
امبرین معیز
اللہ تعالیٰ نے جب اپنی مخلوق" اشرف المخلوقات " کو وجود میں لانےکا ارادہ کیا تو اس نے اس کی تخلیق کے ساتھ اس کے رہنے کے اسباب بھی پیدا
کیے ایک خوب صورت دنیا اور اس کی نعمتوں کو اس کے لیے مزین کیا کہ وہ تمام اسباب جو اس کو دنیا میں زندگی گزر بسر کرنے کے لیے چاہئیں تھے ان میں سب سے اہم اور بنیادی اسباب زمین و آسماں کو پیدا کرنا تھا ۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔۔۔
تمہارا پروردگار تو اللہ ہی ہے جس نے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنا یا (القرآن)
اس زمین کو انسان کے لیے مسکن بنانے کے ساتھ تا قیامت اس زمین کو جائے قرار بنایا، اس کے ساتھ اس کی خلاقی دیکھیے کہ کہیں چٹیل میدان، کہیں جنگلات کہیں، صحرا کہیں میدانی علاقہ ،کہیں برفانی علاقہ ،کہیں ایسے تا حد نگاہ اونچے پہاڑ لگتا ہے کہ آسماں کو چھو رہے ہیں اور کہیں دریا کہیں سمندر رواں کیے-زمین کے اوپر نہ صرف انسان کے رہنے کا انتظام بھی کیا بلکہ اس زمین کے اندر کی بے شمار نعمتیں اس نے علم کے ذریعے کھول دیں تاکہ انسان اس سے فائدہ حاصل کرے اور اپنے رب کا شکر گزار بنے۔
زمین کے اس علم کو علم ارضیات یا جیالوجی کہتے ہیں علم ارضیات کے ذریعے انسان نے زمین کے اندر بے شمار نعمتوں جیسے کوئلہ لوہا معدنیات سونا گیس پیٹرولیم سنگ مرمر یورینیم کو قابل استعمال بنا کر ترقی کی منازل طے کی ہیں ۔ یہ بلند و بالا پہاڑ یہ زمین کی چٹانیں خوبصورت وادیوں کے راز پر سے ماہرین ارضیات نے پردہ ہٹا کر دنیا میں وہ ترقی کی ہے جس کا انسان نے سوچا بھی نہ تھا -
معدنیات وہ قدرتی عناصر یا مرکبات جسمانی خواص اور ایٹمی ساخت رکھتے ہیں،یہ زمین کی گہرائیوں سے دریافت ہوتے ہیں ،مثلا کارڈز ڈائمنڈ یہ سب معدنیات ہیں چونا پتھر جب شدید گرمی میں دباؤ میں آتا ہے تو خوبصورت ماربل میں تبدیل ہو جاتا ہے جو عمارتوں اور فرش پر استعمال کیا جاتا ہے۔ چٹانوں میں دباؤ کی وجہ سے جو تبدیلیاں آتی ہیں جس کی وجہ سے بڑی مقدار میں معدنیات ملتی ہیں، جیسے سلیٹ کا استعمال بھی تعمیرات میں کیا جاتا ہے۔
زمین کے اندر معدنیات اور ذخائر کی ایک دنیا آباد ہے۔ زمین کی تہہ میں جانا ممکن نہیں ،ابھی بہت سا علم حاصل ہو جانے کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انسان نے اس کا پورا علم حاصل کر لیا ہے، زمین کی اندر کی نعمتوں کے ساتھ زمین کی اوپر کی سطح بھی اللہ نے انسان کے لیے رہنے کے ساتھ نباتات جنگلات سے اس زمین کو خوبصورتی بخشی ہے ۔ بے شمار لذیذ پھل، سبزیاں ،دالیں ،آٹا ،اناج گندم خشک میوجات سے روز مرہ کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔
زندگی کی بنیادی ضرورت پانی انسان اسی زمین سے حاصل کرتا ہے۔ موجودہ دور میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمینی نقصان سے بچانے کے لیے اس کا علم بھی عطا کر دیا ہے۔ جیسے اتش فشاں اور زلزلے سے پہلے ماہر ارضیات اس کا پتا لگا لیتے ہیں، ان فوائد کے ساتھ ساتھ انسان نے زمین کو نقصان پہنچایا ہے، جیسے جنگلات کی کٹائی ،آلودگی موسمیاتی تبدیلی اور اس کے ساتھ نیوکلیئر بموں کے ذریعے اس زمین کو آلودہ کر دیا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے کیا ہم اس زمین کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے؟
یہ سورج یہ ستاروں کا جہاں کوئی نہیں دے گا
یہ زمین کھوئی تو تم کو اماں کوئی نہیں دے گا ـ




































