
زہرا یاسمین / کراچی
اہل فلسطین کی گھروں کو واپسی قیدیوں کی رہائی کے مناظر دیکھتے ہوئے ذہن کے نہاں خانوں میں اہل فلسطین کی مزاحمت کی طویل جدوجہد آگ اور خون،
بارود تباہی بربادی بربریت وحشیانہ جارحیت قیدو بند بھوک پیاس قحط سالی اپنوں کی جدائی املاک سے محرومی بنیادی انسانی ضروریات کی قلت کے مناظر سامنے آنے لگے۔ لیکن اس تمام صورتحال کے باوجود ان کے مطمئن شاد و آباد چہرے دیکھ کر میرے دل سے وہ صدا نکلی جو ہمارے بڑے بوڑھے کسی بہادری کے کام پر لگایا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔ کیاچیز ہے تو تجھے ذرا ڈر نہیں لگا؟ پنجابی میں کہتے تھے اوئے کون لوگ ہو تسی یا کمال کردتتا یا او چنگا کیتا؟ پشتو میں او یارا تم تو بڑاکمال آدمی اے وئی وئی ۔ سندھی میں شاوا جمالو ہو جمالو بھلے بھلے شاباس۔ وغیرہ۔
کسی کے خیر سے گھر لوٹ آنے پر ہم پاکستان میں خوش آمدید ویل کم، بھلی کرے آیا، جی آیاں نو۔ پخیر راغلے، وش مللے کہتے ہیں۔ لیکن آج ہم اپنے فلسطینی عرب بھائیوں کو ہم اھلا و سہلا مرحبا مرحبا مرحبا کہتے ہیں کہ جنہوں اس دور میں اپنی ہمت، جرات استقامت سے باطل کا مقابلہ ایسے کیا کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ کروادی۔ انکی گھروں کو واپسی مبارک انکو ہزار ہا سلام اور انکے لیے بے شمار دعائیں ہیں، اب یہ ایک اور کٹھن مرحلے میں داخل ہورہے ہیں نئے سرے سے آباد کاری آشیانے بنانا،اجڑے گھر بسانا، تلاش معاش،بنیادی ضروریات کے حصول کی کوشش انہیں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے یہ بھی ایک انتہائی کٹھن مرحلہ ہے۔ لیکن مجھےخدائے بزرگ و برتر اللہ رب العالمین سے ہوتی امید ہے کہ آہنی اعصاب کے حامل بہادر و جری اہل فلسطین اس کڑے امتحان میں بھی اللہ تعالیٰ کی مدد اور رحمت سے یقینا پورے اتریں گے۔ قید صحافیوں کی رہائی کا وہ جس میں رہا ہونے والے لاغروکمزور جسم کے حامل صحافی اپنی توانا مسکان اور غازیانہ چال کے ساتھ جب اپنوں سے مل رہے تھے تو دل نے بے اختیار کہا اقبال نے ان ہی کے لیے یہ شعر کہا ہوگا۔
وہی جواں ہے قبيلے کي آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ ، ضرب ہے کاری۔
اگر ہو جنگ تو شيران غاب سے بڑھ کر
اگر ہو صلح تو رعنا غزال تاتاری





































