
زہرا یاسمین/ کراچی
کل ڈاکٹر کے پاس اپنی بارہ کا انتظار کررہی تھی تو عابد کی حادثاتی موت کی دلدوز خبر سنی کہ ایک قابل اور ذہین نوعمر طالب
علم عابد ٹینکر کی ٹکر سےجان کی بازی ہار گیا ،خبر کیا تھی جسے سن کر د ل تڑپ اٹھا،موت تو آنی جانی ہے لیکن ایسے اچانک حادثاتی موت پر تو ہم جیسے انجان لوگوں کے دل تڑپ اٹھتے ہیں تو پھروالدین اورقریبی اعزا کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ ان کے دل گہرے صدمے سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ جب سے یہ دل اداس اور غمگین ہے، اس کمسن جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والے عابد کا چہرہ نگاہوں سے نہیں ہٹ رہا۔
ایک ماں کا لعل باپ کا ارمان، بہنوں کا مان ،بھائیوں کی جان ،خاندان بھر کا پیارا دربلا کا ذہین مؤدب اور قابل طالب علم عابد رئیس بدھ کی صبح اپنی آنکھوں میں اپنی ذہانت قابلیت و صلاحیت کے بل بوتے پر روشن مستقبل کے خواب سجائے حصول علم کے لیے درسگاہ کی جانب روانہ تھا کہ اچانک ایک بدمست لاپروا ٹینکر ڈرائیور کی ٹکر سے جان کی بازی ہار گیا۔
اہل کراچی کے لیے یہ کوئی انوکھی یا نئی بات نہیں ، یہ تو روزانہ کامعمول بن چکا ہے لیکن یہ کوئی عابد کے ماں یا باپ سے پوچھے جن کا جگر گوشہ بے رحمی سے اچانک موت کی گھاٹ اتار دیا گیا۔ والدین سمیت اس کے بہن بھائی،اسکول اساتذہ اور طالب علم ساتھیوں اور دوستوں سمیت پڑوسی و رشتے دار سب ہی غمگین ہیں۔
کہنے کو تو یہ ایک نوعمرو نوخیزجوان کی حادثاتی موت ہےلیکن اس حادثے سے ایک گھرانے کا چشم و چراغ جاں سے گزر گیا اس کا گھر سونا ہوگیا اور اہل خانہ دکھی دل غم سے چھلنی جگر کے ساتھ اس کی یادوں میں دن کاٹنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ عابدکی حادثاتی موت سے معاشرہ ایک ذہین اور قابل فرد سے محروم ہوگیا۔
آخر ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟ ابھی چند دن قبل ہی ننھا ابراہیم کھلے گٹر میں ڈوب کر جان کی بازی ہار گیا تھا، ابھی اس کی موت کا دکھ کم نہ ہوا تھا کہ اب یہ حادثہ دل کو مزید غمزدہ کرگیا۔ یا الہٰی یہ کیا ہورہا ہے ؟ آئے دن چوری وڈکیتی وارداتوں اور حادثات کے باعث ہلاکتوں سے ویسے ہی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہورہی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں ۔ غمزدہ دل اور نم آنکھوں سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انسانی جانوں کی حفاظت فرمائے۔ آمین ۔ موت برحق ہے لیکن یوں اچانک پے درپے حادثات میں آئے دن لوگوں کا لقمہء اجل بن جانا مقتدر قوتوں کی بے حسی اور نااہلی کا شاخسانہ ہے۔ یہ کرپٹ فرسودہ لا قانونیت کا نظام بدلنے کا وقت ہے عوام کو اپنی حفاظت اپنی مدد آپ کرنے کے لیے نظام کی تبدیلی میں حصہ ڈالنا ہوگا، بہت ہوگیا اب خاموش رہنے کا نہیں بلکہ حق کے لیے بہتر تبدیلی کے لیے آواز اٹھانی ہوگی۔
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے





































