
سعدیہ عارف
حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کے اس بیان نے توجہ حاصل کی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ لوگ خوش ہوں ،کراچی
پیرس جیسا ہے ۔۔ دیکھا جائے توکراچی کسی حد تک پیرس جیسا دکھائی دیتا ہے۔ بلاشبہ بلند و بالا عمارتیں، روشنیوں سے جگمگاتے علاقے اور وسیع سڑکیں ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں مگر حقیقت یہ نہیں جو چند علاقوں اور عمارتوں کو دیکھ کر نظر آئے بلکہ حقیقت وہ ہے جو شہر قائد میں رہنے والے روزانہ جھیل رہے ہیں ۔
اگر کوئی ان پوش علاقوں سے نکل کر عام بستیوں، گلیوں اور محلّوں کا رخ کرے تو ایک بالکل مختلف کہانی سامنے آتی ہے۔ یہاں کے باسی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے دن رات محنت کرنے کے باوجود کئی گھرانے پیٹ بھرکے کھانے سے بھی محروم ہیں۔ کہیں پانی کی قلت ہے، کہیں گیس کا بحران، کہیں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور کہیں روزگار کے مواقع ناپید ہیں۔ تعلیم کا نظام بھی بے ترتیبی کا شکار ہے، جس سے نوجوانوں کا مستقبل دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔یہ وہ کراچی ہے جو چمکتی روشنیوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے—وہ کراچی جو سسک رہا ہے، جو تھک چکا ہے مگر پھر بھی جینے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔
ہم اربابِ اختیار سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ صرف بلند عمارتوں کے نظارے تک محدود نہ رہیں بلکہ عوام کے درمیان آ کر ان کے مسائل کو قریب سے دیکھیں، محسوس کریں ، سمجھیں اور انہیں حل کریں ۔ جب تک زمینی حقائق کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، تب تک ترقی کے دعوے ادھورے ہی رہیں گے۔
یہ شہر بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے،اگر حکومتی سطح پر مؤثر منصوبہ بندی کی جائے، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور مضبوط قوانین نافذ کیے جائیں تو کوئی بعید نہیں کہ کراچی نہ صرف پیرس بن جائے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک مثالی شہر کے طور پر ابھرے۔
کراچی کے عوام کو صرف وعدوں کی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے—ایسے اقدامات جو ان کے دلوں میں امید کی شمع روشن کریں اور اس شہر کو حقیقی معنوں روشنیوں کا شہر بنا دیں۔




































