
زہرا یاسمین/کراچی
عموماً یہ بات کہی جاتی ہے کہ پیسہ بولتا ہے، پیسہ پھینک تماشا دیکھ ۔ پیسے کی ہے ،دنیا
سب سے بڑا روپیہ یعنی پیسہ۔۔۔۔معاشرے کا چلن بھی کچھ یوں ہی رہا ہے کہ جس کے پاس پیسہ ہے، سب اس کی عزت کرتے ہیں ،ان کو اپنے قریب رکھتے ہیں۔ خاندانوں میں بھی زیادہ پیسے والے رشتے داروں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ سگا بھائی یا بہن اگر کم پیسوں والا ہے تو اس کی مدد تو کر دی جاتی ہے لیکن اس پرزیادہ پیسے والے بہن اور بھائی کو فوقیت دی جاتی ہے۔ رویوں میں بھی فرق صاف محسوس ہوجاتا ہے۔
یوں تو ماں باپ کو تمام بچے پیارے ہوتے ہیں لیکن کماؤ پوت بیٹے اور بیٹی کی گھر میں بہت اہمیت ہوتی ہے لیکن ہمارے ملک کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے،اس ملک کا کماؤ پوت ملک کو زیادہ پیسے دینے والا شہر کراچی ملک کےکرتادھرتاؤں کی نظر میں کوئی مقام نہیں رکھتا ا،س شہر کے لیے فنڈز کا اعلان ہوتا ہے لیکن ترقیاتی کام نہیں ہوتے ۔بہت سے منصوبے اور پروجیکٹ سالوں سے شروع ہیں مگر نامکمل ہیں۔ اربوں فنڈ ہونے کے باوجود فنڈ کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے۔ سڑکیں آثار قدیمہ اور موہن جو دڑو کا نمونہ ہیں،آئے دن حادثات ڈمپرز کی ٹکر سے ،گٹر میں گرنے سے اموات ہوتی ہیں جگہ جگہ شاپنگ مالز میں آگ لگتی ہے ملینیم مال میں آگ لگی،گلستان جوہر کے ایک پلازہ میں آگ لگی، جانی و مالی نقصان ہوا۔چوری ڈکیتی کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں، ان میں بھی لوگوں کی جان و مال کا نقصان ہوتا ہے۔
حالیہ دنوں میں گل پلازہ شاپنگ مال میں لگی آگ کو فوج کی مدد سے بمشکل دو سے تین میں بجھایا گیا، اس حادثے میں کروڑوں کے مال کے ساتھ سو کے قیب قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں ، معیشت کو دھچکا لگالیکن اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل نہ مچی بلکہ ایسے مشکل وقت میں ملک کے دوسرے حصے میں حکومتی ایوانوں کے ذمہ دار افراد کے گھرانےمیں شادی کے شادیانے بجتے رہے اربوں لٹائے گئے۔
گل پلازہ حادثے سے شہر اور صوبے کے ذمہ دار بھی لاتعلق سے نظر آئے، محض خانہ پری کے لیے حاضری لگائی بلکہ اس سنگین حادثے کی ذمے داری پر الزام ایسے لوگوں پر لگائی کہ عقل دنگ رہ گئی۔ مسلسل اٹھارہ سال سے شہر پر حکومت کرنے والے اس حادثے کاملبہ ستتر، ساٹھ ،پچپن اور چالیس سال قبل والے ذمہ داران پر ڈال کر بری الزمہ ہوگئے۔
اس صورتحال میں ملک کا میگا سٹی کہلانے والا ،سب سے زیادہ کماؤ پوت شہر کراچی لاوارث لگتا ہے۔ کیا کراچی شہر کا باسی اسی طرح لٹتا پڑتا اور مرتا رہے گا؟ کیا شہر کی سڑکیں اسی طرح شکستہ حال رہیں گی؟ کراچی کی عمارتیں، بازار تجارتی و صنعتی مراکز اسی طرح غیر محفوظ رہیں گے؟ نجانے شہر کراچی پر یہ ظلم کب ختم ہوگا جو شہر کل تک روشنیوں کا شہر تھا، آج اندھیروں میں ڈوب رہا ہے۔ کوئی تو اس لاوارث شہر کا وارث بن کے اٹھے۔ اسے اس کا حق دے عزت ،محبت اور ترقی کے ساتھ پھلنے پھولنے دے، سکون سے اسے جینے دے۔





































