
سعدیہ عارف
آج کے جدید دور میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور وسائل کی کمی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے، جہاں ایک طرف حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مؤثر
اقدامات کرے، وہیں عوام کا شعور اور طرزِ زندگی بھی اس میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، توانائی کی بچت سے نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط ہوتی ہے بلکہ ہماری روزمرہ زندگی میں بھی برکت اور سکون پیدا کرتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ توانائی کے بچاؤ کے لیے جامع اور مؤثر پالیسیاں مرتب کرے۔ سب سے پہلے متبادل توانائی کے ذرائع جیسے شمسی (سولر) اور ہوائی توانائی کو فروغ دیا جائے تاکہ بجلی کی کمی پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرانی بجلی کی ترسیلی نظام کو بہتر بنا کر ضیاع کو کم کیا جائے۔ عوامی سطح پر آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ لوگ بجلی اور گیس کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں,مزید برآں، توانائی بچانے والے آلات) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے سبسڈی اور رعایتیں دی جائیں۔
دوسری جانب، ایک مثبت اور منظم طرزِ زندگی بھی توانائی کے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ صبح سویرے اٹھنے کی عادت نہ صرف صحت کے لیے مفید ہے بلکہ اس سے قدرتی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال ممکن ہوتا ہے جس سے بجلی کی بچت ہوتی ہے۔ اسلام میں بھی صبح کے وقت کو برکت والا قرار دیا گیا ہے اور یہ وقت انسان کو ذہنی سکون، تازگی اور کامیابی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات کو بند رکھیں، دن کی روشنی سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی روزمرہ زندگی میں سادگی کو اپنائیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات مجموعی طور پر بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
کہا جا سکتا ہے کہ توانائی کا بچاؤ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کا قومی فریضہ ہے۔ اگر ہم سب مل کر شعور اور عمل کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ ایک خوشحال، روشن اور پائیدار مستقبل کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔




































