
زہرا یاسمین
" خودی اقبال کے نزدیک خود شناسی سے خدا شناسی تک کا سفر اور مشن سے وابستگی کی ترغیب و تحریک ہے۔
خودی کیا ہے؟
اس کے اسرار و رموز سمجھنے کی ضرورت ہے۔
خودی
ذات کا عرفان ہے، حب الہٰی کا عہدو پیمان ہے۔ اطاعت خداوندی اس کی جان ہے،یہ غیرت ایمانی اسکی آن ہے۔ خودی مقصد حیات ہے، فلسفہ ء کائنات ہے،خودی دل میں احساس اور شعور و آگہی کے دیپ جلانے کی اک چنگاری ہے۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
اس لیےخودی کو برقرار رکھنے اسے زندہ رکھنے کے لیے اس کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے ،یہ بہت اہم ہے۔ ہر ذی شعور فرد العلم کےعرفان کے ذریعے آگہی و شعور کے سمندر سے حکمت کے موتی چن کر فرد اپنی خودی کی تربیت خود ہی کرسکتا۔
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ادھر پھیر
خودی کی تربیت کے تین اہم مراحل ہیں ؟
نمبر -1 اطاعت الہٰی :۔ اقبال کے نزدیک خودی کا پہلا درجہ اطاعت ہے یعنی کہ اللہ کے قانون ِ حیات کی پابندی کرنا، یعنی اللہ کو ماننے کے ساتھ اس کی ہر بات ماننا۔خودی کا سر نہاں لا الہ الااللہ
نمبر -2 ضبط نفس :۔ دوسرا درجہ ضبط نفس ہے انسان نفس کو جس کی سرکشی کی کوئی حد نہیں قابو میں لائے، نفس کی پاکیزگی کے لیے یہ بہت ضروری اور اہم ہے۔
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے
نمبر -3 نیابت الہٰی:۔ مقصد حیات پر گامزن رہنے کے لیے انسان کو پہلے ان دونوں مدار ج سے گزرنا ہوتا ہے، اس کےبعدخلیفۃاللہ فی الارض کی حیثیت سے مشن کی تکمیل کے لیے انسان کو وہ کمک ملتی ہے جو اسے انسانیت کا اوج کمال عطا کرسکتی ہے۔ یہ نیابت الہٰی کا درجہ ارتقائے خودی کا بلند ترین نصب العین ہے۔
یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام بادشاہی
تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی نہ رہی تو رو سیاہی
میری جانب سے آپ سب کے لیے علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کا مختصر پیام یا تذکیر ہے۔ اللہ رب العالمین سے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی خودی کو زندہ رکھتے ہوئے اس کی تربیت کے ذریعے دنیا و آخرت کی فلاح کے حصول کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین ۔





































