
نگہت پروین
آج تو مزہ آگیا ،آج لیبر ڈے کی چھٹی ہے، دیر تک سوؤں گی ،موبائل پر فلم دیکھوں گی اور بس مزے کروں گی ۔
عائشہ مزے سے یہ باتیں اپنی بہن فریدہ سے کر رہی تھی کیونکہ اسکول کی وجہ سے روز صبح اٹھنا اور اتوار کو بھی ابو نو بجے ہی اٹھا دیتے تھے کیونکہ وہ خود جلدی سوتے اور جلدی اٹھنے کے عادی تھے۔
عائشہ اور فریدہ نے اج چھٹی کا بھرپور مزہ لیا ،گول گپے والا آیا تو وہ بھی کھائے ، شکر قندی والا آیا تو وہ بھی کھائی۔
عشاء کی نماز پڑھ کر ابو گھر آئے تو امی نے کھانا لگایا، سب نے کھانا کھا لیا تو منیر بولا چلو بھئی آئس کریم میری طرف سے ،بس پھر کیا تھا ہم سب گاڑی میں بیٹھ کر آئس کریم پالر چل دیے۔
پارلر کے پاس ان کی گاڑی سے ذرا دور عائشہ نے دیکھا ایک بچہ رات کے اس پہر جوتا پالش کر رہا تھا، اس کی عمر اٹھ یا نو سال تھی ،وہ سوچ رہی تھی کہ یہ بچہ صرف اس وقت نہیں صبح سے کام کر رہا ہوگا، جذباتی لڑکی اس سے پوچھ بیٹھی تو اس نے یہی کہا کہ باجی ایک جوڑی جوتے کے 50 روپے ملتے ہیں، کسی دن 500 اور یا کسی دن 800 روپے جمع ہوتے ہیں۔ اس سے ہمارا گھر چلتا ہے ،باپ مر گیا ،دو بہنیں ہیں ،ایک ماں ہے ،ماں بیمار رہتی ہے۔ اس لیے بہنیں بھی ماسی کا کام گھر گھر جا کر کرتی ہیں۔ وہ ابھی آتی ہوں گی ،مجھے ساتھ لے کر گھر جاتی ہیں میں، یہیں ان کا انتظار کرتا ہوں ،اس کی بہنیں آگئیں جو 12 یا 13 سال کی ہوں گی ۔میں نے پوچھا رات تک کام کر کے اب 10 بجے گھر جاتی ہو ؟
ہاں باجی ہمارا روز کا یہی معمول ہے ،ابھی وہ اسی غم میں تھی کہ یہ نوجوان لڑکیاں چھوٹے بھائی کے ساتھ چلی گئیں ۔ابھی وہ اسی غم میں تھی کہ ایک بچہ گاڑی کے پاس آیا باجی اپ کی گاڑی صاف کر دوں صبح سے دیہاڑی نہیں لگی۔ آج بڑا منحوس دن ہے ۔ میں نے کہا اگر میں صاف نہ کراؤں تو ،تو باجی میں رات کو بھوکا سوؤں گا کیونکہ 100 روپے میں ایک روٹی اس پر ذرا سی چنے کی دال ہوٹل والا دیتا ہے۔ 50 روپے تو ایک صاحب نے اپنی گاڑی کے دے دیے 50 روپے آپ دے دیجئے، بڑی مہربانی ہوگی آپ کی۔
بائیک کے ٹکر سے بچ کر 12 سالہ بچہ اپنے گلدستے سمیٹ رہا تھا، بائیک والا تو بھاگ گیا، وہ بچہ آنسو پوچھتا ہوا عائشہ کی طرف آیا جہاں یہ سب بیٹھے آئس کریم کھا رہے تھے، اس نے کہا باجی آپ گلدستہ لے لو صرف 100 روپے کا ہے، ضرورت تو نہیں تھی مگر وہ ابھی لینے ہی والی تھی کہ ایک اور بچہ اس کا ہم عمر اس کے پاس آیا اور بولا یار تمہیں کہاں چوٹ لگی ،اس نے کہا کہ بس بچ گیا ،ذرا سی پاؤں میں چوٹ لگی ہے ۔اچھا یہ بتاؤ کتنے پیسے جمع ہوئے کیونکہ اس سڑک پر بیٹھنے کا بھتہ 200 روپے دینا پڑے گا۔ وہ بچہ بولا اگر یہ باجی گلدستہ لیں تو 500 ہو جائیں گے پھر 300 میں اپنی بہن کے لیے آج 50 والی آئس کریم ضرور لے کر جاؤں گا ۔وہ تین چار دن سے مجھ سے کہہ رہی ہے ،عائشہ نے اس سے تین گلدستے لے لیے اب وہ خالی ہاتھ تھا۔
عائشہ کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں، وہ فریدہ سے کہنے لگی فریدہ میں کتنی خود غرض ہوں، لیبر ڈے کی چھٹی کے مزے لے رہی تھی اور یہ چائلڈ لیبر نے مجھے جھنجوڑ دیا۔ یہ چھوٹے چھوٹے بچے رات گئے تک اپنی چھٹی والے دن بھی اپنے گھر کا چولہا جلانے کو محنت کر رہے ہیں۔ ان کے طفیل قوم تو چھٹی کے مزے لے رہی ہے اور یہ بچے تو روز کی طرح کام کر رہی ہیں۔ ہمارے اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو کب یہ محنت کش بچے نظر آئیں گے ؟کب یہ اپنے میلوں سے نکل کر رات کے اس پہر آکر دیکھیں گے۔ پھر سوچیں اللہ کے سامنے کیا حساب دے پائیں گے ؟اپنے محلوں میں کب تک اپنے ضمیر کو سلائیں گے ؟اور یہ سڑک پر بھتہ خور یہ کہاں سے آگئے ان معصوموں کے دن بھر کی کمائی میں حصہ زبردستی لینے کے لیے ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ؟
جشن تو ہم منا رہے ہیں مگر مزدور آج بھی اپنے کندھے پر بوجھ ڈھو کر قوم کو محنت کا سبق پڑھا گئے۔




































