یاسمین اسلم
کتاب انسان کا بہترین دوست اور ساتھی ہے ۔ کچھ دہائیاں پیچھے چلے جائیں تو کتب بینی ایک بہترین شوق تھا جو لوگو میں پایا جاتا تھا ۔لوگ اپنے
فارغ اوقات میں رسالے ،ناول اور ڈائجسٹ پڑھا کرتے تھے ۔یہاں تک کہ بچوں کی رسالے بھی الگ آتے تھے اور بچے بڑے ذوق و شوق سے ان کو پڑھا کرتے۔
ان رسالوں میں آنے والی سلسلے وار کہانیاں لوگوں کا شوق اور زیادہ ابھارتیں اور بے چینی سے اگلے رسالے کا انتظار رہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ہر گھر میں باقاعدگی سے روزانہ اخبار آتاتھا ۔لوگ روزانہ تازہ خبریں سنتے اور پڑھتے اس کی وجہ سے ایک دوسرے سے تعلق اور ملاقات رہتی تھی ۔
رفتہ رفتہ یہ شوق ماند پڑتا گیا ۔۔۔۔۔۔خبریں ریڈیو اور ٹی وی پہ سنی جانے لگی۔ وقت تھوڑا سا مزید آگے بڑھا تو موبائل فون آگئے ،انٹرنیٹ کا سلسلہ چل نکلا رسالے میگزین اخبار سب قصہ پارینہ بن گئے۔
کتاب علم ودانش کا خزانہ ہوتی ہے یہ ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کے راستے دکھاتی ہے ۔کتاب کے ذریعے ہم نئی نئی باتیں سیکھتے اور اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں ۔کتاب ہمیں تاریخ، مذہب، ادب ،سائنس اخلاقیات کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے ۔اچھی کتابیں انسان کے کردار کو سنوارتی ہیں اور اس کی سوچ کا معیار بلند کرتی ہیں ۔کتابیں پڑھنے والے انسان دوسروں کی نسبت زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں اور کامیاب زندگی گزارتے ہیں ۔
کتاب تنہائی میں بہترین ساتھی ہوتی ہے ،جب آدمی اداس یا پریشان ہو تو کتاب اس کا دل بہلاتی ہے اور اسے زندگی گزارنے کی امید دلاتی ہے ۔
ہمیں بھی چاہیے کہ ہم روزانہ کچھ نہ کچھ مطالعہ ضرورکریں اور اچھی کتابوں کو اپنا ساتھی بنائیں ۔




































