
امبرین معیز
اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے ساتھ اس کائنات کو بنایا اور نہ صرف زندگی گزارنے کے لیے جسمانی ضرورتوں کے اسباب مہیا کیے بلکہ اس
کی روح کی ضرورتوں کا بھی انتظام کیا ۔زندگی کیسے گزارنی ہے کس طریقے پر چلنا ہے ،کامیابی و کامرانی کا راز کس چیز میں ہے ،یہ سب اپنے انبیاء کے ذریعے صحیفوں کی صورت میں اتار دیا ۔گویا انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کا رشتہ کتاب سے جڑ گیا ۔انبیاء کرام کو انسانوں کی ہدایت کے لیے مختلف کتابیں دے کر بھیجا ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کا عرب معاشرہ دیکھیں اور نبوت اور قران مجید کے نزول کے بعد معاشرہ دیکھیں۔
مفکر ہو تو اس کی فکر کے عنوان کو دیکھو
حرا کی خاموشی میں آمد قرآن کو دیکھو
قران مجید کی پہلی وحی سورہ العلق جس میں فرشتہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھنے کا کہہ رہا ہے اور یہ الکتاب انسانوں کے لیے اتار دی گئی -جب لوگوں نے اس کتاب کو پڑھا تو زندگی ہی بدل گئی ،گویا یہ کتاب درس انقلاب ہے جب تک مسلمانوں نے اس کتاب کو تھامے رکھا عروج کو دوام رہا-جب کتاب کے حاملین کی بے حسی اور بے پروائی نے کتاب کو چھوڑا تو دیگر اقوام کو بام عروج حاصل ہوا ۔کہاں مسلمانوں کے پاس بغداد کا کتب خانہ کہاں مسلمانوں کی علم طب و جراحت میں ترقی علم ریاضیات علم فنون لطیفہ کو دیکھ کر دیگر اقوام مرعوب ہوتی تھیں اور مسلمانوں کے علمی زوال کے بعد یہ اعزاز یورپ کو حاصل ہوا۔
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
اس نے ترقی کی وہ منازل طے کیں کہ آج تک مسلمان ان کی ایجادات ان کے نظام ان کی ترقی کے مرہون منت ہیں،یورپ کے ابھر نے کی وجہ وہ کتابیں ہیں جنہیں ہم نے گنوا دیا اور انہی کتابوں کے ذریعے مغرب کی ترقی کا سفر شروع ہوا تھا۔
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباءکی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
کتاب سے رشتہ توڑ کر آج تک مسلمان ذلت کا شکار ہیں، موجودہ نسل یہ سب دیکھ کر اس پستی سے نکلنا چاہتی ہے اور دوبارہ اس کتاب سے رشتہ استوار کر رہی ہے ،اچھی کتابیں نہ صرف انسان کے علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ عمل کے لیے تحریک دیتی ہیں۔ کتاب انسان کے ذہن وہ اخلاق کو سنوارتی ہیں۔ کتابوں کے ذریعے جاننے والا اور نہ جاننے والا کبھی برابر نہیں ہو سکتا ضرورت اس بات کی ہے کہ کتاب کے مطالعے کو ذندہ کیا جائے اپنے علم کو بڑھاتے ہوئے دیگر اقوام کی طرح ترقی کی جائے علم تو مومن کی میراث ہے ۔



































