
حانیہ فیصل
اس آرٹیکل کہ لکھنے کا مقصد صر ف اور صرف اپنے فرائض کو یادلانا ہے۔ اس کےموضوع سے صاف واضح ہے کہ ہم کس حوالے سے بات کریں
گے،اگر آج کے زمانے میں اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر دوڑائی جائے تو صرف یہ ہی سنائی دیتا ہے کہ اسرائیل نے غزہ پر حملہ کر دیا ۔امریکا نے اسرائیل کو فلاں ملک پر حملہ کرنے کے لیے اسلحہ فراہم کیا ،ہم آج جس دور میں ہیں، یہ فتنوں کا دور ہے ،ہمارے ارد گرد اتنے فتنے ہیں کہ ہم اگر فہرست بنائیں تو بھی ان کو گننے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے،میں جس فتنے کی بات کر رہی ہوں وہ ہے غیر مسلموں سے جنگ ہے ۔
غیر مسلموں سے جنگ ۔۔۔۔ جب کبھی ہم موبائل اٹھاتے ہیں تو ہمیں یہ سب کچھ نظر آ رہا ہوتا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہم میں سے کچھ لوگ یا تو ان موضوعات پر بات کرنا پسند نہیں کرتے ،اگر ہم اس پر بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہا ہوتا کہ ہم کیا کریں یہی ایک حقیقت ہے ۔ اس بات کو ہم جتنا جلدی ہو سکے جان لیں تو اچھا ہوگا کہ ایک غیر مسلم کبھی بھی مسلمان کا سچا دوست یا ہمدرد نہیں ہوتا ۔آج ہم سب مسلمان یہ سب کچھ پڑھتے ہیں ،سنتے ہیں تو ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ یہ کیوں ہو رہا ہے جہاں تک میری ناقص عقل سمجھتی ہے کہ یہ سب کچھ جو آج کل ہو رہا ہے صرف اور صرف مسلمانوں کی غفلت کے باعث ہے یہ بات تھوڑی کڑوی ہے لیکن ذرا سوچیں۔۔۔۔
دنیا میں کتنے ممالک ہیں اور ان میں کافی مسلم ممالک بھی ہیں مسلم ممالک آج جس بدحالی کا شکار ہیں وہ مسلمانوں کی نا اتفاقی ہے ۔ اس دنیا میں جتنے مسلم ممالک ہیں، اگر وہ اتحاد کر کے ان غیر مسلم ممالک کو ایک دھمکی بھی دیں گے تو بہت ہے جی ہاں میں نے ایک دھمکی ہی کہا ہے ۔۔۔۔
ہم اگر ارد گرد کے لوگوں کو اپنے پاس جتنا علم ہے اس کو بروقت پہنچائیں اور ان کو اس بات کا شعور دلائیں کہ آج مسلمان کن فتنوں کا شکار ہے ، آج مسلمانوں میں کتنی نااتفاقی ہے ، آج مسلمان کن سازشوں کا شکار ہیں ۔۔۔یقیناً وہ لوگ بہت جلد بیدار ہو جائیں گے ،آج کے مسلمان میں اتنا شعور ہے کہ وہ اچھائی اور برائی دونوں میں اچھے طریقے سے فرق کر سکتا ہے لیکن بس ہمیں ان تک صحیح بات پہنچانی ہے۔
اپنے حصے کا کام کرنا ہے، اگر اس طرح ہمارے ملک کے تمام لوگوں میں شعور آجائے گا تو وہ جان جائیں گے کہ آج کل یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور کس کی غفلت اور لاپروائی کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔ ہم پوری امت کو تو نہیں بیدار کر سکتے لیکن ہم اپنے ملک کے افراد تک کو تو صحیح فہم پہنچا سکتے ہیں ۔ جب ہم اس کار خیر کو انجام دیں گے تو ہمارے ملک کے حکمرانوں کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوگا جیسا بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے ساتھ تھا ، اگر ہم اپنی قوم کو یہ بات صحیح اور ان کے ذہنیت کے مطابق سمجھائیں گے تو یقیناً ہم ضرور کامیاب ہوں گے ۔
ہم مسلم ممالک میں اتفاق اس لیے نہیں کیونکہ ہمارے حکمرانوں میں آپس میں انتشار ہے ۔ ہمیں یہ جانna ہوگا کہ ہمارے حکمران کس ملک کے ساتھ ہیں کیا کر رہے ہیں۔ اس کے لیے موجودہ حالات سے واقفیت بہت ضروری ہے۔ اس دور میں اگر ہم یہ جان جائیں کہ کون غلط ہے اور کون صحیح تو ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔ آج کا مسلمان جس حال کا شکار ہے وہ صرف اور صرف مسلم ممالک کے حکمرانوں کی بے حسی ہے ۔ ان کی یہ بے حسی پوری مسلمان امت کو پورپور کر دینے کا سبب بن جاۓ گی ۔
سب سے پہلے انہوں نے فلسطین کو اپنا نشانہ بنایا اور وہ آج تک اس کے معصوم بچوں ، عفت دار عورتوں اور بہادر نوجوانوں کو اپنے ناپاک منصوبوں سے تباہ و برباد کر رہے ہیں ۔ پھر انہوں نے لبنان اور ایران جیسے ممالک کو بھی اپنا نشانہ بنایا ہوا ہے اور اب اگر ہم نے کچھ نہیں کیا تو یہ ہمیں اپنی گھناونی سازش کا شکار بنالیں گۓ ، اسماعیل ہنیہ ، یحیٰ السنوار ، انس الشریف اور آیت اللہ خامنہ ای جیسے لوگ ان کو ان سازشوں کا جواب دینے لگتے ہیں تو وہ انہیں بھی شہید کر دیتے ہیں، اگر مسلمان ممالک اس نااتفاقی کو ختم کریں اور اس خاموشی کو ختم کریں اور ان غیر مسلموں کو ان کی ان ناسود حرکتوں پر ایک بار بے باکی سے منھ توڑ جواب دے دیں تو یہ پاؤں میں آنے والی دھول کا ذرہ ہیں جو کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اگر مسلمان اتحاد کر لیں اوڑ اپنی بے حسی کو ختم کردیں تو یہ غیر مسلموں کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتے ہیں ۔
اپنی تحریر کو طویل نہیں کروں گی اور بس اختتامی بات کہتی ہوں کہ اب ہمیں جو کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں تک صحیح علم پہنچائیں، انہیں موجودہ حالات سے آگاہ کریں اور اپنے اندر کی صلاحیتوں کو پہچانے اور اپنے حصے کا کام کریں ۔ اس پرندے کی چونچ کا پانی بنیں جس نے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی آگ بجھانے کی کوشش کی ۔اس تحریر کو صرف پڑھیے گا مت بلکہ اس کو سمجھیے گا اس تحریر کے لکھنے کے مقصد اور نظریے کو سمجھیے گا ۔
اپنی تحریر کا اختتام اقبال کے شعر سے کروں گی ۔۔
پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کے گردِ راہ ہوں وہ کارواں تو ہے



































