا۔۔۔کوئی خوش نہیں ہوتا بلکہ الٹا وہ جھوٹ ایک وبال کی طرح انسان کےضمیر کو پریشان کرتا رہتاہے۔۔۔ ہروقت جھوٹ کےلوگوں کی نظروں میں کھل جانےکا کھٹکا لگارہتا ہےاورجس دن وہ کھل گیا آپ اپنا اعتماد واعتبار کھو دیں گے۔۔۔
اب بڑوں کےغصے کی پروا کی وجہ سے 5 ہزار کے سوٹ کو 3 ہزار کا بتا دیا، اس میں غلط کیا ہے؟؟؟
بھئی غلط ہے۔۔۔
تو پھر کیا کریں ؟؟؟
سیکھیں ، سچ بولنے کا سلیقہ
آپ بڑوں کے سامنے جا کر بولیں امی جی آج کل اتنی مہنگائی کے دور میں بھی مجھے اچھی پرائس میں اچھا ڈریس مل گیا ۔۔۔
3 ہزار والے سوٹ بھی تھےمگر وہ شاید ایک سیزن بھی نہ چل سکتا۔۔۔اتنی صفائیاں دینےکی ضرورت محسوس ہورہی ہے تووہ بھی نہ دیں۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا، بڑے آپ سے وقتی طور پر ناراض ہوں گےپھر کیا ہے ،آپ بھی بھول جائیں گے وہ بھی ۔ کم از کم جھوٹ کے کھل جانے کا ڈر نہیں ہوگا
اور بڑوں کے دل میں فضول خرچ ثابت ہوجانا جھوٹا ثابت ہونےسےبہترہی ہے۔۔۔
یہ توایک مثال تھی آپ چاہےمرد ہیں یاعورت چھوٹی چھوٹی باتوں میں سچ کواپنانا شروع کر دیں تاکہ آپ کو اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے کیے بار بار جھوٹ نہ بولنا پڑے۔۔۔





































