
زہرا یاسمین/ کراچی
بچپن سے بینجمن فرینکلن کا یہ قول بہت سنا اور اس پوئم کو گایا ہے
رات کو جلدی سونا صبح جلدی اٹھنا انسان کو صحت مند، دولت مند اور عقلمند بناتا ہے۔
اس وقت ہمارے ہاں بہت سے گھروں میں رات دیر تک جاگنے اور صبح دیر تک سونے کا رواج عام ہے،صرف ملازمت پیشہ افراد اور طالب علم طبقے سے تعلق رکھنے والے اپنی حصول معاش اور حصول علم کی مصروفیت کی وجہ سے کام کے دنوںمیں صبح جلدی اٹھتے اور رات کو جلدی سوتے ہیں،البتہ یہ لوگ بھی چھٹی والے دوسروں کی طرح رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں جبکہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں اور طبی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو رات کو جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھنا انسانی صحت اور معمولات زندگی کے لیے بہترین عمل ہے لیکن افسوس ہم بحیثیت قوم اس پر عمل پیرا نہیں ہیں۔
قرآن کی روشنی میں وضاحت ۔
اب ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ رات کو اللہ تعالی ٰنے سونے کے لیے بنایا ہے اور دن کو جاگنے اور کام کرنے کے لیے۔ اس بات کی تصریح قرآن مجید میں بارہا ملتی ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔۔
وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تا کہ اس میں تم آرام کرو اور دن کو روشن بنایا (کہ اس میں کام کرو) بےشک خدا لوگوں پر فضل کرنے والا ہےلیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ (سورہ مؤمن)
تو اسی ( اللہ تبارک تعالیٰ) نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات بھی بنائی ہے اور دن بھی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور اس میں اللہ کا فضل تلاش کرواور تاکہ تم شکر ادا کرسکو۔ (القصص)
ہم نے تمہاری نیند کو تھکن دور کرنے کا ذریعہ بنایا اوررات کو پردے کا سبب ہم نے بنایااور دن کو ہم نے روزی حاصل کرنے کا وقت قرار دیا۔ (النبا)
اسی طرح احادیث مبارکہ کی روشنی میں بھی ہمیں دن میں جسم اور رات میں آرام کی تاکید ملتی ہے۔
احادیث مبارکہ سے مثالیں
اسی طرح حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : `میں صبح کے وقت سوئی تھی کہ نبی کریم ﷺ میرے پاس سے گزرے اور آپﷺ نے مجھے ہلایا ،پھر فرمایا: بیٹی! اٹھو! اپنے رب کی طرف سے رزق کی تقسیم میں شامل ہو جاؤ اور غفلت شعار لوگوں کی عادت اختیار نہ کرو، اللہ تعالیٰ طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک لوگوں کا رزق تقسیم کرتے ہیں ۔ ( بیہقی شعب الایمان)۔
ایک دوسری حدیث میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صبح کے وقت سوتے رہنے سے انسان رزق سے محروم ہو جاتا ہے۔ (مسند احمد) آج بہت سارے لوگ رزق کے حوالے سے پریشان نظر آتے ہیں، اگر وہ سحر خیزی کی عادت اختیار کرلیں تو یقیناً انہیں رزق میں برکت حاصل ہوگی ۔آپ ﷺ نے دعا فرمائی ہے کہ ’’اے اللہ ! میری امت کی صبح میں برکت عطافرما۔‘‘ (ابن ماجہ)۔
*طب اور تحقیق کے میدان سے رہنمائی
محققین نے اس بات کی تحقیق کی ہے کہ کم سونا یا زیادہ سونا موت کو وقت سے پہلے دعوت دینا ہے۔ اسی طرح رات کو دیر سے سونا اور صبح دیر سے اٹھنا بے شمار بیماریوں کا سبب بنتاہے۔ جدید سائنس کی تحقیق کی رو سے رات کو جلدی سونے سے جسم میں ہارمونز کی مناسب اور صحت مند رطوبت کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ یہ ذہنی خلفشار کو کم کرتے ہوئے علمی سوچ، توجہ اور یادداشت کو بھی بڑھاتا ہے۔اچھی، پوری اور کافی نیند دل کی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے اور اسے بہت سی منفی طبی حالتوں سے بچاتی ہے جلد سونا جسم کو سوزش کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد کرتا ہے اور جِلد اور رنگت کی تازگی اور صحت کو بڑھانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔
اب ہم حالات کے تناظر رات کو جلدی سونے صبح جلدی اٹھنے کو حالت حاضرہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس وقت ایران اسرائیل و امریکہ کی جنگی صورتحال سے تقریباً پوری دنیا کے ممالک کے حکمران اور عوام بے چینی، غیر یقینی حالات کے اندیشوں کے باعث پریشانی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔لیکن اس کے باوجود ہمارے ملک میں بجلی ،گیس، تیل پٹرولیم مصنوعات کی بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے دفاتر میں ایک دن کی اضافی چھٹی کردی گئی ہے وجہ توانائی بچانا بتائی جارہی ہےجبکہ حکومت کے اس اقدام کی بدولت ملک بھر ہفتے میں پورے ایک دن کام کی اضافی چھٹی سے دفاتر و تعلیمی اداروں میں کام کی کمی کی وجہ سے ملک کے معاشرتی، معاشی و اقتصادی مسائل میں اضافی اور ترقیاتی منصوبوں اور ترقیاتی کاموں میں مزید سستی و تاخیر ہوگی جس سے یقینا ایک الگ بحرانی کیفیت پیدا ہوگی۔
کرنے کا کام
موسم گرما کی آمد ہےجس میں دن بڑے اور روشن جبکہ راتیں چھوٹی ہوجاتی ہیں ایسے میں دن کی روشنی سے زیادہ سے فائدہ اٹھانے کے لیے اگر ملک بھر میں اسکول اور دفاتر کے اوقات کار بڑھادیے جائیں، مثلاً اسکول سات یا ساڑھے سات تا ایک بجے، اسی طرح مارکیٹس بازار دکانوں کے اوقات کار بھی صبح ساڑھے دس سے شام ساڑھے سات یا آٹھ بجے تک کردیے جائیں تو اس اقدام سے نہ صرف توانائی کی بچت ہوگی بلکہ اس اوقات کار سے فائدہ اٹھانے سےترقیاتی کام بھی تیزی سے ہو سکیں گےاور لوگوں کو سحر خیزی سے بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔
نماز فجر قضا نہ ہوگی، مارننگ واک صبح کے سیر کا موقع ملے گا ،جسم چاق و چوبند رہے گااور جسم میں وٹامن ڈی بھی بنے گا،سونے سے جسم میں ہارمونز کی مناسب اور صحت مند رطوبت کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ یہ ذہنی خلفشار کو کم کرتے ہوئے علمی سوچ، توجہ اور یادداشت کو بھی بڑھاتا ہے۔
اچھی اور بھرپور نیند دل کی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے اور اسے بہت سی منفی طبی حالتوں سے بچاتی ہے، جلد سونا جسم کو سوزش کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد کرتا ہے اور جِلد اور رنگت کی تازگی اور صحت کو بڑھانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔




































