
زہرایاسمین /کراچی
جب بھی پرائیوٹ اسکولوں کے اساتذہ کے مسائل کے حوالے بات کی جاتی ہے تو بس یہی کہ تنخواہ کم ہے ،کام زیادہ یہ مسئلہ تو
عموماً تمام نجی تعلیمی اداروں میں موجود ہے لیکن بہت سے معروف نجی تعلیمی اداروں کے سسٹم جہاں پر کیمپسزکے نام پر ان اداروں کی چین چل رہی ہے، وہاں ایریا کی مناسبت سے فیسیں کم یا زیادہ ہوتی ہیں۔ بچے اور ان کے والدین صارف یعنی خریدار ( کنزیومر ) ہیں۔ تعلیم ایک تجارت بن چکی ہے۔ اس عمل میں علم ،علمیت ،قابلیت و صلاحیت ،شخصیت سازی، تربیت کا عمل پس پشت رہ جاتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل صدی ہے، اے آئی کا دور ہے، بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں سے اس طرح فائدہ نہیں اٹھایا جاتا، اس طرح کام نہیں لیا جاتا جس کی کی معاشرے میں ضرورت ہے۔
جب بھی پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کے مسائل کے حوالے بات کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ بس تنخواہ کم ہےکام زیادہ۔ یہ مسئلہ تو عموماً تمام نجی تعلیمی اداروں میں موجود ہے لیکن تعلیم ایک تجارت بن چکی ہے اس عمل میں علم علمیت قابلیت و صلاحیت شخصیت سازی تربیت کا عمل پس پشت رہ جاتا ہے، یہ ڈیجیٹل صدی ہے اے آئی کا دور ہے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں سے اس طرح فائدہ نہیں اٹھایا جاتا ،اس طرح کام نہیں لیا جاتا جس کی کی معاشرے میں ضرورت ہے۔ یہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے جو نجی تعلیمی اداروں میں درپیش ہے، ان اداروں میں میں استاد ایک کٹھ پتلی یا غلام سمجھا جاتا ہے جو مینجمنٹ یعنی انتظامیہ جی حضوری( غلامی اوراندھی تقلید) کرکے ترقی حاصل کرتا ہےلیکن مخلص و محنتی اساتذہ کے ساتھ انتظامیہ کا رویہ عموما ًمناسب نہیں ہوتا اکثر نجی تعلیمی اداروں میں بہت سے نامور پرائیویٹ اسکولوں میں نام نہاد بین الاقوامی معیار کے اور اسلامی سوچ کے حامل ادارے بھی شامل ہیں، جن کی انتظامیہ اساتذہ کو مسلسل دباؤ میں رکھتی ہے۔ ہر سبق کے لیے بار بار منصوبہ بندی کروانا اور نرم بورڈ مواد بنانا۔ صبح کے وقت اسکول شروع ہونے سے قبل پھر بریک یعنی وقفے میں اور آف ٹائم یعنی چھٹی میں ڈیوٹی کے ذمہ دار اساتذہ ہفتے میں دو بار آدھے سے پون گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی کرتے ہیں، جس کا کوئی الگ معاوضہ نہیں ہوتا، استاد کے حوالے سے معمولی شکایت پر بلا تحقیق استاد کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔تفتیش کے بجائے اساتذہ کی سرزنش کی جاتی ہے ۔ بچوں کے شکایت پر والدین معمولی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جس پر ٹیچر کو پرنسپل کی طرف سے تلخ سوالات اور سخت الفاظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب کہ آخر میں ثابت ہوتا ہے کہ اس میں استاد کی غلطی نہیں تھی، قصور تومذکورہ بچے کا ہی تھا پھر یہ بات ثابت ہونے کے بعد کوئی معذرت، کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اساتذہ نوکری چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور عزت نفس کی خاطر کم تنخواہ میں کسی دوسرے کم معیار کے ادارے میں کم تنخواہ پر یا پھر گھر سے انتہائی زیادہ فاصلے پر کسی ادارے پر کام کرنے لگتے ہیں۔ اساتذہ اکثر ایسے مسائل کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔
ایک دور تھا کہ جب استاد معمار قوم اور بادشاہ گر سمجھا جاتا تھا، باشاہ اپنے شہزادوں کو استاد سے تعلیم سکھانے بھیجتے تو ان کی مدد اور خدمت کی تاکید بھی کیا کرتے تھے۔ وہ بچے کبھی استاد کی شان میں گستاخی نہیں کرتے تھےبلکہ ان کی تعظیم کرتے تھے۔ آج وہ دور ہے کہ والدین بچوں کی معمولی شکایت سن کر اس کی حقیقت جانے بنا اس کی تہہ میں جائے بغیر چراغ پا ہوکر بچے کے سامنے ہی استاد کو برا بھلا کہتے ہیں اور انتظامیہ و پرنسپل سے شکایت کرتے ہیں کیونکہ وہ صارف ہیں تعلیم خرید رہے ہیں اولاد کے لیے ۔اس سوچ نے تعلیم کو تجارت بنا نے ،تعلیم اور تعلیمی نظام کا شیرازہ بکھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔
" ہم یہ سمجھتے تھے کہ لائے گی ،فراغت تعلیم کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ"۔





































