
نگہت پروین
فلسطینی اسیران (قیدیوں ) کی پھانسی کی سزا کا خود ساختہ قانون اسرائیلی پارلیمنٹ نے منظور کیا ۔حماس سے بار بار معاہدے
توڑنے کا جرم اسرائیل بار بار کر چکا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتا ہے اور اسے امریکہ سمیت کئی یورپی ممالک کی حمایت حاصل ہے ۔آج باطل قوتیں یکجا ہیں مگر حق بکھرا بکھرا یوں نظر آتا ہے کہ ہر مسلمان حکمرانون کو اپنا اقتدار بہت پیارا ہے اور وہ کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں۔
اے راہ رواں راہ وفا ہم تم سے بہت شرمندہ ہیں
تم جان پہ اپنی کھیل گئے اور ہم سے ہوئی تاخیر بہت
غزہ کے اسیران کو موت کے گھاٹ اتارنے کا خواب سچا کرنے کے لیے اسرائیل نے بل پاس کیا ۔کیسے اس بل کو ختم کر کے اسیران غزہ کو بچایا جا سکتا ہے ؟اس موقع پر انسانی حقوق کی تنظیمیں ،بین الاقوامی امن کمیٹیاں اور اقوام متحدہ نے یہ کہا ہے کہ یہ ایک غیر انسانی قدم ہے یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ،کچھ مسلم ممالک جس میں پاکستان ،ترکی ،مصر اور انڈونیشیا نے اس قانون کی سخت مذمت کی ہے۔
یہ چند نہیں بلکہ پورے 58 مسلم ممالک کی طرف سے مذمت ہونی چاہیے تھی اور سخت ترین اقدام کرنا چاہیے تھا ،اس بل کو روکنے کے لیے مگر دوسری طرف کچھ یورپی ممالک فرانس ،جرمنی اٹلی اور برطانیہ نے بھی اس بل کو غیر جمہوری اور تشویش ناک قرار دیا ہے ۔
اتنی مخالفت کے باوجود بھی اسرائیل ٹس سے مس نہیں ہو رہا ,یہ ایسا قانون پاس ہوا ہے جس میں قیدی اپنے اہل خانہ سے ملاقات بھی نہیں کر سکتے ،نہ رحم کی اپیل، نہ کوئی وکیل ،یہ تو ناانصافی کی حد ہے ۔اللہ کا قہر نازل ہو جس نے یہ بل بنا کر پاس کیا ،اس کا مطلب ہے انسانیت تڑپ تڑپ کر ختم ہو جائے مگر انسانیت کے نام پر دھبہ اسرائیل یوں ہی جمع رہے۔ یہ بل اسیران غزہ کو قانونی تحفظات سے محروم کر رہا ہے ۔آخر ان سب کوششوں کے باوجود یہ بل مسترد کیوں نہیں ہو رہا ؟
اب بھی نہ اٹھ سکا تو پھر تو نہ اٹھ سکے گا
احساس کا بھی یہ ہوگا ایمان کھو چکا ہے
آج وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ تمام مسلمان ممالک یکجا ہو جائیں ،اللہ کے اوپر بھروسہ کرتے ہوئے ڈٹ جائیں ،ایمانی طاقت ان شاءاللہ اس شیطانی طاقت کو مغلوب کر دے گی مگر اس کے لیے حق کو اکٹھا ہونا ہوگا، سیسہ پلائی دیوار کی طرح مضبوط ہونا پڑے گا۔



































